راہل گاندھی: ’کشمیر میں حالات ٹھیک نہیں‘

راہل گاندھی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کی حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے سرینگر داخل ہونے سے روکے جانے کے بعد انڈیا واپسی پر کہا ہے کہ صاف ظاہر ہے کہ کشمیر میں صورت حال ٹھیک نہیں ہے۔

دہلی ایئر پورٹ واپس پہنچنے پر راہل گاندھی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جو صحافی اور ذرائع ابلاغ کے نمائندے ان کے ساتھ تھے ان میں سے کچھ کو سکیورٹی اہلکاروں نے سرینگر ایئرپورٹ پر زدوکوب کیا۔

انھوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے مار پیٹ اور نامناسب سلوک کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ انھیں ایئرپورٹ سے باہر نکلنے نہیں دیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ یہ بہت افسوسناک بات ہے۔

یہ بھی پڑھیے

راہل گاندھی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس سے قبل راہل گاندھی حزب اختلاف کی جماعتوں کے رہنماؤں کے 12 رکنی وفد کی سربراہی کرتے ہوئے کشمیر کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے سرینگر پہنچے تھے۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کا یہ وفد بذریعہ ہوائی جہاز سرینگر پہنچا تھے لیکن حکام نے انھیں ایئرپورٹ سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی۔

12 رکنی یہ وفد انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں زیر حراست سیاسی رہنماؤں سے ملنے کے علاوہ جموں اور کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کرنا چاہتا تھا۔

سرینگر میں موجود بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق میڈیا کے نمائندوں کو ایئرپورٹ سے ایک کلومیٹر دور روک دیا گیا۔ رہنماؤں کو ایئرپورٹ سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی اور انھیں واپس بھیجا دیا گیا۔

دوسری جانب انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور نے بتایا کہ 23 اگست کی شب حکومت کے تعلقات عامہ کے ادارے کی جانب سے ایک ہدایت جاری کی گئی ہے جس میں کہا گیا کہ اپوزیشن رہنماؤں کو ایسے وقت میں دورہ نہیں کرنا چاہیے جب یہاں دفعہ 144 نافذ ہے۔

غلام نبی آزاد

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان کا کہنا تھا کہ انڈین حکومت کے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اپوزیشن رہنماؤں کے آنے سے دفعہ 144 کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔

اس سے پہلے بھی سینیئر رہنما غلام نبی آزاد دوبار سرینگر اور جموں ایئر پورٹ سے واپس دہلی بھجوائے جا چکے ہیں۔

زیر حراست سیاسی رہنماؤں کے بارے میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے جاری ایک حکم نامے کے مطابق تین مقامات کو سب جیل میں تبدیل کیا گیا تھا جن میں سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی اور کچھ کانگریس کے رہنماؤں کو رکھا گیا ہے۔

23 اگست کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عمر عبداللہ نے سہولیات کے حوالے سے شکایت کی تھی جس کے بعد ڈویژنل کمشنر بشیر خان نے افسروں کے وفد کے ساتھ ان سے ملاقات کی اور یقین دہانی کرائی۔

YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

YouTube پوسٹ کا اختتام

انھوں نے بتایا انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں گذشتہ روز نماز جمعہ کے اجتماع کے پیش نظر سخت کی گئی پابندیوں میں سنیچر کے روز کچھ نرمی کر دی گئی ہے۔ تاہم کاروباری اور تعلیمی سرگرمیاں مسلسل بند ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انڈین حکومت کی جانب سے یہ ایک طرح کا معمول بن گیا ہے کہ جب جمعہ یا کوئی بڑا دن ہو تو پابندیاں سخت کر دی جاتی ہیں لیکن اگلے دن پابندیوں میں نرمی آ جاتی ہے۔ شہر کے مخصوص علاقوں کے علاوہ سڑکوں پر نجی ٹریفک چل رہی ہے۔

تاہم دو چیزوں پر سختی سے عمل ہو رہا ہے۔ مواصلاتی نظام بشمول انٹرنیٹ اور فون بند ہیں اور دوسرا معاملہ گرفتاریوں کا ہے۔ گرفتاریوں کے بارے میں اعداد و شمار نہیں دیے جا رہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا تھا کہ جن علاقوں کا انھوں نے دورہ کیا ہے وہاں ایسا کوئی پولیس تھانہ نہیں جہاں والدین کی بھیڑ اپنے بچوں کی رہائی کے لیے جمع نہ ہو۔

کشمیر
،تصویر کا کیپشنصورہ کے مقام پر ہی انڈیا مخالف احتجاج میں مظاہرین پر پولیس کی شیلنگ اور چھرے لگنے سے متعدد افراد زخمی ہوئے تھے

ان کا کہنا تھا کہ محتاط اور غیر سرکاری اندازوں کے مطابق ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے صرف ایسے نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے جو سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرتے تھے، امن میں خلل ڈالتے تھے اور نجی یا سکیورٹی فورسز کی گاڑیوں پر پتھراؤ کرتے تھے۔

خیال رہے کہ جمعے کو انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگر کے علاقے صورہ میں نماز جمعہ کے بعد ہونے والے مظاہرے میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئی تھیں۔

کانگرس کے رہنما منیس تیواڑی نے 23 اگست کو پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ اگر کشمیر میں حالات ٹھیک ہیں تو پھر حکومت مواصلات کو بحال کیوں نہیں کرتی اور لاک ڈاؤن ختم کیوں نہیں کر دیتی۔

اپوزیشن جماعتوں نے جمعرات کو پارلیمان کے باہر سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریوں کے خلاف مظاہرہ کیا۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ سیاسی رہنماؤں اور ہزاروں کی تعداد میں گرفتار ہونے والے نوجوانوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