’مانچسٹر آف دی ایسٹ‘: اقتصادی ترقی کا گڑھ سمجھا جانے والا انڈین شہر کانپور بدحالی کا شکار کیسے ہوا؟

کانپور کی لال املی کپڑوں کی مل
،تصویر کا کیپشنکانپور کی لال املی کپڑوں کی مل
    • مصنف, سیما چشتی
    • عہدہ, سینیئر صحافی، نئی دہلی

رام پرکاش کبھی انڈیا کے شہر کانپور میں ’جے کے جوٹ‘ مل میں ملازم تھے۔ وہ ملازمین کی یونین کے رہنما بھی تھے اور اسی لیے اس شہر یعنی کانپور کے لیے اُن کا جوش و خروش آج بھی نظر آتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارا شہر کبھی منظم مزدوروں کا شہر تھا۔ کبھی یہ یوپی (انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش) کی صنعتوں اور کاروباروں کی دل کی دھڑکن تھا اور اسے مشرق کا مانچسٹر بھی کہا جاتا تھا۔‘

رام پرکاش کو شہر کی اقتصادی ترقی کے رُک جانے کا بہت افسوس ہے۔

یہ شہر کبھی ملوں کے سائرن، مشینوں کی گھن گرج اور سڑک پر مِل مزدوروں کی چلتی سائیکل کی گھنٹیوں سے گونجتا تھا، لیکن اب سب تھم سا گیا ہے۔

مل مالکان جدید تکنیک کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر رہے اور مل مزدوروں کی اجرت ادا کیے بغیر دوسری صنعتوں کی جانب راغب ہوئے۔ رام پرکاش کے مطابق اس صورتحال کی وجہ سے مزدوروں کی حالت خستہ ہو گئی اور وہ چٹ فنڈ گھپلہ کرنے والوں کے چنگل میں پھنس گئے اور اُن کے جھوٹے وعدوں کا شکار ہو گئے۔

انھیں کہیں سے امید کی کرن نظر نہیں آتی تھی۔ دیکھتے دیکھتے لال املی، ایلگین مل، موئیر مل، ٹیکسٹائل کارپوریشن یونٹ کی ٹیکسٹائل گلی میں خاموشی چھا گئی۔

کانپور کی ان ملوں کی دیواروں پر بنی گرافٹی کے چمکدار رنگ ان دیواروں کے پیچھے موجود کھنڈرات کو نہیں چھپا پاتے۔

بند کارخانے

،تصویر کا ذریعہSEEMA CHISHTI

مزدور تحریک کا نتیجہ

کانپور کے سینٹر فار دی سٹڈی آف سوسائٹی اینڈ پولیٹکس کے پروفیسر اے کے ورما طویل عرصے سے ریاست کی سیاسی اتھل پتھل پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس شہر کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ اس کے پیچھے مزدور کارکنوں کی رائے سے اتفاق نہیں کرتے۔

وہ ریاست کے اس زوال کی وجہ بہت حد تک بائیں بازو کی مزدور یونینوں، مل کی بندش اور دیگر ’خود غرض وجوہات‘ بتاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’صنعت کے دوسرے مراکز تیزی سے ترقی کر رہے تھے۔ کانپور اور یوپی پیچھے رہ گئے تھے۔ مقامی نوکر شاہی کی بھی خامیاں رہیں۔ کانپور ہمیشہ لکھنؤ کے سائے میں رہا ہے۔‘

ورما کا کہنا ہے کہ سنہ 1989 کے بعد سیاست کا ڈھانچہ بدل گیا اور نئی سماجی شناخت پر مبنی سیاست واضح طور پر سامنے آئی۔

اس نئے ’سیاسی کلچر‘ نے کانپور کو ایک صنعتی مرکز اور ترقی کے انجن کے طور پر پروان نہیں چڑھایا اور یہاں واقع دیگر اداروں کی حیثیت جوں کی توں رہی۔

کانپور یونیورسٹی میں شعبہ ابلاغ عامہ اور صحافت کے سربراہ ڈاکٹر جیتیندر ڈبرال پروفیسر ورما کے دلائل سے متفق نہیں۔

ڈبرال کہتے ہیں کہ ’ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ کانپور کے محنت کش طبقے کی تحریکوں نے کچھ حاصل نہیں کیا؟ سنہ 1857 کی جنگ کو ناکام کہا جاتا ہے لیکن کیا واقعی ایسا ہی تھا؟ ہم بہت بعد میں بتا سکتے ہیں کہ اس شہر نے کس قدر اہم تحریک کا دور دیکھا جس نے بعد میں بہت زیادہ ترقی یافتہ ترقی میں حصہ لیا۔‘

