انڈیا: حج کے لیے دی جانے والی سبسڈی کی حقیقت

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, رشید قدوائی
- عہدہ, سینیئر صحافی، انڈیا
یہ سچ ہے کہ انڈیا میں حج سبسیڈی یعنی حج کے لیے دی جانے والی سرکاری امداد بند کردی گئی ہے۔ تاہم حج سبسیڈی سے متعلق کچھ بنیادی حقائق انڈیا میں مباحثے کا حصہ نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ ہندوستان میں مسلم کمیونٹی نے کبھی بھی سبسیڈی کی مانگ نہیں کی۔ انڈیا کے معروف رہنما سید شہاب الدین سے لے کر مولانا محمود مدنی تک اور اسد الدین اویسی سے لے کر ظفرالاسلام خان تک کئی مسلم رہنما اور عالم مسلسل حج سبسیڈی کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
دوسرے یہ کہ سالوں سے حج کے نام پر دی جانے والی سبسیڈی براہ راست کسی مسلمان حاجی کو نہیں ملی۔ انڈین حکومت نے سعودی عرب کی پرواز کے لیے ایئر ٹکٹوں پر ایئر انڈیا کو سبسیڈی دیتی رہی۔
یہ بھی پڑھیے
انڈیا سے حج کے لیے جانے والے ہر ایک شخص کو سبسیڈی کے نام پر دی جانے والی رقم تقریباً دس ہزار روپے تھی۔ لیکن عملی طور پر یہ کبھی بھی حاجیوں کو نہیں دی گئی بلکہ ایئر انڈیا کو منتقل کر دی گئی۔
دوسرے الفاظ میں، اس مالی امداد کا ایئر انڈیا کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا نہ کہ حاجیوں کے سفر کے لیے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
یہ وہ وقت تھا جب تیل کے عالمی بحران کے باعث حج کا ہوائی سفر بہت زیادہ مہنگا ہو گیا تھا اور طیارے کا کرایہ آسمان سے باتیں کرنے لگا تھا۔ اور ایسے میں اس سبسیڈی کو سٹاپ گیپ کے طور پر متعارف کرایا گیا لیکن اس پر ہمیشہ کے لیے 'اقلیتیوں کی خوشامد' کا لیبل چسپاں ہو گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اندرا گاندھی اور کانگریس پارٹی انڈیا کے مسلمانوں کی اقتصادی ترقی کے لیے ٹھوس اقدام لینے کے بجائے اس ٹوکنزم سے خوش تھی۔
سیاسی عینک سے دیکھیں تو کہہ سکتے ہیں کہ حج سبسیڈی اندرا گاندھی کے ذہن کی اختراع تھی جسے انھوں نے ایمرجنسی کے زمانے میں مسلم ووٹ بینک کو اپنے حق میں متحد کرنے کے لیے استعمال کیا۔
یہ بھی پڑھیے
کانگریس قیادت نے ایک جانب ذاکر حسین اور فخرالدین علی احمد کو صدر ہند تو بنایا لیکن دوسری جانب 'رام سہائے کمیشن'، 'شری کرشن کمیشن'، 'گول سنگھ کمیشن' اور 'سچر کمیشن' کی سفارشات پر خاموش بیٹھی رہی۔
انڈیا جیسے ہی دائیں بازو کے نظریات نے تیزی سے پاؤں پھیلانے شروع کیے اس نے حج سبسیڈی کو مسلمانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے دی جانے والی مراعات کے طور پر پیش کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
افواہوں اور سرگوشیوں کے ذریعے، واٹس ایپ پیغامات اور پیمفلٹ کے ذریعے یہ باتیں پھیلائی گئيں کہ 'سیکولر پارٹیاں' قحط، تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے ٹیکس دہندگان کے پیسے مسلمانوں پر لٹاتي رہی ہیں۔
