انڈیا: ’پولیس نے مجھے پاکستانی کہہ کر تشدد کا نشانہ بنایا‘

محمد رمضان
،تصویر کا کیپشنرمضان کام سے واپس گھر جا رہے تھے جب پولیس نے ان پر تشدد کیا
    • مصنف, اروند چھابڑا
    • عہدہ, بی بی سی، پنچکولا

جب قوم 69 واں یوم جمہوریہ منا رہی تھی تو 64 سالہ محمد رمضان سخت تکلیف کی حالت میں تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ وہ کس طرح مجھ پر پاکستانی ہونے کا الزام عائد کر کے تشدد کر سکتے ہیں۔‘

چار دن پہلے ہریانہ کے سکاتری گاؤں میں جب رمضان اپنے ہیلپر کے ساتھ کام سے واپس گھر جا رہے تھے جب پولیس انھیں زبردستی پولیس سٹیشن لے گئی اور ان کے مطابق انھیں دو پولیس اہلکاروں نے برہنہ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا‘۔

انڈیا میں مسلمانوں کے بارے میں مزید پڑھیے

رمضان ایک سپر سٹور کے مالک کے ڈرائیور کے طور پر کام کرتے ہیں اور انھوں نے بتایا کہ ’اتوار کی رات واپس گھر جا رہا تھا کہ پولیس کنٹرول روم کی گاڑی میں سوار اہلکاروں نے میرا تعاقب شروع کیا۔ انھوں نے مجھے کہا کہ گاڑی روکو اور پھر ہمیں پولیس سٹیشن لے گئے۔‘

رمضان نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’وہاں انھوں نے ہمیں کہا کہ اپنے کپٹرے اتارو،جب میں نے احتجاج کیا تو انھوں نے کہا کہ تم پاکستانی اور مسلمان بنیاد پرست ہو۔ انھوں نے کہا کہ تم مسلمان ہو اور بہت ہی برے شخص ہو۔ انھوں نے میرے کپڑے پھاڑ دیے اور تشدد شروع کر دیا۔‘

تشدد کی وجہ سے 64 برس کے رمضان اب مشکل سے ہی بیٹھ پاتے ہیں۔

رمضان کے مطابق ’انھوں نے میرے پورے جسم پر اتنی لاتیں ماریں جیسا کہ میں ایک فٹبال ہوں‘۔

انھوں نے اپنے کولھے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انھیں وہاں شدید تکلیف ہے۔

رمضان اپنے پانچ بیٹوں کے ساتھ رہتے ہیں جن میں سے چار شادی شدہ ہیں۔

وہ بتاتے ہیں ’میں پیدائش کے وقت سے ہی اس علاقے میں رہائش پذیر ہوں۔ میرے عزیز فوج میں ملازمت کرتے ہیں اور یہ مجھے پاکستانی پکارتے ہیں اور بنیاد پرست مسلمان کہتے ہیں۔‘

رمضان کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے پولیس اہلکاروں کو اپنی دستاویزات بھی دکھائی تھیں اور وہ اب ان اہلکاروں کی برطرفی چاہتے ہیں۔

رمضان کے 27 سالہ بیٹے محمد اسلم نے کہا کہ ’ہمیں اپنے والد کے ساتھ ہیش آنے والے رویے پر شدید دھچکا لگا ہے‘۔

محمد اسلم کی مقامی موٹر مارکیٹ میں دکان ہے اور ان کا کہنا ہے کہ’ ہم انڈین ہیں نہ کہ پاکستانی جو کہ وہ ہمیں کہتے ہیں۔ یہ اہلکار پولیس میں ہونے کے حق دار نہیں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان اہلکاروں کو پولیس سے برطرف کیا جائے۔‘

محمد رمضان کے بیٹے کے مطابق پولیس اہلکاروں نے ان کے والد کے بٹوے سے 37 سو روپے نکال لیے جبکہ ان کے والد کا علاج جاری ہے جس میں آئندہ ہفتے ان کے مزید ٹیسٹ کیے جائیں گے۔

پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی

پولیس سٹشین

پولیس کمشنر اے ایس چاولہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے لیکن ان کے خلاف مزید سخت کارروائی ہو سکتی ہے۔

’اگر متاثرین کو لگا کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا تو وہ ڈپٹی پولیس کمشنر سے ملاقات کریں اور میں یقین دلاتا ہوں کہ انصاف ہو گا۔‘

حکام کے مطابق دونوں اہلکاروں میں سے ایک سپیشل پولیس افسر ہے جسے پولیس سروس سے برطرف کر دیا گیا ہے اور احکامات آئندہ چند دنوں میں متوقع ہیں۔

جبکہ دوسرا اہلکار اسسٹنٹ انسپکٹر ہے جس کے خلاف تحقیقات کی جا رہی ہیں اور اگر اس پر جرم ثابت ہوگیا تو اس کو بھی سروس سے برطرف کر دیا جائے گا۔