انڈیا میں پیاز کا بحران: بڑھتی ہوئی قیمتوں سے سیاست دان رونے پر مجبور

پیاز کا بیوپار

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپیاز انڈیا کی ایک بہت اہم سیاسی فصل ہے

انڈیا میں پیاز بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے گزشتہ ایک ہفتے سے ذرائع ابلاغ اور سیاست پر چھائی ہوئی ہے۔

بی بی سی کی مرھاٹی کی نامہ نگار جہانوی مولی نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ یہ سبزی اس قدر سیاسی کیوں ہے۔

پیاز یوں تو تقریباً ہر ہندوستانی پکوان کا ایک اہم جز ہے لیکن اسے ایک غریب آدمی کی سبزی قرار دیا جاتا ہے۔

پیاز میں چوروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی طاقت، لوگوں کا روز گار سنوارنے اور بگاڑنے کی صلاحیت اور اپنی بڑھتی، گھٹتی قیمتوں کی وجہ سے سیاست دانوں کی ناؤ ڈبونے اور پار لگانے کی قوت بھی موجود ہے۔

شاید اسی وجہ سے یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ سیاست دان اس ہفتے ہو سکتا ہے بہت پریشان ہوں ۔

انڈیا میں پیاز کے ساتھ ہو کیا رہا ہے؟

مختصر ترین الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پیاز کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔

پیاز کی قیمتیں اس سال اگست سے بڑھنا شروع ہوئیں جب آپ کو بازار میں ایک کلو پیاز 25 روپے میں مل جاتی تھی۔ اکتوبر تک یہ قیمت 80 روپے فی کلو تک پہنچ گئی تھی۔

اس خوف سے کہ پیاز کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے کہیں کوئی سیاسی مسئلہ نہ کھڑا ہو جائے، حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی نے پیاز برآمد کرنے پر پابندی لگا دی تا کہ مقامی منڈیوں میں پیاز کی قیمتوں کو مزید بڑھنے سے روکا جائے۔

پیاز کی فروخت.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنستمبر کے مہینے میں پیاز کی قیمتیں بہت بڑھ گئی تھیں

انڈیا کی مغربی ریاست مہاراشٹرا کے شہر لسلگاؤں میں، جو ایشیا میں پیاز کی آڑھت کی سب سے بڑی منڈی سمجھی جاتی ہے، جمعرات کو ایک کلو پیاز 30 روپے سے کم میں فروخت ہو رہی تھی۔

اس کے باوجود سب خوش نہیں ہیں۔

انڈیا کی کساد بازاری سے گزرتی ہوئی معیشت میں پیاز مہنگی ہونے سے صارفین اور عام آدمی کو پریشانی ہوئی تھی، اور اس کی گرتی ہوئی قیمتوں سے تنگ آ کر مہاراشٹرا میں پیاز برآمد کرنے والے اور کسانوں نے ریاستی اسمبلی کے انتخاب سے صرف چند ہفتے قبل احتجاج شروع کر دیا ہے۔

اس کی وجہ صرف مقامی سطح پر ہی پریشانی نہیں ہوئی بلکہ برآمد پر پابندی سے بیرونی سطح پر بھی مسائل پیدا ہوئے خاص طور پر ہمسایہ ملک بنگلہ دیش کے ساتھ جو انڈیا سے پیاز درآمد کرنے والا ایک بڑا ملک ہے۔

پیاز اتنی اہم کیوں ہے؟

پیاز ایسی سبزی ہے جو غریب اور امیر سب ہی انڈیا میں بہت کثرت سے استعمال کرتے ہیں اور یہ ہر ہندوستانی پکوان کا ایک لازمی جز ہے۔

ہندوستانی پکوانوں کی تاریخ مرتب کرنے والے ڈاکٹر موسنہا مکدم کا کہنا ہے کہ مہاراشٹرا اور ہندوستان کے بہت سے دوسرے علاقوں میں اگر کوئی سبزی خریدنے کی سکت نہیں رکھتا یا کوئی اور چیز دستیاب نہ ہو تو لوگ پیاز کے ساتھ ہی روٹی کھا لیتا ہے۔

یہ بات درست ہے کہ کئی علاقوں میں مذہبی وجوہات کی بنا پر پیازاتنی کثرت سے استعمال نہیں ہوتی جیسا کے انڈیا کے جنوبی اور بعض مشرقی علاقوں میں لوگ پیاز کھانے سے مکمل طور پر گریز کرتے ہیں۔

پیاز انڈیا کی کثیر آبادی والی ریاستوں میں بہت زیادہ استعمال کی جاتی ہے اور ان ہی ریاستوں کی منتخب اداروں میں نمائندگی زیادہ ہے۔

