انڈیا: مسلمان کرکٹر کے آنسو پر قوم پرستی کی بحث

،تصویر کا ذریعہTwitter
- مصنف, مرزا اے بی بیگ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
انڈیا کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں شامل ہونے والے نئے مسلمان کرکٹر محمد سراج کے آنسوؤں نے قوم پرستی کی بحث کو نیا موڑ دے دیا ہے۔
محمد سراج کو اتوار کی رات انڈیا کے شہر راجکوٹ میں نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے دوسرے میچ میں ٹیم انڈیا کی کیپ دی گئی اور جب سارے کھلاڑی قطار میں کھڑے ہوئے اور قومی نغمہ بجایا جانے لگا تو فرط جذبات سے ان کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔
سوشل میڈیا اور بطور خاص ٹوئٹر پر اس کے بعد سے محمد سراج ٹرینڈ کر رہے ہیں۔
ایک ٹوئٹر صارف اسعد اختر نے لکھا: 'جب ملک میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ قومی ترانہ بجائے جانے کے وقت اٹھنا چاہیے یا نہیں ایسے میں محمد سراج کی آنکھوں کے آنسوؤں نے بتایا دیا کہ سچا وطن پرست کیسا ہوتا ہے۔'
ایک دوسرے صارف گنیش گنانگ نے لکھا: 'جس کسی نے محمد سراج کو 'جَن گَن مَن' پر روتے ہوئے دیکھا ہے وہ کبھی 52 سیکنڈ کے لیے کھڑے ہونے پر اعتراض نہیں کریں گے۔'

،تصویر کا ذریعہBCCI
آشوتوش پاٹھک نے لکھا کہ 'قومی ترانے کے درمیان سراج کی آنکھوں میں آنسو آنا یہ بتاتا ہے کہ ملک کے لیے کھیلنا ان کے لیے کتنا عظیم کام ہے۔ آپ کے لیے عزت ہے!'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محمد سراج کو رواں سال آئی پی ایل کی نیلامی سے قبل بہت کم لوگ جانتے تھے لیکن حیدرآباد کی ٹیم نے ان کے لیے ڈھائی کروڑ کی بولی لگا کر انھیں راتوں رات کرکٹ کی دنیا میں متعارف کرا دیا۔
جنوبی ریاست تیلنگانہ سے تعلق رکھنے والے محمد سراج کے والد حیدرآباد میں آٹو ركشا چلاتے رہے تھے اور ان کی والدہ سال بھر پہلے تک دوسرے گھروں میں کام کرتی تھیں۔
سراج تین سال پہلے تک صرف ٹینس گیند سے کھیلتے تھے اور باضابطہ کرکٹ گيند سے کھیلنا نصیب نہیں ہوا تھا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
لیکن راجکوٹ میں ان کا پہلا میچ ان کی کارکردگی کی وجہ سے زیادہ یادگار نہیں کہا جائے گا کیونکہ انھیں نیوزی لینڈ کے کپتان کی وکٹ تو ملی لیکن چار اوورز میں انھوں نے 50 سے زیادہ رنز دے دیے اور نیوزی لینڈ یہ میچ باآسانی 40 رنز سے مقابلہ جیت گئی۔
بعض ٹوئٹر صارفین نے سراج کے آنسوؤں کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی بھی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیں
گجرات کے سابق آئی پی ایس ڈی جی ونزارا کے ٹوئٹر ہینڈل سے لکھا گیا: 'مادر ہند کے سچے پوت کرکٹر محمد سراج ایک مثال ہیں جن سے مذہب کے نام پر قومی ترانے کی مخالفت کرنے والوں کو سبق لینا چاہیے۔'
انڈیا میں وطن پرستی کو فروغ دینے کے لیے عدالت عظمی نے گذشتہ سال سینما گھروں میں فلم دکھانے سے پہلے قومی ترانہ بجانے کا حکم دیا تھا جس کے بعد سینما گھروں میں تشدد کے کئی واقعات رونما ہوئے اور کئی گرفتاریاں بھی ہوئیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
رواں سال جنوری میں چینئی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کے دوران قومی گیت بجائے جانے کے وقت اس کے احترام میں نہ کھڑے ہونے کے جرم میں تین لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔
اس سے قبل جنوبی شہر تھیرواننت پورم میں 12 لوگوں کو حراست میں لیا گیا تھا اور چینئی میں آٹھ لوگوں کو پیٹا گيا تھا جبکہ فروری میں شمالی شہر جموں میں دو لوگوں کو سینما گھر سے اسی جرم میں گرفتار کیا گیا۔
ایک بڑے طبقے کا خیال ہے کہ وطن پرستی کا ثبوت قومی گیت پر کھڑے ہونا ہے جبکہ بہت سے لوگ اسے ذاتی معاملہ کہتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش سمیت ملک کی بعض ہندوتوا نواز حکومتوں نے یہ حکم جاری کیا تھا کہ 15 اگست کو یوم آزادی کے موقعے پر ریاست کے سبھی مدرسے اپنے طلبہ کے ساتھ قومی ترانہ گانے اور پرچم کشائی کا اہتمام کریں اور ثبوت کے طور پر اس تقریب کی ایک ویڈیو مقامی انتظامیہ کو دیں۔
بہر حال ہندوستان میں اب بھی قومی ترانے کے بجانے پر کھڑے ہونے یا نہ ہونے کی بحث جاری ہے۔










