یہ تحریر بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر پہلی مرتبہ دسمبر 2019 میں شائع کی گئی تھی، جسے آج دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔
37 سال قبل انڈیا کے شہر بھوپال میں یونین کاربائڈ کیمیکل پلانٹ میں گیس کے اخراج سے ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے تھے اور اس انڈین شہر پر ہزاروں ٹن زہریلی گیس پھیل گئی تھی۔
پہلے چوبیس گھنٹوں میں کم سے کم 3000 افراد ہلاک ہوئے اور بعد میں ہونے والے اثرات سے مزید ہزاروں لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اس طرح یہ شہر دنیا میں صنعتی تباہی کی ایک بدترین مثال بن گیا۔
بھوپال میں کیمیائی تباہی کے نتیجے میں ہزاروں افراد پھیپھڑوں کی مہلک بیماریوں میں بھی مبتلا ہوئے اور بے شمار ایسے تھے جو زندگی بھر کے لیے معذوریوں کا شکار ہو گئے۔
فوٹوگرافر جُدھا پاسو اس کیمیکل پلانٹ کے سائے میں زندگی گزارنے والوں کی تصویر کشی کر رہے ہیں۔ یہاں ان کی کچھ تصاویر پیش کی جا رہی ہیں۔
،تصویر کا ذریعہJudah Passow
،تصویر کا کیپشنشاکر علی خان ہسپتال میں سانس کی دشواریوں کے شکار ایک مریض کا ایکسرے کیا جا رہا ہے۔ یہ مریض نوجوان تھے جب دھماکے کے نتیجے میں خارج ہونے والی زہریلی گیس نے ان کے نظام تنفس کو متاثر کیا
،تصویر کا ذریعہJudah Passow
،تصویر کا کیپشنبھوپال کے چیراؤ کینسر ہسپتال میں ڈاکٹر ایک ایسے شخص کا معائنہ کر رہے ہیں جو تباہ ہونے والے پلانٹ کے نزدیک رہتے ہیں۔ کیمیائی تباہی کے خلاف مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ اس کے اثرات سے تقریباً 20000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور بے شمار ایسے ہیں جو معذوریوں کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں
،تصویر کا ذریعہJudah Passow
،تصویر کا کیپشنبھوپال کے بلیو مون علاقے میں متروک شدہ کیمیائی پلانٹ کی دیوار کے باہر ایک رہائشی۔ سنہ 1984 میں متاثرہ علاقے میں 550،000 سے زیادہ افراد رہائش پذیر تھے جو بھوپال کی آبادی کا دو تہائی ہے
،تصویر کا کیپشنایک گھر کو چمڑے کے پائپوں کے ذریعے تازہ پانی فراہم کیا جارہا ہے کیونکہ سائنس دانوں اور مہم چلانے والوں کے خیال میں ابھی تک مٹی اور زمینی پانی میں کیمیکل کا اخراج جاری ہے
،تصویر کا ذریعہJudah Passow
،تصویر کا کیپشنبھوپال کے چنگاری ٹرسٹ فزیکل تھراپی کلینک میں نشا (بائیں ) اور ان کی دوست۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ زہریلی گیس پھیلنے کے اثرات سے اب بھی بچے معذوریوں کے ساتھ پیدا ہو رہے ہیں
،تصویر کا ذریعہJudah Passow
،تصویر کا کیپشنپراچی چگ، دماغی فالج اور ذہنی نشوونما سے متعلق دشواریوں کا شکار ہیں۔ دھماکے کی رات پراچی کی والدہ کو زہریلی گیس والے علاقے میں سانس لینا پڑا تھا جس کے اثرات وہ اور ان کا بیٹا اب تک بھگت رہے ہیں
،تصویر کا ذریعہJudah Passow
،تصویر کا کیپشنبھوپال کے سمبھونا ٹرسٹ کلینک میں ایک مریض کی ’سٹِیم تھراپی‘ کی جا رہی ہے۔ اس کلینک میں روایتی انڈین آیورویدک دوائیوں کا استعمال کرتے ہوئے متاثرین کا علاج کیا جاتا ہے
،تصویر کا ذریعہJudah Passow
،تصویر کا کیپشنچنگاری ٹرسٹ فزیکل تھراپی کلینک میں زیرِ علاج رہنے والے بچوں کے ہاتھوں کے نشان
،تصویر کا ذریعہJudah Passow
،تصویر کا کیپشنبھوپال کے اوریا علاقے میں پرائمری سکول طلبا کھیلتے نظر آرہے ہیں۔ اس سکول کی بنیاد ڈومینک لاپیئر فاؤنڈیشن کے فنڈز سے رکھی گئی تھی۔ یہ فاؤنڈیشن لیپیئر اور جیویر مورو کی کتاب ’فائیو پاسٹ مڈ نائٹ‘ کی آمدن سے سمبھونا ٹرسٹ کلینک کو بھی امداد فراہم کرتی ہے
،تصویر کا ذریعہJudah Passow
،تصویر کا کیپشنتاہم اس سکول کا مستقبل غیر یقینی ہے
،تصویر کا ذریعہJudah Passow
،تصویر کا کیپشنسنہ 1989 میں انڈیا کی سپریم کورٹ نے متاثرہ افراد کو دیئے جانے والے معاوضے کو ’منصفانہ‘ کہتے ہوئے قبول کر لیا تھا تاہم بہت سے افراد کا ماننا ہے کہ مزید معاوضے کے ساتھ علاقے کی صفائی بھی ضروری ہے۔ تین برس قبل بھوپال میں حادثے کے 34 سال مکمل ہونے پر متاثرین ایک مظاہرے میں شامل ہیں