انڈین عوام کی سرعام تھوکنے کی عادت کے خلاف جاری لاحاصل جنگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, اپرنا آلیوری
- عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی
رواں برس راجا نرسیمھان اور پریتی نرسیمھان نے انڈیا کے طول و عرض تک ایک پیغام کے ساتھ روڈ ٹرپ کا آغاز کیا اور وہ پیغام تھا ’عوامی مقامات پر تھوکنا بند کریں۔‘
اس جوڑے نے اپنی کار پر اس مہم کے متعلق پیغامات لکھوائے تھے اور ایک لاؤڈ سپیکر کے ذریعے وہ یہ پیغام اپنی کار میں بیٹھ کر انڈیا کی عوام تک پہنچا رہے تھے۔
اگر آپ نے کبھی انڈیا میں وقت گزارہ ہو تو یقیناً آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ نرسیمھان خاندان کس بارے میں مہم چلا رہا ہے۔ جی آپ درست سمجھے انڈیا کے گلی کوچوں میں انسانی تھوک کی پچکاریاں جو سڑکوں پر جا بجا نظر آتی ہیں۔
کبھی یہ سادہ تھوک ہوتا ہے تو کبھی بلغم سے بھری پچکاری۔ اور کہیں خون کی مانند لال رنگ کی گٹکے یا پان کی پچکاری جو انڈیا کے شہروں کی دیواروں، شاہراؤں کی زنیت بنی دکھائی دیتی ہیں۔ بعض اوقات تو تھوک کی ان پچکاریوں سے بننے والے ڈیزائن کولکتہ کے تاریخی ہورھا پُل کے حسن کو بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔
لہذا نرسیمھان جوڑے نے اس مقصد سے ملک بھر کا سفر کیا تاکہ وہ عوامی مقامات پر تھوکنے والوں سے ملک کی دیواروں، شاہراؤں، عمارتوں اور پلوں کو محفوظ بنا سکیں۔
نرسیمھان خاندان رہتا تو انڈیا کے شہر پونے میں ہے لیکن انھوں نے عوامی مقامات پر تھوکنے کے خلاف خود ساختہ لڑائی کا فیصلہ سنہ 2010 میں کیا تھا۔ اس سلسلے میں انھوں نے عوامی مقامات پر تھوکنے کی روک تھام کے لیے ورکشاپس، آن لائن اور آف لائن مہم سازی، مقامی میونسپل کمیٹی کے ساتھ مل کر صفائی مہم سمیت تمام جتن کر کے دیکھ لیے ہیں۔
راجا نرسیمھان بتاتے ہیں کہ ایک دفعہ انھوں نے پونے کے ریلوے سٹیشن کی ایک دیوار، جو پان کی پچکاریوں کے باعث خراب ہو چکی تھی، کو پینٹ کیا اور اس کے تین دن بعد ہی لوگوں نے وہاں دوبارہ تھوکنا اور پچکاری مارنا شروع کر دیا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’دیوار پر تھوکنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مگر برسوں سے عوامی مقامات پر تھوکنے کی روک تھام کے متعلق اُن کی دی جانے والی انتباہ کے نتیجے میں انھیں مختلف ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کبھی یہ ردعمل غصے کی صورت میں سامنے آیا تو کبھی کسی نے کندھے اچکاتے ہوئے بے اعتنائی کا مظاہرہ کیا۔
راجا نرسیمھان ایک شخص کو یاد کرتے ہیں جس نے ان سے کہا تھا کہ ’تمھارا مسئلہ کیا ہے؟ کیا یہ تمھارے باپ کی جگہ ہے؟‘
لیکن ملک میں کووڈ کی وبا، جس نے ملک کو بری طرح سے اپنی لپیٹ میں لیا تھا، کے دوران کچھ بدلاؤ آیا کیونکہ پریتی نرسیمھان نے بتایا کہ چند تھوکنے والوں نے اپنے عمل پر معافی بھی مانگی۔ وہ کہتی ہیں کہ ’وبا کے خوف نے تھوکنے والوں کو سوچنے پر مجبور کیا۔‘
