بھوپال گیس سانحہ: آٹھ افراد قصوروار

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں زہریلی گیس کے اخراج سے ہزاروں افراد کی ہلاکت کے چھبیس سال بعد ایک ذیلی عدالت نے سبھی آٹھ ملزمان کو قصوروار پایا ہے۔

بھوپال گیس سانحہ کے متاثرین(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنبھوپال گیس سانحہ کے متاثرین گزشتہ چھبیس سال سے انصاف کا مطالبہ کررہے ہیں

اس مقدمے میں ملزمان پر الزام تھا کہ ان کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے بہت سے لوگوں کی موت ہوئی تھی۔ ابھی سزا نہیں سنائی گئی ہے لیکن اس الزام کے تحت زیادہ سے زیادہ دو سال کی قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔

پچیس سال کی قانونی کارروائی کے بعد عدالت نے مقدمے کی سماعت تیرہ مئی کو مکمل کی تھی۔ اس دوران ایک سو اٹھہتر گواہ اور تین ہزار دستاویزات پیش کیے گئے۔

پولیس نے تین دسمبر انیس سو چوراسی کو بھوپال گیس سانحے کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کی تھی اور بعد میں تفتیش سی بی آئی کو سونپ دی گئی تھی۔

انیس سو چوراسی میں دو اور تین دسمبر کی نصف رات کے قریب کھاد بنانے والی کثیر قومی کمپنی یونین کاربائڈ کی فیکٹری سے زہریلی گیس، میتھائل آئسو سائنیٹ، رسنا شروع ہوئی تھی جس سے ہزاروں لوگ مارے گئے اور لاکھوں کو جسمانی اور ذہنی معذوری کا شکار ہوگئے۔

ان آٹھ لوگوں پر الزام تھا کہ ان کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا تھا جس کے نتیجےمیں ہزاروں لوگوں کی موت ہوئی تھی۔ تعزیرات ہند کی جس دفع کے تحت یہ مقدمہ چلایا گیا اس میں زیادہ سےزیادہ دو سال کی سزا کی گنجائش ہے۔

ملزمان میں سے ایک کا مقدمے کی سماعت کے دوران ہی انتقال ہو گیا تھا۔ باقی سات افراد پر ایک ایک لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے اور سبھی کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔

عدالت نے یونین کاربائڈ انڈیا لیمیٹڈ کو بھی قصوروار ٹھہراتے ہوئے کمپنی پر پانچ لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا۔ یہ کمپنی اب بند ہوچکی ہے۔

فیصلے کے بعد بڑی تعداد میں متاثرین اور اور شہری حقوق کی تنظیموں نے عدالت کے بارہ مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ جو سزائیں دی گئی ہیں وہ ملزمان کے گناہ سے متناسب نہیں ہیں۔

یہ دنیا کا سب سے بڑا صنععتی حادثہ مانا جاتا ہے۔

اب سے تقریبا چھبیس برس پہلے دو اور تین دسمبر انیس سو چوراسی کی درمیانی رات تھی کہ اچانک کیڑے مارنے والی دوائی کی اس فیکٹری سے زہریلی گیس رسنا شروع ہوگئی۔ رات کے تقریباً بارہ بج رہے تھے، کڑا کے کی سردی تھی اور لوگ اپنے گھروں میں سوئے ہوئے تھے۔

دیکھتے ہی دیکھتے یہ انتہائی زیریلی (میتھائل اسوسائنیٹ) گیس چاروں طرف پھیل گئی۔ بڑی تعداد میں لوگ نیند سے اٹھے ہی نہیں، جو اٹھ سکے ان کے پاس بھاگ کر جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔

سب سے زیادہ متاثر فیکٹری کے گرد و نواح میں کچی بسیتوں میں رہنے والے لوگ ہوئے لیکن بھوپال شہر بھی محفوظ نہیں رہا۔ بڑی تعداد میں لوگ، جس حال میں بھی تھے، جان بچانے کے لیے شہر چھوڑ کر بھاگ رہے تھے۔

حکومت نے پہلے تقریباً چار ہزار اموات کا اعتراف کیا، لیکن دیگر آزاد ذرائع کا دعوی ہے کہ پہلے بہتر گھنٹوں میں ہی آّٹھ سے دس ہزار لوگ مارے گئے تھے جبکہ اس کے بعد زہریلی گیس کی زد میں آنے والی پیچیدگیوں نے تقریباً پچیس ہزار لوگوں کی جان لی اور بڑی تعداد میں لوگ آج بھی مختلف تکلیفدہ بیماریوں کا شکار ہیں۔