نریندر مودی: شاہین باغ کے مظاہرے ایک ’سازش‘ ہیں

،تصویر کا ذریعہ@BJP4India
انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ سیلمپور، جامعہ ملیہ اور شاہین باغ میں گزشتہ ماہ سے جاری مظاہرے کوئی ’اتفاق‘ نہیں بلکہ لوگوں کا ’استعمال‘ ہے۔
یہ بات انھوں نے پیر کو دلی کے سبسیڈی گراؤنڈ میں انتخابی جلسے میں خطاب کے دوران کہی۔ دلی میں آٹھ فروری کو ریاستی انتخابت میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ اس وقت دلی میں عام آدمی پارٹی کی حکومت ہے۔
شہریت کے متنازع قانون کے خلاف کئی ہفتوں سے ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں جن میں دلی کا شاہین باغ بھی شامل ہے جہاں بہت بڑی تعداد میں خواتین احتجاج کر رہی ہیں۔
یاد رہے کہ چند روز قبل بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمان پرویش ورما نے شہریت کے متنازع قانون کی مخالفت کرنے والے شاہین باغ کے احتجاجی مظاہرین کو دلی کے شہریوں کے لیے خطرہ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر انہیں وہاں سے ہٹایا نہیں گیا تو وہ ’دلی والوں کا ریپ کریں گے‘۔
نریندر مودی نے پیر کو اپنے خطاب میں کہا کہ ’اس کے پیچھے ایک ایسا سیاسی ڈیزائن ہے جو ملک میں آپس کی محبت کو توڑنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ یہ اگر صرف قانون کی مخالفت ہوتی تو حکومت کی جانب سے یقین دہانی کے بعد اسے ختم ہو جانا چاہیے تھا۔ عام آدمی پارٹی اور کانگریس سیاسی کھیل کھیل رہے ہیں۔ آئین اور ترنگے کو سامنے رکھ کر تعلیم بانٹی جا رہی ہے اور اصل سازش سے دھیان ہٹایا جا رہا ہے۔‘
انہوں نے کہا ’مظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد پر ملک کی عدلیہ نے اپنی ناراضی کا اظہار کیا ہے لیکن یہ لوگ عدالتوں کی پرواہ نہیں کرتے اور یہ باتیں کرتے ہیں آئین کی۔ ان مظاہروں کے باعث لوگوں کو آمد و رفت میں مشکل کا سامنا ہے۔ دلی والے خاموش ہیں لیکن غصے میں بھی ہیں۔ اس ذہنیت کو یہیں روکنا ضروری ہے۔ اگر سازش رچنے والوں کی طاقت میں اضافہ ہوا تو کل کسی اور سڑک اور گلی کو بند کیا جائے گا۔ بی جے پی کو دیا جانے والا ہر ووٹ اسے روکنے کی طاقت رکھتا ہے۔‘
ساتھ ہی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ’دلی کے لوگ کیا چاہتے ہیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے، صاف دکھائی دے رہا ہے‘۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہ@BJP4India
نریندر مودی نے اپنے خطاب میں مزید کیا کہا
- 8 فروری کو ڈلنے والا ہر ووٹ صرف سرکار بنانے والا نہیں بلکہ دلی کو ترقی کی بلندی پر پہنچانے والا ہوگا۔
- بی جے پی اپنے ہر وعدے کو پورا کرتی ہے، جو کہتی ہے وہ کرتی ہے۔ بی جے پی کے لیے ملک اور اس کی عوام کا مفاد سب سے اوپر ہے۔
- دلی میں غیر قانونی رہائشی بستیوں کا بڑا مسئلہ ہے۔ آزادی کے بعد سے کسی نہ کسی وجہ سے یہ مسئلہ لٹکا ہوا ہے۔ ووٹ کے لیے وعدے کیے جاتے رہے، لیکن مسئلے کو حل کوئی نہیں کرتا تھا۔
- پارلیمان میں قانون بننے کے ساتھ یہ حق دلی کے ہاتھ میں آ گیا ہے۔ اب آپ کو بلڈوزر کی فکر سے آزادی مل گئی ہے۔
- 11 فروری کے بعد جب این ڈی اے کی حکومت بنے گی تو ان کالونیوں کی ارتقا کا کام تیزی سے آگے بڑھے گا۔
- کچے گھروں میں رہنے والوں کو پکے مکان دینے کا کام تیزی سے ہوگا۔ ایسا گھر جس میں بیت الخلا، بجلی، گیس اور صاف پانی ہوگا۔
- 2022 تک ہر غریب بے گھر شخص کو پکا گھر دینے کا جو ہمارا فیصلہ ہے، یہ اسی کا حصہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت دو کروڑ گھر بنائے جائیں گے۔
- جب تک یہ لوگ (عام آدمی پارٹی) بیٹھے رہیں گے دلی میں عوام کی فلاح کے کام روکتے رہیں گے۔ وہ سیاست کے علاوہ کچھ نہیں جانتے ہیں۔
- اکیسویں صدی کا بھارت نفرت کی سیاست سے نہیں قوم پرستی سے چلے گا۔ ارتقا کی پالیسی انڈیا کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی۔
- آج کل مجھ سے لوگوں کو شکایت ہے کہ مودی جی اتنی جلدی کیا ہے، اتنی تیزی سے فیصلے کیوں لے رہے ہیں۔ ملک میں تیزی سے ترقی لانی ہے تو دہائیوں پرانے مسائل سے جلد نجات حاصل کرنی ہوگی۔
- آرٹیکل 370 سے آزادی 70 برس بعد ملی، ایودھیا پر فیصلہ 70 برس بعد آیا، کرتار پور کاریڈور 70 برس بعد بنا، سی اے اے سے ہندو، سکھ اور مسیحی برادری کے افراد کو شہریت 70 برس بعد ملی۔
- پہلی بار نابالغ بچیوں کے ریپ کے معاملے میں پھانسی کی سزا متعارف کروائی گئی۔ پہلی بار مسلم بہن بیٹیوں کو تین طلاق کے ظلم اور زیادتی سے نجات حاصل ہوئی۔
- کچھ لوگ سیاست بدلنے آئے تھے، ان کا نقاب اب اتر چکا ہے۔ ان کا اصل رنگ واضح ہو گیا ہے۔
اس کے علاوہ وزیر اعظم نریندر مودی نے عام بجٹ کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ نئی ٹیکس پالیسی سے لوگ زیادہ ٹیکس بچا سکیں گے اور کاروباری شخصیات کو بھی راحت ملے گی۔