’تھوکنے والا ایک ملک‘
انڈیا کے عوامی مقامات پر تھوکنے کی روک تھام کے اقدامات ہمیشہ کمزور رہے ہیں اور انھیں کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ ممبئ شہر نے اس کی روک تھام کے لیے رضاکارانہ انسپکٹر رکھ کر اِس علت پر قابو پانے کی بہت کوشش کی۔ یہ انسپکٹرز شہریوں کی سرعام تھوکنے، کچرا پھینکنے اور سڑکوں کے کنارے پیشاب کرنے پر سرزنش کرتے تھے۔ مگر انڈیا میں سرعام تھوکنے کے جرم کو ہمیشہ سے نظرانداز کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس سب کے دوران کووڈ کے وبا میں اس کے ہوا کے ذریعے پھیلاؤ کے خطرے کو انڈیا کے مردوں کے سرعام تھوکنے کی عادت نے دگنا کر دیا تھا۔
جس کے بعد انتظامیہ حرکت میں آئی اور سرعام تھوکنے والوں کو ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے قانون کے تحت سزائیں دی جانے لگی اور بعض اوقات ایسے افراد کو جرمانے اور جیل کی ہوا بھی کھانا پڑی۔
یہاں تک کے وبا کے عروج کے دوران انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اپنے ملک کے شہریوں سے کہا کہ ’سرعام مت تھوکیں‘ کیونکہ ’یہ وہ عادت ہے جس کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ یہ غلط ہے۔‘
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کی یہ بات سنہ 2016 میں وزیر صحت کے بیان سے بہت مختلف تھی۔ جب اس وقت کے وزیر صحت نے سرعام تھوکنے کے مسئلے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں پارلیمان کو بتایا تھا کہ ’سر انڈیا ایک تھوکنے والا ملک ہے۔ ہم اس وقت تھوکتے ہیں جب ہم بور ہو رہے ہوتے ہیں، ہم اس وقت تھوکتے ہیں جب ہم تھکے ہوتے ہیں، ہم غصے میں تھوکتے ہیں یا کبھی کبھی ہم بس ایسے ہی تھوک دیتے ہیں۔ ہم ہر جگہ، ہر وقت اور کہیں بھی تھوک دیتے ہیں۔ اور ہم وقت بے وقت تھوکتے ہیں۔‘
وہ ایک لحاظ سے ٹھیک تھے کیونکہ انڈیا کی سڑکوں پر تھوکنا مردوں کے لیے ایک عام بات ہے، وہ کسی بھی سڑک کے کنارے پر کھڑے کھڑے اپنا سر تھوڑا سے گھما کر تھوک دیتے ہیں، شاہراؤں پر کاریں، موٹر سائیکل اور رکشا چلاتے افراد کسی بھی ٹریفک اشارے پر رکتے ہوئے تھوکنے میں ایک منٹ کا توقف نہیں کرتے۔
ان کا یہ عمل کبھی کبھی ایک ناگوار آواز کے ساتھ شروع ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے حلق سے بلغم کو جمع کر کے تھوکنے کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ عادت مردوں میں زیادہ عام ہے۔ کالم نگار سنتوش دیسائی کہتے ہیں کہ انڈین مرد عوامی سطح پر اپنے جسم کی نمائش ’اور جو کچھ ان کے جسم سے خارج ہوتا ہے‘ میں بڑے مطمئن ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ افراد عوامی مقامات پر پیشاب کرنا، تھوکنا یا اپنے آپ کو راحت پہنچانا ایک فطری عمل اور شعوری آسانی سمجھتے ہیں۔‘