یہ بھی پڑھیے

جیسا کہ مؤرخ رودرانگشو مکھرجی نے کانپور میں سنہ 1857 کے قتل عام پر مبنی اپنی کتاب ’سپیکٹر آف وائلنس‘ میں وضاحت کی کہ ’کرنل جیمز نیل کی طرف سے شہر اور اس کے اطراف میں سخت پابندیوں کی وجہ سے ہی تیس سال بعد اس کے بیٹے میجر اے ایچ ایس نیل کے قتل کی ترغیب ملی ہو گی۔ کانپور کی ایک خونی تاریخ رہی ہے، جس میں برطانوی فوجیوں نے ستی چورا اور بی بی گھاٹ میں قتل عام کیا اور اس کے نتیجے میں ہندوستانی انقلابیوں نے اس شہر کو انگریزوں کے لیے چیمبر آف ہارر میں تبدیل کر دیا۔‘

کانپور میں 1857 کی جنگ کا ایک منظر

،تصویر کا ذریعہUNIVERSALIMAGESGROUP

،تصویر کا کیپشنکانپور میں 1857 کی جنگ کا ایک منظر

بعد میں آزادی کے عظیم متوالے اور صحافی گنیش شنکر ودیارتھی سنہ 1931 میں کانپور میں بھڑکنے والے فرقہ وارانہ فسادات کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے حملہ آوروں کا نشانہ بنے۔

حملہ آوروں نے انھیں مار ڈالا کیونکہ وہ فسادیوں کے خلاف بے گناہوں کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

بھگت سنگھ کی پھانسی کے دو دن بعد 40 سال کی عمر میں گنیش شنکر ودیارتھی کے قتل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد کانگریس کی کراچی کی قرارداد میں ہندوستانیوں کے لیے سماجی اور معاشی حقوق کا مطالبہ کرنے والے مطالبے میں تیزی آئی ہے۔

اس نے ہی ہندوستانی آئین میں بنیادی حقوق اور اس کی منظوری کی بنیاد رکھی۔ ودیارتھی ہندوستانی عوام کے سماجی و اقتصادی حقوق کے لیے تحریک چلا رہے تھے۔ انھوں نے شہر میں ٹیکسٹائل مل مزدوروں کی پہلی ہڑتال کی قیادت کی تھی۔

ویسے کانپور میں آج بھی کچھ دیگر صنعتیں زندہ ہیں۔ کانپور اپنی چمڑے کی صنعت کے لیے بھی مشہور رہا ہے۔ کانپور کسی زمانے میں برآمدی معیار کے جوتوں، بیلٹ، بیگز اور جیکٹس کے لیے جانا جاتا تھا۔

مذبح خانوں کی بندش کی وجہ سے ریاست کی سڑکوں پر گھومتے آوارہ جانور اس بار انتخابات میں ایک اہم مسئلہ ہیں۔ حکومتی کارروائی کے خوف سے مذبح کے کارکن نہ تو اس پر بات کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی اپنی فیکٹریوں کی حالت بتانا چاہتے ہیں۔

آلودگی کو دور کرنے کے نام پر چمڑے کے کارخانے مہینے میں دو ہفتے بند کر دیے جاتے ہیں کیونکہ ان کا فضلہ دریائے گنگا میں گرتا ہے۔ ہر ماہ دو ہفتے بند رہنے کی وجہ سے یہ صنعت بہت محدود ہو گئی ہے۔ کاروباری لوگ نرم لہجے میں کہتے ہیں کہ پانی صاف کرنے کے پلانٹ فعال طور پر لگانے کے بجائے انھیں آلودگی کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے اور وہ اس کی بھاری قیمت بھی چکا رہے ہیں۔

زین

،تصویر کا ذریعہSEEMA CHISHTI

،تصویر کا کیپشنگھوڑے پر سواری کرنے کے لیے بنائی جانے والی زین

کانپور کی تشبیہ

کانپور کے وکاس کمار بنگلور میں قائم عظیم پریم جی یونیورسٹی میں ماہر اقتصادیات ہیں۔ وکاس نے کانپور شہر کے مسئلہ پر اور اس کے معاشی ڈھانچے کیوں گرے، اس پر گہرا مطالعہ کیا ہے اور مضامین لکھے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی دیکھنے کی کوشش کی ہے کہ ان کی ریاست میں کیا کچھ ہوا۔

وہ کہتے ہیں کہ دوسری ترقی یافتہ ریاستوں کے برعکس اترپردیش میں چیف منسٹرز کو تیزی سے تبدیل کیا جاتا یا ہٹایا جاتا رہا ہے۔ ریاست کو کامراج یا ایم جی آر یا نمبودیری پاد یا کروناندھی جیسے لیڈر نہیں مل سکے جو ریاست کو خود ترقی کی راہ پر گامزن کرتے۔

