افغانستان میں ایک ہفتے کی زندگی، ایک طرف مذاکرات تو دوسری طرف تشدد

،تصویر کا ذریعہMaroof saeedirZ
- مصنف, خاوون خاموش
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
حسین حیدری کو اپنی بیوی کے کزن (رشتے کے بھائی) لطیف سروری کو تلاش کرنے میں تین گھنٹے لگے اور انہوں نے اس دوران بہت سے مردہ چہروں کو دیکھا۔
لطیف صرف 20 سال کے تھے اور ہائی سکول میں بارہویں جماعت میں زیر تعلیم تھے۔ انہوں نے ہمیشہ ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھا تھا۔ افغانستان کے دہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے بہت سے نوجوانوں کی طرح وہ بھی تین ماہ پہلے کابل منتقل ہو گئے تھے تاکہ وہ یونیورسٹی میں داخلے کے امتحان کی بھرپور طریقے سے تیاری کر سکیں۔
ہفتے کی سپہ پہر کو لطیف کابل شہر میں واقع کشور دانش نامی اپنے ٹیوشن سینٹر میں چار گھنٹے کی اپنی کلاسیں مکمل کرنے کے بعد باہر نکلے ہی تھے کہ ایک خود کش حملے کا نشانہ بن گئے۔ اس خود کش بم حملے میں 25 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور دھماکے کی شدت سے پوری سڑک گردو غبار اور دھوئیں سے بھر گئی تھی۔
لطیف کی ہلاکت کی افسوس ناک خبر اس کے گھر والوں تک پہنچانے کے لیے حسین کے ساتھ کوئی ذریعے نہیں تھا کیونکہ موبائل فون سروس بند تھی۔ لہذا حسین نے خود ہی اس افسوس ناک خبر کو لطیف کے والدین تک پہنچانے کا فیصلہ کیا جو کابل سے دور غزنی صوبے کے ایک دور افتادہ گاؤں میں رہتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ 'ہم نے لطیف کے میت کو اس کے گاؤں لے جانے کا فیصلہ کیا جہاں سے وہ اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے نکلے تھے۔ ہم یہ سوچے کر ہل جاتے ہیں کہ ہم کس طرح اس میت کے ساتھ لطیف کے والد اور والدہ کا سامنا کریں گے۔'

،تصویر کا ذریعہBBC Sport
پیر کو لطیف کے خاندانوں والوں نے خود جا کر یہ اندوہناک خبر ان کے والدین کو دی۔
افغانستان میں گزشتہ ہفتے ہر روز اس طرح کا المناک واقع پیش آیا۔
لطیف کے والدین بہت سے خاندانوں کے ان افراد میں شامل ہیں جو ملک میں تشدد کی اس نئی لہر سے متاثر ہوئے ہیں جو بین الافغان امن مذاکرات شروع ہونے کے باوجود کم ہونے کے بجائے تیز ہو گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی نے اس اندہوناک ہفتے پر نظر ڈالی ہے اور جاننے کی کوشش کی ہے کہ کون لوگ اس تشدد کا شکار ہو گئے اور کون اس تشدد میں بال بال بچ گئے۔
اتوار اٹھارہ اکتوبر

،تصویر کا ذریعہMaroof Saeedi
رضیہ ان کی بہن مارزیہ اور ان کے بھائی پیدائشی طور پر قوت سماعت سے محروم ہیں۔
وہ غور صوبے میں اشاروں کی زبان سے بات چیت کرنے والے ایک ادارے میں تربیت حاصل کرنے کے لیے جاتے ہیں۔ ان تینوں نے اتوار اٹھارہ اکتوبر کو اپنے روزآنہ تریبت حاصل کرنا شروع کی تھی جب ان کے سکول کی عمارت کے باہر بارود سے بھرے ایک ٹرک میں دھماکہ ہوا۔
رضیہ نے بتایا کہ زندگی میں پہلی مرتبہ انھوں نے کوئی آواز سنی جو اس دھماکے کی تھی۔ سولہ برس کی رضیہ نے کہا کہ یہ انتہائی خوفناک دھماکہ تھا۔ میں سن نہیں سکتی لیکن آواز اس قدر شدید تھی کہ وہ مجھے سنائی دی۔'
اس دھماکے میں سولہ افراد ہلاک اور 150 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ دھماکے کی شدت سے سکول اور آپس پاس کی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔ رضیہ ان کی بہن اور ان کا بھائی اس وقت نو دیگر ہم جماعتوں کے ساتھ سکول کے کمرے میں موجود تھے۔