دیسائی کے مطابق ’اگر کسی کو کوئی بے چینی یا رفع حاجت کی ضرورت ہے تو وہ سرعام خود کو راحت پہنچانے میں ایک منٹ نہیں لگائے گا۔ یہاں خود کو روکنے کا تصور ہی نہیں ہے۔‘
انڈیا کے ایک مقامی اخبار ٹیلی گراف کے ایسوسی ایٹ ایڈیٹر ادلاک مکھرجی کہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں سرعام تھوکنا بھی مردانگی کی نشانی اور شان سمجھا جاتا ہے۔
مگر عوامی مقامات پر ہی کیوں تھوکا جاتا ہے؟
راجا نرسیمھان کہتے ہیں کہ ’اس کی مختلف وجوہات ہیں جس میں غصے سے وقت گزاری کے عوامل شامل ہیں کیونکہ شاید ایسے افراد کے پاس کچھ کرنے کو نہیں ہے۔ یا شاید وہ اس لیے ایسا کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ان کا حق ہے۔‘
تاریخ دان مکل کیساوان کے مطابق اس کی ایک وجہ ’آلودگی سے بچاؤ کا خبت بھی ہے کیونکہ یہ ان کا اس سے بچنے کا ایک طریقہ ہے۔‘
بعض مؤرخین کے مطابق ’اس عادت کی تاریخ ہندو اور دیگر برادریوں کے اونچی ذات کے افراد سے ملتی ہیں جو جسمانی صفائی کے لیے کوئی بھی جسمانی گندگی اپنے گھروں سے باہر خارج کرتے تھے۔‘
مکھرجی کہتے ہیں کہ تھوکنے کے رویے کی وجوہات ذاتی صفائی سے بڑھ کر ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’ایک مرتبہ ایک ٹیکسی ڈرائیور نے مجھے بتایا کہ میرا خراب دن تھا اور میں اس کے اثرات کو اپنے اندر سے نکالنا چاہتا تھا۔‘
تھوکنے کے خلاف جنگ
یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب ہر کوئی ہر جگہ تھوکتا نظر آتا تھا۔ انڈیا میں تھوکنے کی روایت شاہی درباروں میں بھی تھی جہاں بڑے بڑے اگال دان توجہ کا مرکز ہوتے تھے اور بہت سے گھروں میں بھی اُن کو رکھا جاتا تھا۔
قرون وسطیٰ کے دوران یورپ میں آپ کھانے کے دوران تھوک سکتے تھے بس یہ خیال رکھنا ہوتا تھا کہ آپ کی پچکاری میز کے نیچے ہو۔ اس دور کے ڈچ فلاسفر اراسمس نے لکھا تھا کہ ’اپنے تھوک کو واپس لے جانا بدتہذیبی سمجھا جاتا تھا۔‘
سنہ 1903 میں برٹش میڈیکل جرنل نے ’امریکہ کو دنیا کا سب سے زیادہ تھوکنے والا ملک‘ قرار دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنہ 1908 میں میساچوسٹس کے ایک ہیلتھ انسپکٹر نے مختلف فیکٹریوں کے دوروں کے دوران پوچھا کہ کیوں تمام درزی زمین پر تھوکتے پائے گئے ہیں جس کا جواب انھیں یہ دیا گیا تھا کہ ’ظاہر ہے وہ زمین پر ہی تھوکیں گے، آپ کیا توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنی جیبوں میں تھوکیں؟‘
ایسا نہیں ہے کہ برطانیہ میں حالات بہتر تھے کیونکہ وہاں بھی ٹراپ کاروں میں تھوکنا عام تھا اور لوگوں کو اس پر جرمانے بھی ہوتے تھے اور میڈیکل کمیونٹی نے اس کے خلاف قانون سازی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
مغرب میں اس عادت کو روکنے میں سب سے زیادہ کردار تپ دق کی بیماری کے پھیلاؤ نے ادا کیا۔
صحافی ودیاکرشنن اور جلد آنے والی کتاب ’فانٹم پلیگ: ہاؤ ٹیوبر کلوسز شیپڈ ہسٹری‘ (وہم کا طاعون: کیسے تپ دق نے تاریخ کو بدلا) کے مصنف کہتے ہیں کہ 19ویں صدی کے آخر اور 20ویں صدی کے اوائل میں جراثیم کے پھیلاؤ کے نظریہ نے اس کی روک تھام میں اہم کردار ادا کیا۔
