سمیع چوہدری کا کالم: بولر گیند کو تھوک نہ لگائے گا تو کیا کرے گا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
اچھی بھلی زندگی کی گاڑی چل رہی تھی کہ اچانک بیچ میں کورونا کا سپیڈ بریکر آ گیا اور ہر شے اس جھٹکے سے رک گئی۔ اب یہ ہے کہ کورونا جائے نہ جائے، کاروبارِ زندگی تو پھر سے شروع کرنا ہی ہے۔
اس تگ و دو میں ہر شعبۂ حیات اپنے اپنے تئیں ایسے ضابطے وضع کرنے میں مگن ہے جن سے کاروبارِ زیست کا پہیہ بھی چلنے لگے اور کورونا کا پھیلاؤ بھی رک جائے۔ یہی کاوش اس وقت کرکٹ کو بھی درپیش ہے کہ کوئی ایسا 'بائیو سکیور' یعنی حیاتیاتی طور پہ محفوظ ماحول پیدا کیا جائے جہاں کھیل بنا کسی نقصان کے ممکن ہو۔
اس میں دیگر عوامل تو وہی معمول کے ہیں کہ کھیل کے سبھی شرکا خود کو چودہ روز تک الگ تھلگ ماحول میں رکھیں، باہمی میل جول اور سفر سے اجتناب برتیں اور کم سے کم وینیوز پہ زیادہ سے زیادہ میچز منعقد کروائے جائیں، سٹیڈیم خالی ہوں اور صرف ٹی وی رائٹس کی ڈیلز ہی اس شعبے سے وابستہ افراد کا نان نفقہ فراہم کریں۔
یہ بھی پڑھیے
مگر سب سے دلچسپ پہلو بولرز کے حوالے سے ہے کہ بولر گیند چمکانے کے لیے اپنے لعابِ دہن کے استعمال سے گریز کریں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ریورس سوئنگ پیدا کرنے کے اگرچہ مختلف قانونی اور غیر قانونی طریقے رواج پذیر ہوئے ہیں مگر ان سبھی طریقوں میں بنیادی تکنیک یکساں ہے کہ گیند کے ایک رخ کو مسلسل چمکایا جائے اور دوسرے رخ کو پسینے اور لعاب کے استعمال سے بھاری بنایا جائے۔

گو اس میں خاصا وقت لگتا ہے مگر ریورس سوئنگ پیدا کرنے کا فطری طریقہ یہی ہے۔
اس کے علاوہ ماضی میں بوتلوں کے ڈھکن بھی گیند کی 'تیاری' میں استعمال ہوتے رہے ہیں۔ ہمارے ایک سپر سٹار تو گیند کو سیب کی طرح چبا بھی چکے ہیں۔
علاوہ ازیں پیپر منٹ اور ٹافیوں کے مصنوعی کیمیکلز بھی زیرِ استعمال رہے اور ماضی قریب میں سینڈ پیپر تک اس مقصد کے لیے استعمال ہو چکے ہیں مگر ڈوپلیسی کے 'منٹ گیٹ' سے لے کر سٹیو سمتھ کے 'سینڈ پیپر گیٹ' تک کوئی بھی غیر فطری طریقہ آئی سی سی کے طے کردہ قوانین سے تطابق میں شمار نہیں ہوا اور بجا طور پہ سکینڈلز اور تنازعات کا باعث بنا۔

آئی سی سی کے موجودہ قوانین یہ کہتے ہیں کہ گیند کی حالت میں تغیر پیدا کرنے کے لیے کسی بھی غیر فطری طریقے کا استعمال بال ٹیمپرنگ کے زمرے میں آتا ہے یعنی گیند سے چھیڑ چھاڑ کے مترادف ہے اور قابلِ سزا جرم ہے۔
لیکن اب کورونا کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیشِ نظر آئی سی سی یہ غور کر رہا ہے کہ گیند چمکانے کے فطری طریقوں یعنی لعاب اور پسینے کے استعمال پہ پابندی عائد کر دی جائے اور بال ٹیمپرنگ کو قانونی قرار دے کر یہ عمل کسی مصنوعی کیمیکل مثلاً ویکس یا شو پالش کی مدد سے جائز قرار دیا جائے۔
اس پروسیجر میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے یہ تجویز بھی زیرِ غور ہے کہ یہ سارا عمل امپائر کی نگرانی میں سر انجام پائے تاکہ لا یعنی مباحث اور بے وجہ تنازعات سے بچا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مگر اس سارے عمل میں ایک بات ہمارے فہم سے بالاتر ہے کہ اگر کھیل میں شریک ہر شخص بائیو سکیورٹی کے پروسیجرز کی چھلنی سے گزر کر آئے گا تو پھر لعابِ دہن کو اس قدر مشکوک کیوں بنایا جا رہا ہے؟
سوال یہ بھی ہے کہ سالہا سال سے گیند پہ تھوک لگانے اور پسینے کا استعمال کرنے والے ریفلیکسز کیسے اس نئے عمل سے ہم آہنگ ہوں گے اور اگر لا شعوری طور پہ کسی نے لعاب گیند پہ لگا دیا تو کیا وہ گیند مزید استعمال کے قابل سمجھی جائے گی یا امپائر اسے تبدیل کرے گا یا ریفری سے درخواست کر کے گیند کو سینیٹائز کروائے گا؟
وقار یونس نے بالکل بجا کہا ہے کہ کرکٹ کے رک جانے کے باعث آئی سی سی پہ اضطراب کی صورتِ حال طاری ہے اور اس کیفیت سے نکلنے کے لیے وہ ضرورت سے زیادہ سوچ رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہDAVE CHAN
ان کی بات میں وزن ہے کہ کسی فاسٹ بولر کو گیند چمکانے کے لیے تھوک یا پسینے کے استعمال سے روکا نہیں جا سکتا کیونکہ کسی بولر کو گیند تیار کرنے کے لیے تھوک کے استعمال سے روکنا ایسا ہی ہے جیسے کسی اندھے کو راہ ٹٹولنے کے لیے چھڑی کے استعمال سے روکنا۔
آئی سی سی کو دھیرج رکھنا چاہیے اور کرکٹ کی بحالی کے لیے مناسب وقت کا انتظار کرنا چاہیے۔
پھر بھی اگر ٹی وی رائٹس کے چھن جانے اور ہزاروں وابستگان کے بیروزگار ہونے کے خدشات آڑے آ رہے ہیں تو چودہ روزہ آئسولیشن کے دورانیے اور احتیاطی تدابیر پہ ہی اکتفا کرنا بہتر ہے نہ کہ کھیل کی بنیادی فطری خوبصورتیوں سے چھیڑ چھاڑ کرنا۔










