کینسر سے متاثرہ لوگوں کی ڈیٹنگ کی کہانیاں: ’ہِنج ایپ پر ملنے والی ڈیٹ نے میری جان بچائی‘

کائیلی بیکر ہسپتال میں اور اس کے بعد صحت مند حالت میں

،تصویر کا ذریعہKeiligh Baker

سنہ 2020 کی وبا کے دوران 'ڈیٹنگ' کرنا بہت مشکل کام ہے، لیکن اُن کی ڈیٹنگ کے بارے میں آپ کیا کہیں گے جنھیں اس دوران کینسر کا مرض بھی لاحق ہو چکا ہے؟ بی بی سی کی صحافی کائیلی بیکر اس دوران ’ڈیٹنگ‘ کی مشکلات کو جاننے کے لیے ایک مشن پر نکلیں تو انھیں بہت سی نئی باتیں پتا چلیں۔

چند برس قبل مجھے خون کے کینسر، لیکیومیا کی تشخیص ہوئی تھی۔ اس وقت میں 27 برس کی تھی۔

جب یہ تشخیص ہوئی اس وقت میری ایک لڑکے سے دوستی ہوئے سات ماہ ہو چکے تھے۔ اس دوران مجھے شدید سانس چڑھنے اور وزن میں کمی کا احساس ہوا۔ ساتھ ہی میرے جسم پر ایسی خراشیں ابھرنے ہونے لگیں جن کی بظاہر کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی تھی۔

اُسی دوران جب میں سکاٹ لینڈ کے ایک جزیرے پر تھی تو ایک ایسا وقت آیا اور میری حالت اتنی خراب ہوئ کہ مجھے ایئر ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال لے جایا گیا۔ وہاں میرے خون میں کینسر کی تشخیص ہوئی۔

میں نے اپنے دوست کو کہا کہ اگر وہ چاہے تو مجھے چھوڑ سکتا ہے، لیکن پہلے تو اُس نے میرا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا لیکن بعد میں ہمارا رشتہ جنوری کے مہینے میں ختم ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیے

میرا لیکیومیا تاعمر ساتھ رہنے والا مرض ہے اور احتیاط برتنے سے اس حالت کے ساتھ زندگی گزاری جا سکتی ہے۔

تاہم اس کے لیے جو ادویات مستقل طور پر استعمال کی جاتی ہیں ان کے کچھ بُرے اثرات بھی ہوتے ہیں، مثلاً تھکن، ہڈیوں میں درد اور وزن میں اضافہ ہونا۔

لاک ڈاؤن کی وجہ سے بوریت میں شدید اضافہ ہوا اور میں نے فیصلہ کیا کہ میں چند ڈیٹنگ ایپس ڈاؤن لوڈ کروں، لیکن سب سے زیادہ مشکل مرحلہ یہ تھا کہ آپ اپنے ہونے والے ساتھی کو یہ کس طرح بتاتے ہیں کہ آپ کو کینسر ہے؟

گوگل پر ایک سرچ سے علم ہوا کہ امریکہ میں کچھ ایسی ویب سائٹس ہیں جو زیادہ عمر کے لوگوں کو اس سلسلے میں مشورے دیتی ہیں۔

باوجود اس کے کہ برطانیہ میں جہاں ہر روز تقریباً 34 افراد جن کی عمر 20 اور 30 برس کے درمیان ہوتی ہے، ان میں کینسر کی تشخیص ہو رہی ہے، انھیں کسی قسم کی رہنمائی نہیں مل رہی ہے۔ میں نے کینسر سے متاثرہ افراد کو تلاش کرنا شروع کیا تاکہ میں اُن سے اُن کے ’ڈیٹنگ‘ سے متعلقہ معاملات پر سوالات کر سکوں۔

ایک دوسرے کو جعلی اکاؤنٹ والا سمجھ کر بات کرتے رہے

Emily Frost with hair and without

،تصویر کا ذریعہEmily Frost

برطانیہ میں جنوبی کاؤنٹی سرے سے تعلق رکھنے والی ایمیلی فراسٹ کے کینسر کی سنہ 2016 میں تشخیص ہوئی تھی جو لمف نوڈز میں پھیل گیا تھا۔

