کشمیر تصاویر میں: سکول تو کھلے لیکن بچے غیر حاضر

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی صورت حال بدستور خراب ہے اور حکومتی اعلان کے باوجود سکولوں میں تدریسی عمل شروع نہیں ہو سکا ہے۔

سری نگر

،تصویر کا ذریعہAbid Bhat, Sri Nagar

،تصویر کا کیپشنانڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں سکیورٹی پابندیوں کے لگائے جانے کے 15 ویں روز بھی حالات معمول پر نہیں آ سکے ہیں۔
سری نگر

،تصویر کا ذریعہAbid Bhat, Sri Nagar

،تصویر کا کیپشنحکومت کی طرف سے پرائمری جماعت تک تعلیمی ادارے کھولے جانے کے اعلان کے باوجود کسی سکول میں بھی تدریسی عمل شروع نہیں ہو سکا۔
سری نگر

،تصویر کا ذریعہAbid Bhat, Sri Nagar

،تصویر کا کیپشنانڈین اخبار 'دی ایکسپریس' میں سکول کھلنے کی خبر کو اس شہ سرخی کے ساتھ شائع کیا گیا 'جموں و کشمیر میں تعلیمی ادارے کھل گئے لیکن بچوں کی ریکارڈ غیر حاضری۔'
سری نگر

،تصویر کا ذریعہAbid Bhat, Sri Nagar

،تصویر کا کیپشنانڈیا کے ایک اور مقتدر اخبار میں یہ خبر اس سرخی کے ساتھ شائع کی گئی کہ 'استاد تو سکول آئے لیکن بچے نہیں۔'
سری نگر

،تصویر کا ذریعہAbid Bhat, Sri Nagar

،تصویر کا کیپشنگذشتہ شب سرینگر میں مقامی انتظامیہ نے تعلیمی ادارے کھولنے اور جزوی طور پر موبائل کی ٹو جی سروس بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔
سری نگر

،تصویر کا ذریعہAbid Bhat, Sri Nagar

،تصویر کا کیپشنلیکن چند گھنٹوں بعد ہی انتظامیہ نے اپنے اعلان کے برعکس موبائل فون سروس کو دوبارہ مکمل طور پر بند کر دیا اور تعلیمی ادارے کھولنے کے فیصلے کو بدلتے ہوئے کہا کہ صرف پانچویں جماعت تک سرکاری سکول بند رہیں گے۔
سری نگر

،تصویر کا ذریعہAbid Bhat, Sri Nagar

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت والی آئینی شق کے خاتمے کے بعد وادی میں سکیورٹی لاک ڈاؤن اور مواصلاتی رابطوں کی بندش کے بعد سے بچوں کی پڑھائی بھی مثاثر ہوئی ہے۔
سری نگر

،تصویر کا ذریعہAbid Bhat, Sri Nagar

،تصویر کا کیپشنیاد رہے کہ مودی حکومت نے ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرنے کے یک طرفہ اعلان سے قبل ہی پورے علاقے میں سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے تھے۔
سری نگر

،تصویر کا ذریعہAbid Bhat, Sri Nagar

،تصویر کا کیپشناے ایف پی کے مطابق شہر میں 190 پرائمری سکول ہیں اور ان میں سے صرف نصف درجن سکولوں میں چند بچے ہی دیکھے گئے۔
سری نگر

،تصویر کا ذریعہAbid Bhat, Sri Nagar

،تصویر کا کیپشننامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق سرینگر میں تجارتی ادارے، کاروبار مراکز اور سکول مکمل طور پر بند ہیں۔
سری نگر

،تصویر کا ذریعہAbid Bhat, Sri Nagar

،تصویر کا کیپشنانڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں تازہ ترین صورت حال کے بارے میں اپنے سامعین کو قابل بھروسہ خبریں فراہم کرنے کے لیے بی بی سی اردو نے نشریات میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔
سری نگر

،تصویر کا ذریعہAbid Bhat, Sri Nagar

،تصویر کا کیپشن’نیم روز‘ کے نام سے ان خصوصی نشریات کا آغاز پیر 19 اگست سے کیا گیا ہے جس میں روزانہ 15 منٹ کا خصوصی ریڈیو پروگرام پیش کیا جائے گا۔
سری نگر

،تصویر کا ذریعہAbid Bhat, Sri Nagar

،تصویر کا کیپشنآپ نیم روز ہفتے کے ساتوں دن سن سکیں گے جو پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق دن کے 12 بجے، جبکہ انڈیا کے معیاری وقت کے مطابق دن کے 12 بجکر 30 منٹ پر نشر کیا جائے گا۔
سری نگر

،تصویر کا ذریعہAbid Bhat, Sri Nagar

،تصویر کا کیپشننیم روز آپ شارٹ ویو پر 15310 کلو ہرٹز اور 13650 کلو ہرٹز پر سن سکتے ہیں۔
سری نگر

،تصویر کا ذریعہAbid Bhat, Sri Nagar

،تصویر کا کیپشنبی بی سی کی نشریات میں اضافے کی تفصیل بتاتے ہوئے عالمی سروس کے ڈائریکٹر جیمی اینگس کا کہنا تھا کہ 'عالمی سروس کا بنیادی مقصد دنیا کے ان مقامات کے لوگوں تک آزاد اور معتبر خبریں پہنچانا ہے جو تنازعات اور کشیدگی کا شکار ہیں۔
سری نگر

،تصویر کا ذریعہAbid Bhat, Sri Nagar

،تصویر کا کیپشن'اس خطے میں ڈیجیٹل اور ٹیلیفون سروس کی معطلی کے بعد، اپنی شارٹ ویو ریڈیو سروس میں اضافہ کر کے لوگوں کو خبریں فراہم کرنا ہمارا ایک درست اقدام ہے۔'