سندر رامو: انڈیا کے سیریئل ڈیٹر کہلانے والے اداکار جو 365 خواتین کے ساتھ ڈیٹ کرنا چاہتے ہیں

اداکار سندر رامو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسندر اب تک 330 مختلف خواتین کے ساتھ ڈیٹ پر جا چکے ہیں
    • مصنف, گیتا پانڈے
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی

انڈیا کے تمل اور ملیالم زبانوں کے اداکار، پیشہ ور ڈانسر اور فوٹوگرافر سندر رامو نے پچھلے کچھ برسوں میں 335 خواتین کو ڈیٹ کیا ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ وہ ابھی اپنے 365 کے ہدف تک نہیں پہنچے ہیں۔اگرچہ وہ طلاق یافتہ ہیں اور ’رومانس کے مخالف بھی نہیں‘ مگر ان کی تمام ڈیٹس رومانوی نہیں ہوتی ہیں اور ان کا مقصد صرف محبت کی تلاش بھی نہیں ہے۔انھوں نے جنوبی انڈیا کے شہر چنئی میں اپنے گھر سے بی بی سی کو بتایا: ’میں مکمل طور پر رومانوی شخص ہوں۔ میں ہر روز محبت کی تلاش کرتا ہوں لیکن 365 ڈیٹس کے پیچھے میرا مقصد خواتین کی تلاش نہیں ہے۔‘وہ کہتے ہیں: ’میں انڈیا میں خواتین کے حقوق کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔‘

انھوں نے ایک دہائی قبل تمل اور ملیالم فلموں میں آنے سے پہلے تھیئٹر کیا تھا اور انھوں نے یکم جنوری سنہ 2015 کو اس 'ڈیٹنگ' پروجیکٹ کا آغاز کیا۔

ان کے فیس بک پیج پر ان خواتین کی کہانیاں ہیں جن کے ساتھ وہ ڈیٹ پر گئے تھے۔ ان میں ان کی 105 سالہ دادی سے لے کر ان کے اپارٹمنٹ بلاک سے کوڑا اکٹھا کرنے والی خاتون، 90 کی دہائی کی ایک آئرش راہبہ، اداکارہ، ماڈل، یوگا اساتذہ، کارکن، سیاستدان اور بہت سی دوسری خواتین شامل ہیں۔

اپنی دادی کے ساتھ

،تصویر کا ذریعہSunder Ramu

،تصویر کا کیپشنسندر اور ان کی 109 سالہ دادی نے اپنی ڈیٹ پر ایک جیسے چشمے پہنے

انھوں نے بتایا ’میں ایک ایسے خاندان میں پلا بڑھا جہاں عورتوں کا احترام کیا جاتا تھا اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا تھا اور میں ایک ایسے سکول میں پڑھنے گیا جہاں صنفی امتیاز نہیں تھا اور لڑکوں اور لڑکیوں کو الگ الگ نہیں سمجھا جاتا تھا۔ لیکن جب میں نے عملی دنیا میں قدم رکھا تو مجھے احساس ہوا کہ دنیا میں صنفی اختلافات کس قدر سرایت کر چکے ہیں اور یہ میرے لیے ایک بڑا ثقافتی جھٹکا تھا۔‘انھوں نے بتایا کہ ان کے لیے اہم موڑ دسمبر سنہ 2012 کا دہلی کا گینگ ریپ تھا جب انڈیا کے دارالحکومت میں ایک 23 سالہ طالبہ پر ایک بس میں وحشیانہ حملہ کیا گیا۔وہ کہتے ہیں: ’اس واقعے نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ میں کئی راتوں تک سو نہیں سکا۔‘

یہ اس وقت مزید کوفت کا باعث بن گیا جب بیرون ملک چھٹیوں کے دوران لوگ ان سے پوچھتے کہ ’انڈینز خواتین کے ساتھ اتنا برا سلوک کیوں کرتے ہیں؟’ہم ہمیشہ سوچتے ہیں کہ خرابیوں کو دور کرنا کسی اور کا کام ہے، جیسے کہ حکومت یا این جی اوز کا۔ لیکن پھر میں نے سوچنا شروع کیا کہ میں کیا کر سکتا ہوں؟‘اور وہیں سے انھیں 365 ڈیٹس کا خیال آیا۔

