’میں ہندوؤں کے نہیں مودی کے خلاف ہوں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اہم اور حساس موضوعات پر کھل کر بات کرنے والے اداکار پرکاش راج جو اکثر سوشل میڈیا پر ٹرولز کے نشانے پر رہتے ہیں ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔
پرکاش راج نے انڈیا ٹوڈے کانکلیو پروگرام میں کہا ہے 'میں ہندوؤں کے خلاف نہیں، میں اینٹی مودی ہوں، اور اینٹی امت شاہ ہوں میرے خیال میں یہ لوگ ہندو نہیں ہیں کیونکہ جو شخص ایک مذہب کو دنیا سے ہٹانا چاہتا ہے وہ ہندو نہیں ہوسکتا'۔
یہ بھی پڑھیے
پرکاش راج نے کہا 'جو قاتلوں کی حمایت کرتے ہوں وہ ہندو نہیں ہوسکتے۔ جب یہ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ میں ہندوؤں کے خلاف ہوں تو پھر میں بھی یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ لوگ ہندو نہیں ہیں'۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
پرکاش راج نے مرکزی وزیر اننتتھ کمار ہیگڈ ے کے آئین کو تبدیل کرنے کے بیان کے بارے میں کہا 'چار دن پہلے میں سرسی میں تھا اور وہاں ایک تقریب کے دوران سٹیج سے میں نے مرکزی وزیر سے سوال کیا کہ کیا جو آئین میں درج ہے وہ اس کا مطلب بھی جانتے ہیں۔ اس تقریب کے تین دن بعد بی جے پی کے لوگوں نے اس سٹیج کو گائے کے پیشاب سے دھوتے ہوئے کہا کہ پرکاش راج گائے کا گوشت کھاتا ہے اور گائے کا گوشت کھانے والوں کی حمایت کرتا ہے اس لیے اس جگہ کو پاک کرنے کی ضرورت ہے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پرکاش راج کا کہنا ہے کہ 'حالانکہ میں نے سٹیج پر گوشت کی بات تک نہیں کی لیکن یہ لوگ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں، اب چاہے وہ لوگوں کے بارے میں ہو یا کسی فلم کے بارے میں '۔
’عدالت نے فلم پدماوت کی ریلیز کی اجازت دیدی ہے لیکن یہ سماج دشمن اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر آپ ان سماج دشمن عناصر کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ آپ کی اظہارِ رائے کی آزادی کوئی معنی نہیں رکھتی‘۔
پرکاش راج کہتے ہیں کہ 'میں نے صحافی گوری لنکیش کی موت پر لوگوں کو جشن مناتے ہوئے دیکھا اور یہ وہ لوگ تھے جنہیں ہمارے ملک کے وزیر اعظم سوشل میڈیا پر فالو کرتے ہیں۔ وزیراعظم کیوں ایسے معاملات پر خاموش رہتے ہیں مجھے یہ بات چبھتی ہے'۔
’ایک سچا ہندو کبھی بھی کسی کی موت کا جشن نہیں منائے گا اور اگر میرا وزیر اعظم اپنے وزیر کو اس طرح سے کام کرنے سے نہیں روک رہا تو میں اپنے وزیر اعظم سے بھی کہوں گا کہ آپ بھی ہندو نہیں ہیں‘۔