وکاس کا ماننا ہے کہ زمین کی غیر مساوی تقسیم، زرعی شعبے کو نظر انداز کرنے اور نچلی ذاتوں کو فعال کرنے میں تاخیر اور سماج میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی کی وجہ سے ریاست انسانی ترقی کے اشاریہ پر اوپر نہیں جا سکی۔

اس کے علاوہ وہ بدعنوانی، امن و امان کی خراب صورتحال اور عوامی بنیادی ڈھانچے کی خرابی کو بھی ریاست کی پسماندگی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ ریاست کی صنعت کسی بندرگاہ سے متصل نہیں ہے نیز سیاسی غیر یقینی صورتحال نے نہ صرف کانپور جیسے پرانے شہر بلکہ آخرکار ریاست کو بھی تباہ کر دیا۔

دیگر ریاستوں کے مقابلے اتر پردیش میں فی کس گھریلو پیداوار بہت کم ہے اور کثیر جہتی غربت پر نیتی آیوگ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ریاست کی حالت بہت خراب ہے۔ ریاست میں عدم مساوات بھی زیادہ ہے، کیونکہ 54% آبادی یا تو غریب ہے یا غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے

پچھلے پانچ برسوں میں نوجوانوں میں بے روزگاری میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ انسانی وسائل کی وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2017 کے بعد سے یوپی کی کل کام کرنے کی عمر کی آبادی میں دو کروڑ سے زیادہ نوجوانوں کا اضافہ ہوا ہے جبکہ ملازمت کرنے والے لوگوں کی تعداد میں 16 لاکھ کی کمی واقع ہوئی ہے۔

کانپور

،تصویر کا ذریعہBRUNO PEROUSSE

ماہر معاشیات پروفیسر سنتوش مہروترا برسوں سے ریاست پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور انھوں نے جنوری میں قومی روزناموں میں شائع ہونے والے اشتہارات میں کیے جانے والے سرکاری دعووں کا بھی جائزہ لیا ہے۔

مہروترا کا دعویٰ ہے کہ یوپی دیگر BIMARU یعنی پسماندہ ریاستوں کے مقابلے بہت پیچھے ہے۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ 'انسانی ترقی کی کبھی کوئی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی اور پچھلے 30 برسوں سے گورننس خراب رہی ہے۔ اس دوران نہ تو صنعت کاری پر زور دیا گیا اور نہ ہی زرعی شعبے کی مدد کی گئی جو کہ ریاست کی آدھی معیشت ہے۔‘

تاہم مہروترا کا یہ بھی کہنا ہے کہ پچھلے پانچ سال سب سے زیادہ مایوس کن تھے۔

مزید پڑھیے

انھوں نے کہا: 'نوٹ بندی نے قومی سطح پر غیر منظم معیشت کو تباہ کر دیا۔ یہ یوپی کی معیشت کا ایک بہت بڑا حصہ ہے، جس کی وجہ سے یوپی کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ یوپی کی پچھلی اکھلیش یادو حکومت کے دوران یعنی 2012 سے 2017 کے درمیان ریاست کی معیشت میں 6.92 فیصد کی سالانہ شرح سے اضافہ ہوا، جبکہ موجودہ حکومت کے تحت شرح نمو 4.88 فیصد رہی اور اس میں کووڈ بحران کی وجہ سے سنہ 2020-21 کے اعداد و شمار شامل نہیں ہیں۔

مہروترا کہتے ہیں: ’اس کا مطلب ہے کہ موجودہ حکومت کا ترقی کا ریکارڈ گذشتہ تین دہائیوں میں سب سے خراب ہے۔

یوپی کی روایتی کاریگری یا ہنرمندی کی اپنی منفرد تاریخ ہے، رامپوری چاقو سے لے کر علی گڑھی کے تالے تک، ہر ضلع کا ایک خاص پیشہ رہا ہے۔

مہروترا کے مطابق یہ سب تباہ ہو چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’MSMEs (مائکرو، سمال اور میڈیم انٹرپرائزز) کے طور پر، دستکاری سے متعلق چھوٹے کاروبار تھے، وہ سبھی نوٹ بندی، جی ایس ٹی، لاک ڈاؤن اور کووڈ کی افراتفری کی وجہ سے تباہ ہو گئے۔‘

یہ یقینی ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے ریاست میں ’ایک ضلع ایک پروڈکٹ‘ کی مہم شروع کی ہے، جس کے تحت چھوٹی صنعتوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