’جراثیم کیسے پھیلتے ہیں اس سے آگاہی نے نئی سماجی عادات اور رسم و رواج کو جنم دیا۔ لوگوں نے اپنی چھینکوں اور کھانسی کو روکنا سیکھا، مصافحے کو مسترد کیا گیا اور بچے کو چومنا بھی طنز بن گیا۔ حفظان صحت کے بارے میں یہ بیداری باہر کی دنیا میں بھی پھیل گئی۔‘
یہ بھی پڑھیے
کرشنن کہتے ہیں بڑھتی آگاہی نے مردوں کے ’رویوں میں بھی تبدیلی‘ پیدا کی حالانکہ یہ وہ ہی تھے اور ہیں جو سرعام تھوکتے نظر آتے ہیں اور تپ دق جیسے مرض کے پھیلاؤ کا باعث بنتے ہیں۔‘
کرشنن کہتے ہیں لیکن انڈین معاشرے میں اس عادت پر قابو پانے میں دیگر رکاوٹیں بھی ہیں۔ یہاں کی عوام اور ریاستوں نے کبھی بھی اس عادت کو ختم کرنے کی بھرپور کوشش نہیں کی۔
اور سرعام تھوکنا آج بھی سماجی طور پر قابل قبول ہے چاہے وہ پان یا تمباکو چبا کر پچکاری مارنا ہو، کھلاڑی کھیل کے دوران کیمرے کے سامنے تھوکتے ہوں یا بالی وڈ کی فلموں میں ہیرو لڑائی کے دوران تھوکتے دکھائے جاتے ہو۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نرسیمھان آج کے دور میں اُگال دانوں کی غائب ہونے کو کوستے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اب اگر مجھے تھوکنا ہو تو میں کہا تھوکوں، جب میں بچہ تھا تو مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ کولکتہ میں سڑکوں پر لگے کھمبوں کے ساتھ ریت سے بھرے اُگال دان بندھے ہوتے تھے۔ اب وہ غائب ہو گئے ہیں اور لوگ ہر جگہ تھوکتے نظر آتے ہیں۔‘
اس کے علاوہ دیگر بڑے مسائل بھی ہیں جن میں بڑے پیمانے پر سماجی رویے میں تبدیلی یا عوامی صحت عامہ کے متعلق آگاہی کی مہم معاشرے سے ذات پات اور جنس کی تفریق کے عنصر کو ختم نہیں کر سکی ہے۔
کرشنن کہتے ہیں کہ ’انڈیا میں بیت الخلا اور پانی کی فراہمی تک رسائی ملک کی غریب طبقے کو حاصل نہیں ہے۔‘
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ جانے کی کوشش کیے بنا کے عوام سرعام کیوں تھوکتی ہیں انھیں سزائیں دینا بے سود ہو گا اور اس عادت کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔
کووڈ کی وبا کے دو برسوں کے دوران اس عادت کو ختم کرنے کا جوش بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔
لیکن راجا اور پریتی نرسیمھان گلی کوچوں میں لڑی جانے والی اس لڑائی کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اب بھی بہت سے لوگوں کو یہ علم نہیں کہ ان کی سرعام تھوکنے کی عادت کووڈ کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ اگر وہ اس ٹھیک نہیں بھی کر سکتے تو اس میں کچھ بدلاؤ کو لا سکتے ہیں۔
راجا نرسیمھان کہتے ہیں کہ ’کوئی بات نہیں اگر ہم اپنا وقت ضائع بھی کر رہے ہیں، ہم کوشش کریں گے، اگر ہم دو فیصد افراد کے رویے میں تبدیلی لانے میں کامیاب ہو جائے تو ہم کہیں گے کہ ہم کچھ بدلاؤ لانے میں کامیاب رہے ہیں۔‘










