سانحۂ بھوپال اور انتخابات

- مصنف, خدیجہ عارف
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، بھوپال
عام اتنخابات آتے ہی ووٹ مانگنے کے لالچ میں سیاسی پارٹیاں ہر چھوٹے بڑے مسئلے کو انتخابی اشو بناکر یہ کوشش کرتی ہیں کہ انکی جھولی میں جتنے زیادہ ووٹ آجائیں اتنا بہتر۔مگر بھوپال جیسے شہر میں جہاں اب سے 24 برس پہلے کیڑے مار دوا بنانے والے کارخانے یونین کاربائیڈ سے زہریلی گیس کے اخراج کی وجہ سے آج بھی لاکھوں افراد زہریلا پانی پینے پر مجبور ہیں۔ انہیں علاج کے لیے صحت کی سہولتیں میسر نہیں ہیں اور ان کے بچے معذروی اور بیماریوں کا شکار ہیں۔ ان لوگوں کے مسائل کسی بھی سیاسی پارٹی کے لیے اہم انتخابی اشو نہیں ہیں۔
ایک لمبے وقت سے بھوپال گیس متاثرین کے لیے کام کرنے اور ان کے لیے ہسپتال چلانے والے ستی ناتھ سارنگی کا کہنا ہے کہ بھوپال گیس متاثرین کی حالت 1984 کی اس رات سے بھی بدتر ہے جب گیس کا اِخراج ہوا تھا۔ حکومت کی طرف سے ان کے لیے سماجی سیکورٹی نہیں ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود کوئی بھی پارٹی انہیں الیکشن میں انتخابی اشو نہیں بناتی۔ ’اگر گیس ٹریجڈی کبھی انتخابی اشو بنا ہے تو وہ بھی غلط وجوہات سےاور اسے اشو بنایا ہے بھارتیہ جنتا پارٹی نے جسے سب ہی پارٹیوں نے سپورٹ کیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اصل میں گیس متاثرین کی بات نہیں کی بلکہ ہندو اکثریت والے ان 20 ایسے نئے وارڈز کے لوگوں کو معاوضہ دینے کی بات کی جو گیس کے اخراج سے متاثر ہی نہیں ہوئے تھے۔ اور یہی وجہ ہے کہ مرکزی حکومت، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی جانب سے یہ مطالبہ مسترد کردیا گیا۔‘
بھوپال میں سینیئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار ناصر کمال کا کہنا ہے کہ بھوپال گیس متاثرین 1990 سے پہلے تک اتنخاب کا اہم اشو بنتے تھے اور اس بنیاد پر سیاسی پارٹیوں کا مستقبل طے بھی ہوتا تھا لیکن ’جب سے بابری مسجد منہدم ہوئی اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے مندر بنانے کو انتخابی مہم کا حصہ بنایا تب سے ایک نئی سوچ کو جنم ملا جو گیس متاثرین کے بارے میں سنجیدہ نہیں تھی۔‘
ان کا کہنا ہے کہ بیشتر گیس متاثرین مسلمان اور غریب طبقے کے لوگ ہیں اور ہندوستان میں مسلمان اور غریب طبقے کو بھلا دینا ویسے بھی آسان ہوتا ہے۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ خود گیس متاثرین نے بھی امید چھوڑ دی ہے اور ہار مان لی ہے۔
بھوپال گیس سانحہ کی متاثرہ اور متاثرین کے لیے کام کرنے والی سرکردہ سماجی کارکن رشیدہ بی کا کہنا ہے کہ متاثرین نے اپنی جنگ نہیں چھوڑی ’ہم نے گزشتہ ایک برس میں دلی تک کئی بار اپنے مطالبات منوانے کے لیے پیدل سفر کیا، ہڑتالیں کیں اور آج بھی ہم اپنی لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں‘۔
جب میں نے گیس متاثرین کی بستیوں میں جاکر یہ جاننا چاہا کہ ان کے مسائل کیا ہیں اور سیاسی پارٹیوں سے ان کے کیا شکوے ہیں تو ہر انسان کی کہانی الگ تھی۔ ان میں سے بیشتر میں 24 سال پہلا درد تازہ تھا۔ سب ہی متاثرین کا کہنا تھا کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی ان کے بارے میں نہیں سوچتی۔
مدھیہ پردیش میں گزشتہ پانچ برس سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے اور اسمبلی انتخابات میں بھی بھوپال لوک سبھا حلقے کی سیٹ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبر پارلیمان کیلاش جوشی کے ہاتھ آئی تھی۔
بھوپال میں کانگریس پارٹی کے ترجمان مانک اگروال کا کہنا ہے کہ ’1984 سے لے کر اب تک صرف کانگریس پارٹی ایک ایسی پارٹی ہے جس نے گیس متاثرین کے لیے کام کیا ہے ان کو معاوضے دلوائے اور ان کی باز آبادکاری کا کام کیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے دور میں ان کی فلاح کے لیے کوئی کام نہیں کیا گیا‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارتیہ جنتا پارٹی کے کیلاش جوشی کا کہنا ہے ’میں ہمیشہ گیس متاثرین کے فلاح کی بات کرتا ہوں۔ گیس متاثرین کے لیے بنائے گئے کمیشن کے سربراہ سے میں نے کئی بار بات کی ہے اور عوام مجھے ایک بار پھر موقع دیتی ہے تو میں بھوپال گیس متاثرین کی باز آبادکاری کو ترجیح دونگا‘۔
ہمیشہ کی طرح سیاسی پارٹیاں بھوپال گیس متاثرین کے معاملے پر اپنا دامن جھاڑ کر ایک دوسرے پر الزام تراشی کررہی ہیں لیکن وہ عوام جواپنے جمہوری حق کا استمعال کرکے سیاسی پارٹیوں کا اقتدار کا موقع دیتے ہیں ان سے امید کرتے ہیں کہ وہ انہیں ایک صحت مند اور عزت کی زندگی دینے میں مدد کریں۔ یہی وہ امید ہے جس کی وجہ سے گیس متاثرین اتنی تکلیفوں کے باوجود ووٹ نہ ڈالنے کے بارے میں سوچتے بھی نہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ووٹ ضرور ڈالیں گے شاید کوئی ان کی بات سن لے۔