کانپور

،تصویر کا ذریعہTHE INDIA TODAY GROUP

یوپی کی معیشت اور مستقبل میں بہتری

وکاس کمار کانپور کے ساتھ اپنے تجربے کے بارے میں کہتے ہیں: ’جب میں پہلی بار یہاں آیا تھا، اس شہر میں بہت زیادہ صلاحیتیں تھیں لیکن ڈیڑھ دہائی یعنی لبرلائزیشن کے بعد، اگر اس کا موازنہ کیا جائے تو یہاں کی صورتحال کچھ حد تک بدتر ہو گئی ہے۔ کانپور کو ترقی دینے کی کوششیں کی گئی۔ شہر کو ریلوے ٹاؤن بنا دیا گیا لیکن کوئی خاص پیش رفت نہ ہو سکی، اب یہ ایک بہت بڑا دھول سے بھرا کنکریٹ کا جنگل ہے، شہر میں جو بھی چھوٹی موٹی کمیونٹی کی روح تھی وہ ختم ہو گئی تھی۔ قابل نوجوان اپنی بھلائی کے لیے نوعمری میں ہی شہر چھوڑ دیتے ہیں، جس کی وجہ سے مشکل ہوتی جاتی ہے۔ اچھے اساتذہ وغیرہ تلاش کرنا۔ یہ سب مزید نقل مکانی کا باعث بنتا ہے۔'

انڈیا کے جنوب اور مغربی حصوں میں سماجی تحریکوں نے لوگوں کے ساتھ ساتھ وہاں کی ریاستوں کو معاشی طور پر زیادہ خوشحال اور قابل بنایا لیکن اتر پردیش میں ایسا کچھ نہیں دیکھا گیا۔

سنتوش مہروترا کے سنہ 2006 کے ایک انتہائی اہم تحقیقی مطالعے میں اتر پردیش اور تمل ناڈو کے پسماندہ لوگوں کی سماجی حیثیت اور سماجی بہبود کا تقابلی مطالعہ کیا گیا تھا۔

انھوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ ’پچھلی صدی کے آغاز میں تمل ناڈو میں، دلتوں اور پسماندہ لوگوں میں سماجی سرگرمی کی تحریک بھی چلی تھی۔ یہ تحریک آزادی کے بعد صحت، غذائیت اور تعلیم جیسے سماجی اشاریوں کو بہتر بنانے میں بدل گئی۔ اتر پردیش میں دلت تحریک نے خصوصی طور پر اقتدار پر قبضہ کرنے پر توجہ مرکوز کی اور نچلی ذاتوں کو صرف علامتی طور پر ہی فوائد مل سکے۔'

یقیناً اس تفاوت کی تاریخی وجوہات ہیں۔ زمین پر غیر مساوی حقوق بھی اس کی وجہ رہے ہیں۔ سنہ 1990 کی دہائی میں ملازمتوں میں ریزرویشن متعارف کرائے جانے کے باوجود اعلیٰ ذاتوں کا سماجی اور معاشی غلبہ برقرار ہے۔ اس کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کا عدم مساوات کے جال سے بچنا ناممکن ہے۔

چمڑے کی بڑی صنعت رہی ہے

،تصویر کا ذریعہDIPTENDU DUTTA

،تصویر کا کیپشنکانپور چمڑے کی بڑی صنعت کا مرکز رہا ہے

لیکن اتر پردیش کو حالات بدلنے کے لیے کسی نہ کسی وقت فیصلہ لینا ہی پڑے گا۔

ہندی کے معروف ادیب اور طنز نگار ہری شنکر پرسائی سے پوچھا گیا کہ کیا معروف مصور ایم ایف حسین کا بمبئی جم خانہ میں ننگے پاؤں چلنا ’ہندوستانیت‘ تھا؟ تو انھوں نے جواب دیا: ’جو لوگ شمالیت، نصف جسم چھپانے والے لباس (دھوتی) اور کھڑاون (لکڑی کی ایک قسم کی سینڈل) کو ہندوستانی سمجھتے ہیں، ان کو کچھ کہنا بیکار ہے، ہمارے ملک میں مسخ شدہ جدیدیت انگلشیت کی طرف لے جاتی ہے اور حد درجہ نیشنلزم فاشزم کی طرف لے جاتی ہے۔‘

یوپی کو غربت اور بدحالی کے اندھیروں سے نکلنے کا اپنا منفرد راستہ بنانا ہو گا۔ ایسی پالیسیوں کو یقینی بنانا ہو گا جس میں عام لوگوں کی شرکت ہو۔ اپنے شہریوں کے بامقصد مستقبل کی تعمیر کے لیے کسی بھی نئے ماڈل کو اپناتے ہوئے اس بات کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ اس میں تمام لوگ برابر کے شریک ہوں۔ سب کا حصہ یقینی بنانا ہوگا۔

اگر یوپی ایسا ماڈل بناتا ہے اور اسے نافذ کرتا ہے تو وہ سیاست کی طرح معاشی ترقی کے معاملے میں بھی ملک کی سمت و رفتار طے کرے گا۔