#DelhiElectionResults: عام آدمی پارٹی کی جیت یقینی، بی جے پی کو بڑی شکست کا سامنا

اروند کیجریوال

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنعام آدمی پارٹی نے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں 67 سیٹوں پر فتح حاصل کی تھی

دِلی کے وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال نے ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں اپنی جماعت کی بڑی کامیابی کے امکانات واضح ہونے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دلی کے لوگوں نے نئی سیاست کی بنیاد رکھی ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ یہ نئی سیاست ’کام کی سیاست‘ ہے۔

دلی کی اسمبلی کے انتخابات کے نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے اور رجحانات کے مطابق حکمراں جماعت ‏عام آدمی پارٹی کو 70 رکنی اسمبلی میں 63 نشستیں ملنے کی قوی امید ہے جبکہ مرکز میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کو سات نشستیں مل سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ووٹنگ کے بعد تمام ایگزٹ پولز میں وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی کو دوبارہ اقتدار میں آنے کی پیش گوئی کی گئی تھی لیکن بی جے پی کے بہت سے رہنماؤں نے دعوی کیا تھا کہ ایگزٹ پول کے نتائج غلط ثابت ہوں گے اور حکومت بی جے پی کی بنے گی۔

ان کے دعووں نے مبصرین اور ووٹروں میں شک و شبہات پیدا ہو گئے تھے لیکن منگل کو ووٹوں کی گنتی کے دوران سامنے آنے والے رجحانات کے مطابق عام آدمی پارٹی تیسری مرتبہ دلی میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ گئی ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

دِلی میں حکومت سازی کے لیے سادہ اکثریت یعنی ایوان میں 36 نشستیں درکار ہیں اور عام آدمی پارٹی دو تہائی سے زیادہ نشستیں جیتتی دکھائی دے رہی ہے۔

گذشتہ انتخابات میں عام آدمی پارٹی نے 70 میں سے 67 سیٹیں جیتی تھیں جبکہ تین سیٹیں بی جے پی کو ملی تھیں۔

گذشتہ سنیچر کو ہونے والے انتخابات کے لیے عام آدمی پارٹی نے اپنے کام کے نام پر ووٹ مانگے تھے جبکہ بی جے پی نے دِلی کے مسائل سے زیادہ ملکی مسائل کو اٹھایا تھا اور وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ سمیت بی جے پی کے تمام قومی سطح کے رہنماؤں نے دِلی کے انتخابات میں پارٹی کی جیت کو یقینی بنانے کے لیے شرکت کی تھی۔

عام آدمی پارٹی سے قبل کانگریس نے دِلی پر مسلسل 15 سال حکومت کی تھی اور حالیہ الیکشن میں وہ ایک بھی نشست جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ کانگریس پارٹی کی جانب سے انتخابی مہم میں بھی سوائے انتخابی منشور کے زیادہ کوشش نظر نہیں آئی تھی۔

دلی کے نائب وزیر اعلی اور وزیر تعلیم منیش سیسودیا نے نتائج کے اعلان سے قبل کہا تھا کہ وہ عام آدمی پارٹی کی جیت کے متعلق پر اعتماد ہیں کیونکہ ان کی پارٹی نے پچھلے پانچ سالوں میں بہت کام کیا ہے۔

بی جے پی کو یہ امید تھی کہ اسے شہریت کے متنازع قانون کا فائدہ پہنچے گا لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ اس کے روایتی ووٹ میں زیادہ اضافہ نہیں دیکھا جا رہا ہے۔