گیس سانحہ: 25 برس پہلے ہوا کیا تھا؟

چھبیس سال کے طویل انتظار کے بعد بھوپال گیس سانحے میں ہزاروں افراد کی موت کے لیے بالآخر کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ عدالت نے آٹھ افردا کو مجرمانہ غفلت کاقصوروار قرار دیا ہے جس کی سزا زیادہ سے زیادہ دو سال قید ہے۔

اس سانحہ میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس کی وجہ سے اب بھی اس علاقے کے لوگ دیگر معزوریوں کا شاکار ہیں۔

لیکن اس رات ہوا کیا تھا؟ اور ان چھبیس سالوں میں کیا کچھ ہوا؟

یونین کاربائیڈ فیکٹری
،تصویر کا کیپشنبھوپال گیس سانحہ میں ہزاروں افراد متاثر ہوئے تھے

بھوپال گیس سانحہ کو بچیس برس سے میادہ عرصہ گزر چکا ہے لیکن نہ ابھی اس خوفناک رات کی یاد ہی دھندلی ہوئی ہے اور نہ ہی یونین کاربائڈ کی فیکٹری سے رسنے والی گیس کی زد میں آنے والوں کے زخم بھرے ہیں۔

دو اور تین دسمبر انیس سو چوراسی کی درمیانی رات تھی کہ اچانک کھاد بنانے والی اس فیکٹری سے زہریلی گیس رسنا شروع ہوگئی۔ رات کے تقریباً بارہ بج رہے تھے، کڑا کے کی سردی تھی اور لوگ اپنے گھروں میں سوئے ہوئے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ انتہائی زیریلی (میتھائل اسوسائنیٹ) گیس چاروں طرف پھیل گئی۔ بڑی تعداد میں لوگ نیند سے اٹھے ہی نہیں، جو اٹھ سکے ان کے پاس بھاگ کر جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔

سب سے زیادہ متاثر فیکٹری کے گرد و نواح میں کچی بسیتوں میں رہنے والے لوگ ہوئے لیکن بھوپال شہر بھی محفوظ نہیں رہا۔ بڑی تعداد میں لوگ، جس حال میں بھی تھے، جان بچانے کے لیے شہر چھوڑ کر بھاگ رہے تھے۔

حکومت نے پہلے تقریباً چار ہزار اموات کا اعتراف کیا، لیکن دیگر آزاد ذرائع کا دعوی ہے کہ پہلے بہتر گھنٹوں میں ہی آّٹھ سے دس ہزار لوگ مارے گئے تھے جبکہ اس کے بعد زہریلی گیس کی زد میں آنے والی پیچیدگیوں نے تقریباً پچیس ہزار لوگوں کی جان لی اور بڑی تعداد میں لوگ آج بھی مختلف تکلیف دہ بیماریوں کا شکار ہیں۔

لاش
،تصویر کا کیپشنلاشوس کو اجمتماعی قبروں میں دفنایا گیا، ان میں بچوں کی بڑی تعداد شامل تھی

لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دفنایا گیا لیکن گیس کی زد میں آنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ زندہ بچ جانے والوں کو فوری طبی امداد فراہم نہیں کی جاسکی۔ اور وہ آج تک اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔

ماہرین دعوی کرتے ہیں کہ بہت سی متاثرہ عورتوں کے بچے آج بھی جسمانی اور ذہنی معذوریوں کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں اور اس فیکٹری کی وجہ سے آلودہ ہوجانے والا آس پاس کا زیر زمین پانی آج بھی ’سلو پائزن‘ (آہستہ آہستہ کام کرنے والے زہر) کا کام کرتا ہے۔

لیکن اس کے باجود متاثرین کی داد رسائی آج تک ممکن نہیں ہوئی ہے۔ یونین کاربائڈ ایک انہتائی بااثر کثیر قومی کمپنی ہے جس کے خلاف متاثرین نےاگرچہ لمبی قانونی جنگ لڑی لیکن معاوضے کے نام پر کچھ خاص ان کے حصے میں نہیں آیا۔

انیس سو نواسی میں سپریم کورٹ کے ثالثی کے بعد یونین کاربائڈ چار سو ستر ملین ڈالر بطور معاوضہ ادا کرنے پر تیار ہوئی لیکن اس رقم کا تعین کرتے وقت متاثرین کی تعداد ایک لاکھ اور مرنے والوں کی صرف تین ہزار مانی گئی تھی۔

گیس متاثرین کی نمائندگی کرنے والے عبدالجبار کے مطابق عام طور پر بطور معاوضہ صرف پچیس ہزار روپے کی رقم تقسیم کی گئی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ایک عدالت نے معاوضے کے تقریباً پونے چھ لاکھ دعووں کو جائز ٹھہرایا تھا اور یہ تسلیم کیا تھا کہ اس حادثےکے نتیجے میں پندرہ ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھےجو ابتدائی تخمینوں سے پانچ گنا زیادہ ہے۔

بین الاقوامی ماہرین کے مطابق اگر امریکی معیار کے مطابق معاوضہ ادا کیا جاتا تو یونین کاربائڈ کو دس ارب ڈالر ادا کرنے پڑتے۔

جہاں تک اس سانحے کے لیے کسی کو ذمہ دار ٹھہرانے کا سوال ہے، یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی کو قصوروار ٹھہرایا گیا ہے۔ یونین کاربائڈ کے سربراہ وارین اینڈرسن حادثے کے چند روز بعد ہندوستان آئے تھے اور انہیں گرفتار کرلیا گیا تھا لیکن ضمانت پر رہائی کے بعد انہیں امریکہ واپس جانے دیا گیا۔

اس کے بعد سے مختلف ہندوستانی عدالتوں کے حکم کے باوجود وارین اینڈرسن نے ہندوستان آنے سے صاف انکار کیا ہے اگرچہ ان پرالزام ہے کہ ان کی (کمپنی کی) لاپرواہی کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کی جانیں گئی تھی۔

اب وہ ریٹائرڈ ہیں اور امریکی ریاست ٹیکساز میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ہندوستان میں مبصرین کا الزام ہے کہ حکومت نے امریکہ کے ساتھ حوالگی کا معاہدہ ہونے کے باوجود انہیں مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے ہندوستان لانے کی زیادہ کوشش نہیں کیونکہ وہ غیر ملکی سرمایہ کاروں میں تشویش اور خوف پیدا کرنے سے بچنا چاہتی تھی۔

متاثرین کی جانب سے امریکی عدالتوں کا بھی دروازہ کھٹکھٹایا گیا لیکن امریکی عدالتوں کا موقف تھا کہ یہ معاملہ ان کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔

بھوپال میں اب اس فیکٹری کی جگہ ایک یادگار تعمیر کرنے کی تجویز ہے جس پر ریاست مدھیہ پردیش کی حکومت کے مطابق ایک سو پچیس کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔

یاد گار تو شاید تعمیر ہوجائے گی لیکن فیکٹری کے آس پاس کی زمین اور پانی کو خطرناک کیمیاوی مادوں سے صاف کرنے اور اسے مقامی لوگوں کے لیے محفوظ بنانے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

عبدالجبار کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ بھوپال دلی سے بہت دور ہے۔ دلی کے ایک سنیما گھر میں آگ لگی تھی تو مرنے والوں کے ورثہ کو اٹھارہ لاکھ روپے معاوضہ دیا گیا تھا۔

یہ لوگ بھی دم گھٹنے سے مرے تھے۔ لیکن گیس کی نوعیت مختلف تھی اسی لیے شاید معاوضے کی بھی۔