ذرائع مواصلات کی 13 روزہ بندش کے دوران کشمیر میں زندگی کیسی تھی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد لگائے جانے والے کرفیو اور ذرائع مواصلات کی 13 روزہ بندش کے بعد صورت حال بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔
اس دوران کشمیریوں کے شب و روز کیسے بیتے اور انھیں کس قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جانیے سرینگر کے ایک رہائشی کی کہانی انھی کی زبانی۔
(تحفظ کے پیشِ نظر اس تحریر میں سرینگر کے اس رہائشی کا نام ظاہر نہیں کیا جا رہا ہے)
میں پانچ اگست 2019 کی صبح کو سری نگر جانے کے لیے روانہ ہوا۔ سری نگر میں اترتے ساتھ ہی میں موبائل رابطے سے محروم ہو گیا۔ میرے پاس رابطے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا کہ میں کسی سے کہہ سکوں کہ مجھے ایئرپورٹ سے لے جائیں اور نہ ہی کوئی میری کالز موصول کر سکتا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پوری ریاست (جو اب یونین علاقہ ہے) خاموش تھی۔ میں نے کچھ ٹیکسی ڈرائیورز سے درخواست کی کہ مجھے چھوڑ آئیں لیکن کوئی بھی اپنی زندگی خطرے میں ڈالنے کے لیے رضامند نہیں تھا، کیونکہ اس وقت تک انڈین پارلیمنٹ آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کرنے کے اپنے ارادوں کو ظاہر کر چکی تھی۔
میں نے دہلی واپس جانے کے لیے فلائٹ لینے کا فیصلہ کیا ہی تھا کہ ایک شخص نے مجھے ہر ممکن حد تک میرے گھر کے قریب چھوڑنے کی آفر کی۔ وہ اپنے بیٹے کا انتظار کر رہے تھے۔ میں نے ان کی آفر کو قبول کر لیا اور ان کی گاڑی میں سوار ہو گیا۔
20 کلومیٹرکے سفر کے دوران ہمیں تقریباً 30 چیک پوائنٹس پر روکا گیا۔ سی آر پی ایف کے کچھ اہلکار ڈرائیونگ کرنے والے شریف النفس انسان سے انتہائی غیر مہذب طریقے سے پیش آئے اور گالیاں دیتے رہے۔ ایک مقام پرفوجی نے گاڑی کو اپنی بندوق کے بٹ سے بھی مارا۔
ہم گاڑی چلاتے ہوئے دیکھ رہے تھے کہ ہر پانچ میٹر پر ایک فوجی موجود تھا اور ہر ناکہ بندی پر ان کا ایک گروہ موجود تھا۔ جو چیز ہم دیکھ کر سب سی زیادہ حیران ہوئے وہ یہ تھی کہ کشمیری پولیس کے اہلکاروں کو مکمل طور پر غیر مسلح کر دیا گیا تھا اور جو چند ایک نظر آ رہے تھے وہ اپنے ہاتھوں میں صرف لاٹھیاں اٹھائے ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ شریف النفس انسان مجھے میرے گھر سے دو کلو میٹر کے فاصلہ تک پہنچا پایا۔ فوجی اہلکاروں نے ہمیں اس پوائنٹ سے آگے جانے کے اجازت نہیں دی۔ میں اپنے سارے سامان کے ساتھ تقریبا دو کلومیٹر پیدل چلا۔
گھر پر کوئی بھی لینڈ لائن کام نہیں کر رہی تھی حتیٰ کہ انٹرنیٹ بھی کام نہیں کر رہا تھا۔ میں نے حالات جاننے کے لیے ٹی وی چلایا لیکن کیبل بھی کاٹ دی گئی تھی۔ چوتھے دن کیبل سروس کو بحال کیا گیا اور صرف چند ہی چینلز کو نشریات جاری کرنے کی اجازت دی گئی۔
ہمیں ہر روز فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کی آوازیں باقاعدگی سے سنائی دیتیں۔ نقل و حرکت پر مکمل پابندی تھی۔ ہم نے اپنا کھانا کم کر دیا کیونکہ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ کب تک چیزیں بند رہیں گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہم سب گھروں میں نظر بند تھے۔ پوری وادی اخباروں، موبائلز، لینڈ لائنز اور انٹرنیٹ کے بغیر تھی۔ وقتاً فوقتاً فائرنگ کی آوازوں کی وجہ سے یہ شدید دباؤ والی صورت حال تھی۔ علاقے میں صرف ایک فارمیسی کو کھولنے کی اجازت دی گئی تھی اور وہاں بھی انسولین کم ہو رہی تھی۔
ایک سبزی بیچنے والا اور روز مرہ کی چیزیں فروخت کرنے والا دکاندار بھی دن بھر میں صرف ایک گھنٹے کے لیے 'آدھا شٹر' کھولتا تھا۔ عید کی جانب موڈ بھی واقعی دب چکا تھا۔ ہم امید کرتے تھے کہ مواصلاتی نظام، کم از کم لینڈ لائنز بحال ہو جائیں تاکہ ہم دلی میں موجود چھوٹے بہن بھائیوں سے رابطہ کر سکیں۔
مگر ایسا نہیں ہوا بلکہ ہمیں عید کی نماز کی اجازت بھی نہیں دی گئی حتیٰ کہ ہمیں ہمارے گھر سے 500 میٹر کے فاصلے پر موجود آباؤ اجداد کے قبرستان جانے کے بھی اجازت نہیں دی گئی۔
عید پر فوجی دستوں کی تعیناتی ناقابل یقین تھی۔ میرے گھر سے کچھ دیر دور 30 دکانوں پر مشتمل ایک مارکیٹ میں تقریباً ایک ہزار کے قریب فوجی تعینات تھے۔ یہ ایک خوفناک منظر تھا لہٰذا ہم گھر واپس بھاگے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عید کے دوسرے روز ایک جاننے والے کی والدہ کی طبیعت بلڈ پریشر کے باعث خراب ہو گئی۔ اس نے لینڈ لائن سے ایمرجنسی نمبرز پر کال کرنے کی کوشش کی کیونکہ 100 اور 101 کو ڈائل کیا جا سکتا تھا لیکن کئی بار کال کرنے کے باوجود بھی کوئی جواب نہیں ملا۔
اس نے ایک ہمسائے کو ہسپتال چلنے کی درخواست کی لیکن ان کے راستے میں دو جگہ پر ناکہ بندی تھی جس پر کوئی اہلکار موجود نہیں تھا اور ان کی والدہ گاڑی میں ہی دم توڑ گئیں۔
انتقال کر جانے والی خاتون کے بہت سے رشتہ داروں کو ان کی وفات کا علم نہ ہو سکا اور وہ جنازے میں شرکت نہیں کر سکے۔ ان میں سے کئی کو اب بھی اس بارے میں علم نہیں ہے۔
میں 12 دن بعد دہلی واپس لوٹ آیا کیونکہ مجھے یونیورسٹی میں داخلے کے لیے آن لائن کچھ اہم ادائیگیاں کرنا تھیں۔ انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے مجھے ایک ہزار کلو میٹر کا سفر کرنا پڑا۔
انڈیا نے ہمیں گھٹن اور دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ انڈیا نے ہمیشہ کے لیے کشمیر پر اپنا اخلاقی حق کھو دیا ہے۔