اس کے خلاف یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ سرکاری اخراجات پر کوئی بحث نہیں کی جاتی ہے چاہے وہ ہندوؤں اور سکھ یاتریوں کے لیے سرکاری سبسیڈی کا معاملہ ہو یا مندروں کی بحالی اور اس کے پجاریوں کو دی جانے والی تنخواہیں کیوں نہ ہوں۔
مہاکمبھ اور اردھ کمبھ جیسی تقریبات پر ہونے والے سرکاری اخراجات پر بھی کوئی بات نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھیے
ہندوؤں کو کیلاش مان سروور کے سفر کے لیے وزارت خارجہ اور اتر پردیش، گجرات، دہلی، مدھیہ پردیش اور دوسری ریاستوں سے سبسیڈی ملتی ہے۔
سنہ 94-1992 کے درمیان مرکزی حکومت کی ایما پر سمندر کے راستے حج کے سفر پر جانے پر مکمل پابندی لگا دی گئی۔ اور دوسری جانب کانگریس کے وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ اور اقلیتی امور کے وزیر اے آر انتولے نے حج سبسیڈی کو ہندی مسلمانوں کے لیے مراعات کے طور پر پیش کیا۔

یہ جاننا دلچسپی سے خالی نہیں کہ مسلمان حج کے سفر پر جانے سے پہلے اس بات کی یقین دہانی کرتے ہیں کہ جس پیسے سے وہ حج کرنے جا رہے ہیں وہ قرض یا سود سے حاصل کیا پیسہ نہ ہو۔
حج ایک مقدس عمل ہے اور یہ ہر مالدار اور صحت مند شخص پر زندگی میں ایک بار فرض ہے۔ ایسے میں حاجیوں کے لیے حکومت کی طرف سے ایک چھوٹی سی رقم لینے کا سوال کہاں ہے جبکہ وہ اپنے رہنے، کھانے، موبائل فون، گھومنے، اور سم کارڈ تک کا خرچہ اپنی محنت کی گاڑھی کمائی سے خوشی خوشی اٹھاتے ہیں۔
حکومت اس پر کیوں خاموش ہے کہ دہلی-جدہ-دہلی، یا ممبئی-جدہ-ممبئی کا ہوائی کرایہ 55 ہزار (انڈین روپے) سے زیادہ کیوں ہے؟ جبکہ عام کرایہ 28 سے 30 ہزار روپے ہے۔
سنہ 2006 میں جمیعت العلما ہند کے مولانا محمود مدنی نے اعلان کیا تھا کہ 'حج کے لیے کسی بھی طرح کی مالی مدد لینا شریعت کے خلاف ہے۔ قرآن کے مطابق صرف وہی مسلمان حج کے لیے جا سکتا ہے، جو بالغ ہو، معاشی اعتبار سے اہل ہو اور صحت مند ہو۔'
ظفرالاسلام خان نے کہا: 'عام طور پر مسلم حج سبسیڈی کے حق میں نہیں ہیں۔ ہم سبسیڈی کو ایئر انڈیا یا سعودی ایئر لائنز کو دی جانے والی سبسیڈی تسلیم کرتے ہیں، نہ کہ مسلم کمیونٹی کے لیے۔ یہ صرف عام مسلم ووٹروں پر یہ واضح کرنے کے لیے کیا گیا ہے کہ وہ انھیں فائدہ پہنچا رہے ہیں۔'
آخر میں، سپریم کورٹ نے حج سبسیڈی کو ختم کرنے کی ہدایت دی اور حکومت کو اسے دس سال میں بتدریج ختم کرنے کے لیے کہا ہے۔
اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے پایا کہ سبسیڈی کی رقم ہر سال بڑھ رہی ہے اور یہ سنہ 1994 میں 10 کروڑ 51 لاکھ سے بڑھ کر سنہ 2011 میں 685 کروڑ ہو گئی۔ گذشتہ سال حج سبسیڈی 200 کروڑ روپے تھی۔