حکومتی پالیسیوں پر نظر رکھنے والے ملند مروگرکر کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے شمالی انڈیا میں بسنے والوں کا سیاست اور حکومت پر زیادہ اثر ہے۔ اگر دوسرے علاقوں سے قیمتوں کے بڑھنے کی شکایت آئے تو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن شمالی انڈیا سے ایسی کوئی شکایت آنے سے حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھتا ہے۔

People stand in a queue to buy onions sold at Rs. 22 per kg by the Government of India, outside Krishi Bhawan on September 24, 2019 in New Delhi, India.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنOnions are so ubiquitous that the government has been selling them at subsided rates

پیاز کی قیمتوں میں کمی مہاراشٹرا، کرناٹکا اور گجرات میں کسانوں کی کمائی پر اثر انداز ہوتی ہے۔

پیاز کے بارے میں خبریں کرنے کا وسیع تجربہ رکھنے والی صحافی دپتی روت نے کہا کہ کسانوں ان ریاستوں میں پیاز کو ہاتھوں ہاتھ بک جانے والی فصل سمجھتے ہیں جو بہت کم عرصے میں اور خشک موسم میں بھی اچھی پیداوار دیتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ پیاز کسانوں کے لیے اے ٹی ایم مشین کی طرح کام کرتی ہے جس سے انھیں فوراً پیسہ مل جاتا ہے اور ان کا گھر چلتا رہتا ہے۔

پیاز نے چوروں کو بھی اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ سنہ 2013 میں جب پیاز کی قیمتی بڑھ گئی تھیں تو پیاز سے بھرے ٹرک چرانے کی کوشش بھی کی گئی لیکن پولیس نے ان کو ناکام بنا دیا تھا۔

سیاست دانوں کو پیاز کی فکر کیوں لاحق رہتی ہے؟

سادہ الفاظ میں پیاز کی قیمتیں اگر کسی سمت میں ایک حد سے آگے نکل جائیں تو اس سے لوگوں کی ایک بڑی اکثریت متاثر ہوتی ہے چاہیے وہ روزمرہ کے خریدار ہوں، کسان ہوں یا برآمد کنندگان۔

نئی دہلی.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننئی دہلی کی حکومت نے پیاز کم نرخ پر مہیا کرنے کا اہتمام کیا

پیاز اتنی اہم ہے کہ ان کا ذکر انتخابی مہم میں کیا جاتا ہے۔

اس سال ستمبر میں جب پیاز کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی تھی تو دہلی کی ریاستی حکومت نے اس کی امدادی قیمت مقرر کر دی۔

ماضی میں اندرا گاندھی بھی سنہ 1980 میں پیاز کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو حکومت کی معاشی پالیسی کی ناکامی قرار دے کر اپنا راستہ ہموار کیا تھا۔

اس برس پیاز کی قیمتوں میں اضافہ کیوں ہوا؟

ڈائریکٹر آف نیشنل ایگرکلچر کواپریٹو فیڈریشن ناناصاحب پٹل کا کہنا تھا کہ بارشوں اور سیلاب سے وسیع علاقوں میں پیاز کی فصل تباہ ہونے کے باعث رسد کم ہو گئی اور اس کے علاوہ 35 فیصد زخیرہ کی ہوئی پیاز بھی بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ بارشوں کی وجہ سے اگلی فصل جسے ستمبر میں آنا تھا وہ بھی تاخیر کا شکار ہو گئی۔

.پیاز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپیاز کے بغیر کوئی کھانا نہیں بن سکتا

موگروکر نے کہا کہ یہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک عام بات ہو گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پیداوار میں تھوڑی سی کمی بیشی سے ایک دم قیمتیں گرنے یا بڑھنے لگتی ہیں۔

روت نے کہا کہ کمی اور اس کے بعد قیمتوں میں اضافہ ہر سال کا معمول بن گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے اور کمی سے تاجر اور آڑھت کرنے والے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

حل کیا ہے؟

روت نے کہا کہ بہتر منصوبہ بندی بلکہ نچلی سطح پور اور پیاز ذخیرہ کرنے کی بہتر سہولیات سے بڑی حد تک مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے اور پیاز کی طلب کو کم کرنے کے لیے دیگر سبزیوں کی پیداوار اور ملک میں دستیابی کو بہتر بنا کر بھی کیا جا سکتا ہے۔

حکومت نے پیاز کی قیمت بڑھتے ہی فوری کارروائی کی۔ مہاراشٹرا کے ایک کسان وکاس داریکر نے کہا کہ حکومت اس وقت کچھ کیوں نہیں کرتی جب پیاز کی قیمتیں نیچے گر جاتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ کسانوں سے براہ راست پیاز خریدے تاکہ اس کی قیمتوں کو استحکام فراہم کیا جا سکے۔