آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا، گیس سانحہ: حادثے کے 37 سال بعد بھوپال میں رہنے والوں کی زندگی کیسی ہے؟
یہ تحریر بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر پہلی مرتبہ دسمبر 2019 میں شائع کی گئی تھی، جسے آج دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔
37 سال قبل انڈیا کے شہر بھوپال میں یونین کاربائڈ کیمیکل پلانٹ میں گیس کے اخراج سے ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے تھے اور اس انڈین شہر پر ہزاروں ٹن زہریلی گیس پھیل گئی تھی۔
پہلے چوبیس گھنٹوں میں کم سے کم 3000 افراد ہلاک ہوئے اور بعد میں ہونے والے اثرات سے مزید ہزاروں لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اس طرح یہ شہر دنیا میں صنعتی تباہی کی ایک بدترین مثال بن گیا۔
بھوپال میں کیمیائی تباہی کے نتیجے میں ہزاروں افراد پھیپھڑوں کی مہلک بیماریوں میں بھی مبتلا ہوئے اور بے شمار ایسے تھے جو زندگی بھر کے لیے معذوریوں کا شکار ہو گئے۔
فوٹوگرافر جُدھا پاسو اس کیمیکل پلانٹ کے سائے میں زندگی گزارنے والوں کی تصویر کشی کر رہے ہیں۔ یہاں ان کی کچھ تصاویر پیش کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تمام تصاویر متعلقہ فوٹو گرافر کی ملکیت ہیں۔