رضیہ نے کہا کہ ایک لمحے کو تو انہیں ایسا لگا کہ وہ مر گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی بہن حرکت کر رہی تھیں جب کہ ان کے بھائی کے بارے میں انھیں خیال آیا شاید وہ ہلاک ہو گئے لیکن خوش قسمتی سے دونوں بچ گئے۔
مارزیہ نے بھی دھماکے کی آواز سنی۔ انہوں نے بھی کہا کہ انہوں نے پہلی مرتبہ کوئی آواز سنی۔ 'یہ آواز اتنی شدید تھی کہ میرا دل ہل کر رہ گیا۔'
اس واقع کو ایک ہفتے گزر جانے کے بعد بھی مارزیہ اس کے اثرات سے نکل نہیں سکیں ہیں اور اکثر نیند میں ڈر کر اٹھ جاتی ہیں اور اپنے بیوہ ماں کے پاس چھپ جاتی ہیں۔ انہیں گھر سے باہر نکلتے وقت خوف محسوس ہوتا ہے۔ یہ تنیوں بہن بھائی ان خوش قسمت افراد میں شامل ہیں جو اس دھماکے میں بچ گئے۔ اس دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت مزدوروں کی تھی اور بہت سے خاندان اپنے واحد روزی کمانے والے کا سوگ منا رہی ہیں۔ اس سوگ میں ان کے لیے بڑا سوال یہ ہے کہ اب ان کا بوجھ کون اٹھائے گا۔
پیر 19 اکتوبر
خوست کے صوبے میں ایک موٹر سائیکل بم حملے میں شادی کی ایک تقریب کو نشانہ بنایا گیا جس میں چار افراد ہلاک اور دس زخمی ہوئے تھے۔
اورزگان صوب میں طالبان کے ایک حملے میں دو پولیس اہلکار ہلاک اور چار گھائل ہو گئے تھے۔
منگل 20 اکتوبر

،تصویر کا ذریعہGard Family
نمروز صوبے میں ایک سڑک کے کنارے نصب ایک باردوی سرنگ کے پھٹنے سے کم از کم پانچ افغان فوجی ہلاک اور دو زخمی ہو گئے تھے۔ جس وقت یہ دھماکہ کیا گیا اس وقت ایک فوجی قافلے اس راستے سے گزر رہا تھا۔ اس دھماکے میں پولیس کے ضلعی سربراہ کی ہلاکت بھی ہو گئی تھی۔
پولیس کے ضلعی سربراہ کا چھوٹا بیٹا بن یامین نے ایک مقامی چینل کو انٹرویو میں کہا کہ جب وہ بڑا ہو گا تو طالبان سے اپنے باپ کے قتل کا بدلہ لے گا۔
انہوں نے افغان صدر اشرف غنی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرے غم کو سمجھو۔ 'میرا باپ اشرف غنی کے لیے قربان ہوا اور انھیں میرا غم سننا پڑا گیا۔'
اسی دن کابل سے دو گھنٹے کی مسافت پر واقع وردک صوبے میں سڑک کنارے نصب ایک اور بم دھماکے میں شہریوں کی کئی گاڑیاں تباہ ہو گئیں جن میں سوار گیارہ افراد لقمۂ اجل بن گئے۔
بدھ 21 اکتوبر
بدھ کی صبح تہاڑ صوبے میں طالبان نے ایک فوجی چوکی پر حملہ کر دیا اور وہاں موجود خصوصی پولیس کے 30 اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔
اس حملے میں مقامی پولیس کے سربرا کرنل عبداللہ گارد کا ایک 25 برس کو بیٹا فرید بھی مار گیا۔ کرنل گارد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیٹا مرا نہیں ہے بلکہ زندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کو بھول نہیں سکتے اور ان کے دلوں میں اس کی جگہ کبھی خالی نہیں ہو گی۔ فرید نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پولیس میں نوکری اختیار کی تھی۔
کرنل گارد نے کہا کہ ان کے بیٹے نے ان سے متاثر ہو کر پولیس میں نوکری کی تھی اور وہ ایک ہی محاذ پر تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان کے لیے ایک دوست کی طرح تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ تناہ نہیں تھا اس کے ساتھ ہلاک ہونے والے تمام پولیس اہلکار ان کے سپاہی تھے اور وہ ان میں سے اکثر کو ذاتی طور پر جانتے تھے۔