لمف نوڈز جسم کے نظام کا وہ حصہ ہے جو اینٹی باڈیز پیدا کرتا ہے۔ یہ تشخیص کینسر کی ابتدائی سطح پر کر لی گئی تھی۔

تاہم چار برس گزرنے کے بعد اب وہ اس کے علاج کے لیے لی گئی ادویات سے اور اس علاج کے دوران ذہنی اور جسمانی تکالیف سے پیدا ہونے والے دیگر اثرات سے نمٹ رہی ہیں جن میں ماہواری کی باقاعدگی میں رکاوٹ کا پیدا ہونا، تھکن اور پریشانی کی بیماریوں کا لاحق ہونا شامل ہیں۔ کیمو تھیراپی کی وجہ سے ان کے بال جھڑ گئے ہیں۔

ایمیلی کہتی ہے کہ ’جب آپ اندر بند پڑے ہوئے ہوں اور آپ معمول کے ایک شخص جیسی صلاحیتوں سے محروم ہو چکے ہوں، تو اُس وقت آپ کی خواہش ہوتی ہے کہ آپ لوگوں سے باتیں کریں۔ میں نے 'ڈیٹنگ' کی کچھ ایپس ڈاؤن لوڈ کیں اور اُن پر اپنی وہ تصویریں پوسٹ کیں جن میں میرے بال موجود تھے۔‘

انھوں نے ایپ پر ملنے والے ایک شخص کے ساتھ بات چیت شروع کی۔ اُس شخص نے ایمیلی کو ملنے کی دعوت دی۔

ایمیلی نے اُس کی دعوت کو قبول کر لیا، لیکن پھر اپنے بالوں کی کمی کی وجہ سے ایک دم پریشان ہو گئیں۔ ابھی وہ یہی سوچ رہی تھی کہ وہ کیا کریں کہ اُس شخص نے اُنھیں ٹیکسٹ کیا۔

اس نے لکھا تھا ’اوہ مجھے یاد آیا کہ مجھے اپنے سر کو ابھی شیو کرنا پڑا ہے کیونکہ میں پتلا ہو رہا ہوں۔‘

ایمیلی نے فوراً جواب دیا کہ ’میں نے بھی (اپنا سر شیو کیا ہے)۔‘

ایمیلی نے تسلیم کیا کہ ’ہم دونوں ایک دوسرے کو جعلی اکاؤنٹ والا سمجھ کر بات کرتے رہے۔‘

یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ اگلے تین برسوں تک ڈیٹنگ کرتے رہے حتیٰ کہ ایمیلی کی ذہنی حالت کی وجہ سے ان کے تعلقات متاثر ہونا شروع ہو گئے۔

’جب میں اپنی بری حالت کے بدترین درجے پر تھی، تو اُس وقت آن لائن ڈیٹنگ مجھے حوصلہ بخشتی تھی۔ جب کچھ حالات سنبھلے تو مجھے احساس ہوا کہ کینسر کے ساتھ جو عفریت نازل ہوا تھا اُس سے تو میں ابھی تک نمٹ ہی نہیں پائی ہوں۔‘

ایمیلی نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ آنے والے دیگر مسائل اور کینسر کے ’دوبارہ ہو جانے کا خوف‘ یہ دونوں آپ کی شخصیت کو بدل کے رکھ دیتے ہیں۔

ایمیلی کا ڈیٹنگ کے بارے میں مشورہ ہے کہ ’ضرور کریں، لیکن یہ مت بھولیں کہ اب آپ کی سوچ کا انداز مختلف ہے۔‘

ڈیٹنگ ایپ ہِنج پر ملنے والی ڈیٹ جس نے میری جان بچائی‘

Kelly dressed up with long hair and at the hairdresser with short hair

،تصویر کا ذریعہKelly Cheung

شمالی انگلینڈ کے شہر یارک شائر سے تعلق رکھنے والی 26 برس کی کیلی سکِپٹان کی چھاتی میں کینسر ان کی ایک شخص کے ساتھ پہلی ڈیٹ کے دوران تشخیص ہوا تھا۔

یہ ڈیٹ ایپ ’ہِنج‘ پر ملنے والے ایک شخص کے ساتھ ہوئی تھی، جس نے ان کے سینے میں ایک غیر معمولی گانٹھ محسوس کی تھی۔ اب کیلی سکِپٹان کا علاج ہو رہا ہے اور وہ بہتر ہو رہی ہیں۔