سندر کی ایک ڈیٹ

،تصویر کا ذریعہSunder Ramu

،تصویر کا کیپشناداکار سندر نے ایک پھل بیچنے والی اور گھروں سے کوڑا جمع کرنے والی عورت کے ساتھ بھی رومانوی ملاقات کی

انھوں نے کہا: ’مردوں کو بھی مسائل کے حل کا حصہ بنانا ہوگا۔ جب وہ ڈیٹنگ کرتے ہیں تو ان کے ذہن میں بہت سی غلط فہمیاں ہوتی ہیں، لیکن خواتین صرف ٹانگوں اور نشیب و فراز کے خطوط کا مجموعہ نہیں ہیں، ہر ایک دوسرے سے مختلف ہے۔‘وہ کہتے ہیں: ’اپنی ڈیٹس کے دوران ہونے والی اپنی گفتگو کے بارے میں لکھ کر میں لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کرتا ہوں کہ خود کو دوسری جنس کی جگہ رکھ کر دیکھیں تو آپ ان کے مسائل کو تھوڑا زیادہ سمجھ سکیں گے۔‘

سندر رامو نے 31 دسمبر سنہ 2014 کو فیس بک پر 365 ڈیٹس یعنی رومانوی ملاقاتوں کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔انھوں نے لکھا کہ خواتین 'مجھے کہیں باہر چلنے کے لیے مدعو کریں، اس کی منصوبہ بندی کریں، خود ہی جگہ منتخب کریں اور کھانے کا بل ادا کریں یا خود کھانا پکائيں۔' (یعنی جس طرح مرد کسی ڈیٹ کے لیے کرتے ہیں)

اور انھوں نے بتایا کہ ہر مہینے کے آخر میں وہ کھانے پر بچایا ہوا اپنا پیسہ کم معروف خیراتی اداروں کے لیے کھانا خریدنے میں استعمال کریں گے۔پوسٹ ڈالنے کے چند منٹوں میں ہی ایک دوست نے انھیں نئے سال کے موقع پر لنچ کے لیے ڈیٹ پر مدعو کیا۔

ان کی پہلی درجن بھر ڈیٹس شناسا لوگوں کے ساتھ تھیں۔ دس ڈیٹس تک آتے آتے مقامی پریس نے ان کی کہانی میں دلچسپی لینی شروع کر دی اور یہ بات پھیل گئی اور بہت سے دعوت نامے آنے لگے۔ انھیں ’دی ڈیٹنگ کنگ‘، ’365 ڈیٹس والا آدمی‘ اور ’سیریل ڈیٹر‘ کہا جانے لگا۔ایک ایسے ملک میں جہاں خاندان کی جانب سے طے کردہ شادیاں اب بھی روایت کا حصہ ہیں اور ڈیٹنگ کو ’مغرب زدہ فعل‘ کے طور پر حقارت سے دیکھا جاتا ہے وہاں ان کے دوست اس سے 'نفرین‘ تھے۔ان کے دوست انھیں ڈانٹا کرتے کہ 'تم کیا ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہو، یہ کہ تم بہت سی عورتوں کو جانتے ہو؟ تمہارے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ تم کسی پلے بوائے کی طرح لگ رہے ہو۔

اداکار سندر رامو ایک ڈیٹ پر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنخواتین خود سندر کو دعوت دیتیں ہیں اور کھانا کھلاتیں ہیں