اسی دن رات کو افغان کی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کو طالبان کے خلاف جوابی کارروائی کے لیے بھیجا گیا۔ انہوں نے اسی صوبے میں ایک مسجد کو نشانہ بنایا جس کے برابر مدرسے میں بچے قران شریف کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔
اس حملے میں بارہ بچے ہلاک اور 18 زخمی ہو گئے۔ مرنے والوں میں عبداللہ ولی نامی ان کا استاد بھی شامل تھا۔
مقامی ہسپتال میں ایک بچے کے والد عبدالرزاق نے بی بی سی کو بتایا کہ جس وقت مدرسے پر بم گرایا گیا اس وقت ان کے دو بچے مدرسے میں موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ ایک بچہ جو اس حملے میں ہلاک ہو گیا اس کی لاش وہیں پڑی ہے جب کہ وہ زخمی بچے کی جان بچانے کے لیے اس کو ہسپتال لے آئے۔'اپنے مردہ بچے کی لاش کو زمین پر چھوڑ کر مجھے زخمی بچے کو ہسپتال لانا پڑا۔
افغانستان میں تشدد کی وجہ سے ایک اور صورت میں بھی نقصان ہو رہا ہے۔ اس تشدد کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ اس دن ملک کےمشرقی صوبے نگر ہار میں پندرہ شہری جن میں گیارہ خواتین شامل تھیں بگھدڑ کی وجہ سے لوگوں کے پیروں تلے آ کر ہلاک ہو گئے۔ یہ لوگ جلالہ آباد شہر میں پاکستان قونصل خانے میں ویزر درسخواستیں دینے کے لیے جمع ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اس دن صبح کو ساٹھ برس کے نیاز محمد جب گھر لوٹے تو انھیں علم ہوا کہ ان کے بیوی گھر پر موجود نہیں ہیں۔ وہ قطار میں آگے جگہ حاصل کرنے کے لیے رات کے دو بجے ہیں گھر سے نکل قونصل خانے کے باہر پہنچ گئی تھیں۔ پہلی اطلاع جو نیاز محمد کو ملی وہ یہ تھیں کہ ان کی 55 سالہ بیوی بی بی زیوار کو کار نے ٹکر مار دی ہے۔ وہ سیدھے ہسپتال پہنچ گئے لیکن انھیں ہسپتال والوں نے مردہ خانے جانے کا کہا۔ ان کی بیوی اس بھگدڑ میں ہجوم کے نیچے آ کر کچلی گئیں تھیں۔ بی بی زیوار کے آٹھ لڑکے اور تین لڑکیاں ہیں جن میں سے کچھ سرحد پار پاکستان کے شہر پشاور میں مقیم ہیں۔
نیاز محمد نے بتایا کہ ان کی بیوی اپنے پوتوں پوتیوں اور نواسے نواسیوں کو بہت یاد کر رہی تھی۔ 'وہ ان سے ملنے کے لیے افغانستان نہیں آ سکتے تھے اور وہ اپنے بچوں سے دودی کو برداشت نہیں کر پا رہیں تھیں۔'
جمعرات 22 اکتوبر
افغانستان کے شمالی مغربی صوبے بغدیش میں دو بھائی سڑک کنارے نصب بم کا شکار ہو گئے۔ مقامی حکام نے قریبی شہر ہرات میں کہا کہ سڑک کے کنارے یہ بم باغیوں نے نصب کیا تھا کیونکہ اس سڑک سے فوجیوں اور فوجی قافلوں کا گزر رہتا تھا لیکن یہ دو بھائی جن میں سے ایک یونیورسٹی کا طالب علم تھا ہلاک ہو گئے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ملک کے شمالی صوبے فریاب مقامی حکام کے مطابق طالبان کی طرف سے کیے گئے ایک راکٹ حملے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہو گئے۔
جمعہ 23 اکتوبر
ملک کے جنوب مغربی نمروز صوبے میں طالبان نے ایک حملے میں 20 افغان فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔ مقامی حکام کے مطابق اس حملے میں کئی فوجی زخمی ہوئے جب کہ چھ فوجیوں کو طالبان نے یرغمال بنا لیا۔
ہفتہ 24 اکتوبر