کیلی چند ماہ سے ٹام سے ملاقاتیں کر رہی تھیں اور اسی دوران ان کے دوست نے اس گانٹھ کو محسوس کیا اور اصرار کیا کہ وہ اس گانٹھ کے بارے میں اپنے ڈاکٹر سے مشاورت کریں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اگر وہ اس گانٹھ کو محسوس نہ کرتے تو مجھے اس کے بارے میں پتا بھی نہیں چلنا تھا کہ یہ میری چھاتی میں تھی۔‘

ہسپتال میں انھیں پتا چلا کہ یہ گانٹھ تیسرے مرحلے کا کینسر تھا، یعنی اس گانٹھ کی حالت معمول سے کہیں زیادہ بڑی ہو چکی تھی، اور یہ کسی بھی وقت ارد گرد کے دیگر ٹِشوز میں پھیل سکتی تھی۔

’یہ میری خوش قسمتی تھی کہ میری اُس سے ملاقات ہوئی، کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا ہوتا تو میں آج شاید زندہ ہی نہ ہوتی، اِس لیے ہنج کے ذریعے ہونے والی اس ڈیٹ نے میری زندگی بچائی۔‘

کیلی اور ٹام کافی عرصے تک دوست رہے، لیکن وہ کہتی ہیں کہ علاج کی وجہ سے اس کے بالوں کے جھڑ جانے اور اس کے وزن کے بڑھ جانے سے اس نے محسوس کیا کہ اب وہ 'کم جاذبِ نظر‘ ہو گئی ہے اور ڈیٹنگ کے لیے ’خوفناک‘ ہو گئی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ 'آپ کسی کو یہ کیسے بتا سکتے ہیں کہ اوہ مجھے 25 برس کی عمر میں چھاتی کا کینسر ہو گیا تھا۔ یہ بہت ہی دلیری کا کام ہے۔ میں اس وقت ڈیٹنگ کا ارادہ نہیں رکھتی ہوں لیکن تنہا ضرور محسوس کرتی ہوں۔‘

’اس سے بات چیت میں گہرائی پیدا ہوتی ہے‘

Neil MacVicar before and after his cancer diagnosis

،تصویر کا ذریعہNeil MacVicar

لندن سے تعلق رکھنے والے نِیل میک وِکر شائین کینسر سپورٹ کے لیے کام کرتے ہیں جو ڈیٹنگ ورکشاپ انعقاد کرواتی ہے۔ انھوں نے شائین کینسر سپورٹ میں کام اس وقت شروع کیا جب 25 برس کی عمر میں اُن کے دماغ میں رسولی کی تشخیص کی گئی تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ پہلے وہ اپنے آپ کو ہر فن مولا سمجھتے تھے لیکن کینسر نے اُن کا اعتماد توڑ ڈالا۔

’اس تشخیص کے بعد میرا آپریشن کیا گیا اور پھر ریڈیو تھریپی کی گئی، سٹیرائیڈ کے استعمال کی وجہ سے میرے وزن میں اضافہ ہو گیا اور سر کے بال جھڑ گئے۔ میں نے اپنے آپ کو بہت بھدّا محسوس کرنا شروع کر دیا۔‘

انھوں نے چند ایک ڈیٹس پر جانے کی کوشش کی لیکن اعتماد میں کمی کی وجہ سے انھیں کامیابی نہ ملی اس لیے پھر اُنھوں نے شائین ورکشاپ کی رکنیت اختیار کی۔

’مجھے یہاں سے عملی قسم کے کئی ایک سبق ملے مثلاً یہ کہ ڈیٹ کے لیے پورے لندن میں گھومنے پھرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اپنے قریبی علاقوں میں ڈھونڈیے۔

’بہت بہترین لباس پہننے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کی جگہ ہر ڈیٹ کی کوشش کو ایک مشق سمجھیے۔'

نِیل کہتے ہیں کہ انھوں نے یہ ہمت پیدا کر لی کہ وہ جب بھی کسی سے پہلی ڈیٹ پر ملاقات کرتے ہیں تو اُسے بتا دیتے ہیں کہ اُنھیں کینسر ہوا تھا اور پھر موضوع بدلنے کے لیے ایک نیا سوال کر دیتے ہیں ۔۔۔ اس طرح وہ موقع دیتے ہیں کہ آیا آئندہ بھی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہے گا یا نہیں۔ اگر وہ دوسری مرتبہ ملاقات کرتے ہیں تو پھر وہ اس کے بارے میں مزید بتاتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اس سے بات چیت میں گہرائی پیدا ہوتی ہے۔‘