’لیکن میں نے ان سے کہا کہ میں ایسا اس لیے کر رہا ہوں تاکہ دوسرے دیکھیں۔ اس کے پیچھے خیال یہ ہے کہ بات چیت کریں، سوالات کریں، کسی دوسرے شخص کا نقطہ نظر جانیں۔ میرا حتمی مقصد صنفی مساوات کا حصول ہے۔‘پروجیکٹ کے آغاز سے لے کر اب تک اداکار نے کئی ممالک کی خواتین سے ملاقات کی ہے اور مختلف انڈین شہروں کے ساتھ ساتھ ویت نام، سپین، فرانس، امریکہ، تھائی لینڈ اور سری لنکا میں بھی ان سے ملاقاتیں کی ہیں۔اگرچہ وہ اپنی ہر ڈیٹ کو ’خاص‘ قرار دیتے ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ ان کی ایک انتہائی سحر انگیز ڈیٹ اپنی دادی کے ساتھ تھی، جو دو سال قبل 109 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔’میں اس کی بات سنتے ہوئے بڑا ہوا تھا کہ وہ مرسڈیز میں سوار ہونا چاہتی تھیں۔ چنانچہ میں نے ایک مرسڈیز خریدی اور کولن چاویدی گاؤں جا کر انھیں وہاں سے ساتھ لیا۔ وہ 22 سالوں سے جب سے میرے دادا کی وفات ہوئی تھی باہر نہیں نکلی تھیں سوائے ووٹ ڈالنے کے۔ وہ مقامی مندر گئے اور پھر غروب آفتاب دیکھنے کے لیے ایک جھیل کے کنارے گئے۔

’وہ عمر کے ساتھ تھوڑی سی جھک گئی تھیں، لیکن وہ طبی طور پر ٹھیک تھیں۔ ہم نے ایک جیسے چشمے پہنے اور انھوں نے مذاق کیا کہ اگر وہ تھوڑی اور جوان ہوتیں تو وہ میری تمام نوجوان ڈیٹس سے بہتر ہوتیں۔‘’وہ میری دادی تھیں لیکن یہ پہلا موقع تھا جب میں نے ان کے ساتھ اتنا وقت اکیلے گزارا تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

سندر کی 90 سالہ راپبہ کے ساتھ ڈیٹ کی تصویر

،تصویر کا ذریعہSunder Ramu

،تصویر کا کیپشنسندر کی 90 سالہ راپبہ کے ساتھ ڈیٹ کی تصویر

انھوں نے چینئی کے ایک کانونٹ میں آئرش راہبہ سسٹر لوریٹو کے ساتھ کھانا بھی کھایا۔’وہ اپنے عمر کی نویں دہائی میں تھیں اور انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ ان کی پہلی ڈیٹ تھی۔ جب وہ نو سال کی تھیں تو وہ چرچ میں شامل ہونے کے لیے انڈیا آئی تھیں۔‘سندر رامو کا کہنا ہے کہ انھوں نے ابتدائی طور پر ایک سال میں 365 رومانوی ملاقاتوں پر جانے کا ارادہ کیا تھا، لیکن نومبر سنہ 2015 میں ایک تباہ کن سیلاب جس نے چینئی کے کئی حصوں کو ڈبو دیا تھا نے انھیں رکنے پر مجبور کر دیا۔ انھوں نے اگلے سال دوبارہ اسے شروع کیا اور اسے جلدی پورا کرنے کا فیصلہ کیا۔’میں نے بہت سی خوبصورت خواتین کے ساتھ مفت کھانا کھایا ہے اور اب یہ زندگی بھر کا منصوبہ بن گیا ہے۔ خیال یہ ہے کہ گفتگو جاری رکھی جائے۔‘

میں نے ان سے پوچھا کہ کیا ان کی نظر میں جب انھوں اپنا پروجیکٹ شروع کیا تھا اس وقت سے اب ہم زیادہ صنفی مساوی دنیا میں رہ رہے ہیں؟وہ کہتے ہیں: ’میں ایک بہت ہی مراعات یافتہ جگہ سے آتا ہوں لیکن یہ سوچنے کے لیے کہ میں کسی ملک اور معاشرے کو بدل سکتا ہوں جس کی جڑیں پدر شاہی میں جکڑی ہیں تو میں خود سے مذاق کر رہا ہوں گا۔’لیکن مجھے یقین ہے کہ آپ کو کہیں سے تو آغاز کرنا ہوگا۔ یہ راتوں رات نہیں ہونے والا ہے، کوئی فوری حل نہیں ہے۔ اس میں شاید دو نسلیں لگ جائيں گی، لیکن اسے ہمیں اپنی ہی زندگی میں شروع کرنا ہوگا اور اسے جاری رکھنا ہوگا۔‘