شاہ محمود قریشی: انڈیا کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے محاذ آرائی یا جعلی آپریشن کر سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال میں پیشرفت کا جائزہ کے لیے ہونے والے مشاورتی اجلاس کے بعد وزارتِ خارجہ میں خصوصی کشمیر سیل بنانے کا اعلان کیا ہے۔
سنیچر کو اسلام آباد میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور اور معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی کا آج پہلا اجلاس تھا جس میں پاکستان کے تمام اداروں کی تجاویز آئی ہیں۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ دنیا کو کشمیر کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کرنے کے لیے دنیا بھر میں کئی اہم ممالک میں بھی پاکستانی سفارت خانوں میں 'کشمیر ڈیسک' بھی قائم کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر خارجہ نے صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'گذشتہ روز اتنی بڑی پیش رفت ہوئی ہے جس کا آپ کو اندازہ نہیں ہے۔ اگر کوئی ایک بھی طاقت ڈٹ جاتی تو یہ اجلاس نہ ہوتا۔'
کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے سے متعلق انڈین اقدام پر اظہار رائے دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'ہمارے لیے 370 کی اہمیت نہیں ہے، ہمارے لیے مسئلہ کشمیر کا حل اہم ہے۔ لیکن آبادیاتی تبدیلی کے ذریعے اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے پر ہم بات کر رہے ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
واضح رہے کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی صورتِ حال کا جائزہ لینے والے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مشاورتی اجلاس کے بعد کی صورتحال پر غور کرنے کے لیے پاکستان کے وزیرِ خارجہ نے سنیچر کو وزارت خارجہ میں ایک مشاورتی اجلاس طلب کیا جس میں مختلف قومی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کے شعبہِ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کے علاوہ کشمیر کمیٹی کے اراکین بھی شامل تھے۔
وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کے مطابق اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ 'یہ ایک لمبی لڑائی ہے جو ہم نے ہر محاز پر لڑنی ہے۔'
ان کا مزید کہنا تھا کہ مستقبل میں سفارتی حکمتِ عملی کے بارے میں یہ مشاورتی فورم جامع حکمتِ عملی تشکیل دے گا جسے کابینہ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ انھوں نے بتایا کہ 'ایکشن پلان وزیرِ اعظم کے سامنے رکھا جائے گا اور پھر اسے پبلک کیا جائے گا۔'
مشاورتی اجلاس پر انھوں نے مزید بتایا کہ سارے آپشنز پر مشاورت کی گئی ہے۔ ’اجلاس میں عالمی عدالتِ انصاف میں جانے کے بارے میں بھی بات کی گئی، اور ہم ملک کی حفاظت کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اس موقع پر کہا کہ جیسے ہی کرفیو میں نرمی ہوتی ہے تو وہاں کشیدگی بڑھے گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'مسلح افواج انڈیا کی جانب سے کسی بھی قسم کی کارروائی کے لیے تیار ہیں اور وہ کسی بھی ’مس ایڈونچر‘ کا بھرپور جواب دیں گے۔'
'جعلی آپریشن کا بھی خطرہ ہے'
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا 'پوری کمیٹی اس بات پر متفق ہے کہ مودی حکومت نے نہرو کے ہندوستان کو دفن کر دیا ہے۔ دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔'
انھوں نے بتایا کہ 'ہم بروقت بین الاقوامی کمیونٹی کو بتانا چاہتے ہیں کہ انڈیا محاذ آرائی یا جعلی آپریشن کر سکتا ہے۔'

،تصویر کا ذریعہAPP
انڈین وزیر دفاع راج ناتھ کے نیوکلیر حکمت عملی سے متعلق بیان پر رعمل دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ترجمان پاکستان فوج میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ذمہ دار ممالک جوہری ہتھیاروں کے بارے میں ایسے بات نہیں کرتے۔
’یہ ہتھیار دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے ہوتے ہیں استعمال کے لیے نہیں۔‘
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تنقید کی کہ انڈیا کے اس حکمت عملی کے تین اہم کردار، امت شاہ، مودی اور وزیر دفاع راج ناتھ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 'جب کوئی سٹھیا جاتا ہے تو وہ کہا جاتا ہے جو انڈین وزیرِ دفاع نے کہا۔'
انھوں نے مزید کہا کہ دنیا کو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ جوہری ممالک کے درمیان مسائل کہاں تک پہنچ سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سلامتی کونسل کا اجلاس اور رد عمل
جمعے کو سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد گذشتہ شب اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ آج دنیا نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ یہ انڈیا کا اندورنی معاملہ نہیں، یہ ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم کردہ تنازع ہے اور اس کا حل درکار ہے۔
انھوں نے کہا کہ انڈیا کی اس اجلاس کو روکنے کی تمام تر کوششیں ناکام رہیں اور دنیا نے انڈیا کا موقف مسترد کر دیا ہے۔
شاہ محمود قریشی کا یہ بھی کہنا تھا کہ جس بائی لیٹرلئزم (دو طرفہ روابط) کا وہ (انڈیا) راگ دہراتے تھے، اس کو انڈیا نے یکطرفہ اقدامات کر کے خود ہی دفن کر دیا۔
اس کے علاوہ وزیرِ خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا جس کے دوران عمران خان نے امریکی صدر کو پاکستان کے موقف سے آگاہ کیا اور انہیں اعتماد میں لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے اجلاس سے قبل وزیراعظم نے امریکی صدر کو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی مخدوش صورتحال سے بھی آگاہ کیا۔
مزید پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جمعے کو بند کمرے کے اجلاس کے خاتمے کے بعد خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق چین کے اقوام متحدہ میں سفیر نے اپنے رد عمل میں کہا کہ 'کشمیر میں حالات بہت کشیدہ اور خطرناک ہیں' اور یہ کہ 'سکیورٹی کونسل کے ارکان کا عموماً خیال ہے کہ پاکستان اور انڈیا کو کشمیر میں یکطرفہ کارروائی سے باز رہنا چاہیے۔'
اس سے قبل پاکستان کی اقوام متحدہ میں سفیر ملیحہ لودھی نے اپنے رد عمل میں سلامتی کونسل کے ارکان کا اجلاس بلانے پر شکریہ ادا کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ آج کے اس اجلاس سے انڈیا کے اس دعوے کی نفی ہوتی ہے کہ کشمیر انڈیا کا اندورنی معاملہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ 'آج سکیورٹی کونسل میں کشمیر کی آواز گونجتی رہی۔ گذشتہ پچاس سال یہ پہلا موقع ہے کہ اکیلے جموں اور کشمیر کو سیکورٹی کونسل میں زیرِ بحث لایا گیا۔ اس سے انڈیا کی موقف کی نفی ہوتی ہے کہ یہ ان کا ایک داخلی معاملہ ہے۔'
ان کا کہنا تھا کہ 'جو بحث ہوئی اس سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں آج بھی زندہ ہیں۔'
انڈیا کا موقف
انڈیا کے اقوام متحدہ میں سفیر ایس اکبرالدین نے اپنے رد عمل میں کہا کہ آرٹیکل 370 انڈیا کا اندورنی معاملہ تھا ہے اور رہے گا۔
انھوں نے کہا کہ انڈیا کشمیر کے بارے میں اب تک ہونے والے معاہدوں کا پابند ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ مسئلہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان باہمی طور پر حل ہونا چاہیے۔