یہ گندگی کو صاف کردیتا ہے

Kirsty Hopgood holding a 'bold, bald and beautiful' card

،تصویر کا ذریعہKirsty Hopgood

آکسفورڈ شائر کی 31 برس کی کرِسٹی ہاپ گُڈ کے ہڈیوں کے گودے میں کینسر کی تشخیص گذشتہ اگست میں ہوئی تھی۔ اور ان کا علاج اس برس اکتوبر میں مکمل ہو جائے گا۔

انھیں پریشانی تھی کہ جب لوگوں کو پتا چلے گا کہ اُنھیں کینسر ہو گیا ہے تو کوئی بھی ان میں دلچسپی نہیں لے گا۔

’کیمو تھیراپی سے ہر چیز بدل جاتی ہے ۔۔۔ میرے سنہری بال جھڑ گئے، میں سپورٹس کو بہت پسند کرتی تھی اس لیے میرے جسم کے پٹھے مضبوط تھے، لیکن اب میرے پٹھے کمزور ہو چکے ہیں۔ میں ذہنی طور پر بھی بدل چکی ہوں۔‘

بیمار ہونے سے پہلے، کرسٹی 'ڈیٹنگ' پر جانا پسند کرتی تھیں، اس لیے جب لاک ڈاؤن شروع ہوا تو انھوں نے ایک تجربہ کرنے کے بارے میں سوچا۔

’میں نے (سوشل میڈیا پلیٹ فارم) بمبل بی پر اپنی گنجے سر والی تصویریں پوسٹ کیں اور سوچا کہ اگر مجھے زیادہ لائیکس نہ ملیں تو پریشان نہیں ہوں گی، لیکن حقیقت میں مجھے بہت زیادہ تعداد میں ڈیٹس کی دعوتیں ملیں۔ یہ گندگی کو صاف کردیتا ہے۔‘

کرسٹی کے بال اب دوبارہ سے اگنا شروع ہو گئے ہیں اور شاید وہ بغیر بالوں والی تصویریں ہٹا دیں، لیکن وہ کہتی ہیں کہ وہ کینسر کو ایک 'مکمل راز' رکھنے کے بعد 'پرسکون محسوس' نہیں کرتی ہیں۔

Kirsty Hopgood with hair and wearing a hat

،تصویر کا ذریعہKirsty Hopgood

اس کے بعد میرے لیے کیا ہے۔۔۔۔؟

کینسر تنہائی پیدا کرتا ہے اور یہ آپ کے ذہن میں آپ کو دیکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔ جب اپنے علاج کے دوران ہسپتال آنے جانے اور ادویات کے استعمال کے دیگر اثرات کی وجہ سے آپ یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ شاید آپ کے لیے اب 'ڈیٹنگ' کرنے یا تعلقات بنانے کی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔

لیکن ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ ان ہی حالات میں آپ کے دن پھرنے لگیں لگیں۔ آپ اس دوران یہ بھی محسوس کر سکتے ہیں کہ آپ کو اپنی پسند کے لوگ مل رہے ہیں، اور آپ کو پتا چلے کہ آپ کو کوئی پسند کر رہا ہے تو اس سے آپ کے لیے ایک موقع ہوتا ہے کہ آپ اپنے آپ کو ایک مناسب شخص سمجھیں۔

ایمیلی، کرسٹی، کیلی اور نِیل سے متاثر ہو کر میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنی پہلی 'ویڈیو چیٹ' (ویڈیو گفتگو) میں لاک ڈاؤن کے دوران اپنی انٹرنیٹ پر ہونے والی 'ڈیٹس' میں سے ایک کے دوران اپنی کیفیت بیان کروں گی۔

مجھے بہت زیادہ خوشی ہوئی جب اُس نے بھاگنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ وہ بہت مہربانی سے پیش آیا، پریشان نظر نہیں آیا اور پھر ہم نے دوسری مرتبہ ڈیٹ کا فیصلہ کیا۔۔۔۔