کابل شہر میں کوثر دانش ٹیوشن سینٹر میں کم از کم چھ طالب علم موجود تھے جب اس پر خود کش حملہ کیا گیا جس میں لطیف سروری ہلاک ہو گئے تھے۔ اس میں اکثریت شیعہ ہزارہ برادری کی تھی جن کو سنی انتہاہ پسند 'کافر' سمجھتے ہیں اور یہ خدشات شدت کے ساتھ ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ یہ ملک میں فرقہ وارانہ تشدد شروع کرنے کی ایک کوشش ہو سکتا ہے۔ اس میں ہلاک شدگان زیادہ تر نوجوانوں پر مشتمل تھی جن کی عمریں 25 سال سے کم تھیں۔ اس حملے میں 60 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے تھے۔
طابش جن کی عمر 17 برس ہے وہ اس حملے میں بچ گئے تھے۔ وہ فٹ بال کی پرکٹس کرنے کے لیے جلدی میں سکول سے نکلے تھے اور تیز تیز قدم بھرتے ہوئے میدان کی طرف جا رہے تھے۔ تیز قدموں کی وجہ سے وہ سکول سے اتنی دور چلے گئے تھے کہ دھماکے سے ان کی جان بچ گئی۔انہوں نے بتایا کہ وہ ابھی سڑک کے موڑ ت پہنچے تھے کہ سکول کے باہر دھماکہ ہو گیا جس میں ان کا ایک عزیز دوست میر واعظ کریمی جو بہت قابل طالب علم تھا ہلاک ہو گیا۔
انہوں نے بتایا کہ میر واعظ کمرہ جماعت میں ان کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھتا تھا اور انہیں اب یہ یقین نہیں آ رہا کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے۔
یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ یہ حملہ کس نے کروایا۔ طالبان اس حملے میں ملوث ہونے سے انکار کر رہے ہیں لیکن نام نہاد دولت اسلامیہ نامی تنظیم نے اس کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
افغانستان میں خون ریزی کی یہ داستان بہت طویل ہے۔ صرف گزشتہ ہفتے 20 سے زیادہ صوبوں میں پرتشدد واقعات ہوئے جن میں جانی نقصان ہوا۔ ان واقعات میں شہری اور حکومتی اہلکاروں کے جانی نقصان کی تصدیق کرنا مشکل ہے۔ طالبان کو ہونے والے جانی نقصان کو تو پتا لگانا اور بھی مشکل کام ہے۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کے مطابق سنہ 2020 کے پہلے نو ماہ میں 2117 افراد ہلاک اور 3822 زخمی ہوئے تھے۔ تشدد شدت اختیار کرتا جا رہا ہے گو کہ افغان حکومت اور طالبان کئی ہفتوں سے مذاکرات میں مصروف ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گزشتہ ہفتے ہونے والے تشدد کے واقعات کے بعد افغانستان میں انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ شہرزاد اکبر نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ 'افغانستان بھر میں اندوہناک تشدد کی یہ خبریں آخری ہمت اور امید کی آخری کرن بھی بجھا دیتی ہیں۔' 'ہم بحیثت افراد کے اور بحثیت معاشرے کے کب تک یہ سب کچھ برداشت کریں گے۔'
تابش جو فٹ بال کھیلنے کے لیے کوثر دانش سے نکلے تھے ان کو بھی کسی چیز کے پاؤں میں لگنے سے زخم آیا تھا اور ان کو ہسپتال جانا پڑا تھا۔ ہسپتال میں انہیں اپنے بہت سے ساتھی طالب عملوں کے ہلاک ہونے کی خبر ملی۔ وہ گزشتہ ہفتے کے پرتشدد واقعات میں بال بال بچ جانے والے بہت سے خوش نصیبوں میں شامل ہیں۔ ان کے والد فریدوں نے ہستپال میں کہا کہ انہوں نے ہپستال کے بستر پر اپنے بچے کو دیکھا جس کو یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر سکول پر حملہ کیوں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اللہ اور رسول کے فرمان کے مطابق لڑکے سکول میں تعلیم حاصل کر رہے تھے اور انہیں یہ سمجھ نہیں آتا کہ انہیں نشانہ کیوں بنایا گیا۔












