انڈیا میں مسلمان رہنما اسد اویسی نے کہا کہ یوگی ادتیہ ناتھ خدا نہیں ہیں

رام مندر بابری مسجد تنازعہ سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کے مشورے پر کہ تمام فریق مل کر اس مسئلہ کو سلجھانے کی کوشش کریں آل انڈیا مجلسِ اتحاد المسلمین کے رہنما اسد الدین اویسی نے کہا کہ، بابری مسجد رام مندر تنازع پر اب بات چیت کی کوئی صورت نہیں بچی ہے اور اس بارے میں سات بار مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں۔
بی بی سی کے ساتھ بات چیت میں اویسی کا کہنا تھا کہ عدالت عظٰمی جو فیصلہ سنائےگی وہ تمام فریقین کو قبول کرنا ہوگا۔
حال ہی میں ملک کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ رام مندر بابری مسجد تنازع کو تمام فریق مل کر سلجھانے کی کوشش کریں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی جے پی رہنما سبرامنیم سوامی نے قانون بنا کر رام مندر بنانے کی بات کہی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ 2018 میں جب بی جے پی راجیہ سبھا یعنی ایوانِ بالا میں اکثریت میں ہوگی تو قانون بنا کر رام مندر کی تعمیر کی جائے گی۔
اس پر اویسی نے کہا، 'کسی بھی حکومت کو اگر اکثریت ملی ہے تو اسے قانون کے مطابق فیصلہ لینا چاہئے اگر وہ ایسا نہیں کرتی ہے تو عوام اس کی مخالف ہو جائے گی۔ اندرا گاندھی کے وقت بھی ایسا ہی ہوا تھا '۔
انہوں نے کہا، سبرا منیم سوامی مایوسی کا شکار ہیں، انہیں اعتماد نہیں، جمہوریت کے نام پر سوامی بلیک میل نہیں کر سکتے۔ اگر سپریم کورٹ نے کل رام مندر کے خلاف فیصلہ دے دیا تو سبرا منیم سوامی کیا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ اکثریت میں آنے والی حکومت جو کچھ بھی کرے گی وہ صحیح ہی ہوگا، 'حکومت آئین کے دائرے میں رہ کر کوئی بھی فیصلہ کر سکتی ہے، اس سے باہر نہیں'۔
اویسی نے کہا کہ رام مندر کا مسئلہ ملکیت سے جڑا ہوا ہے اور اس پر قانون نہیں بنایا جا سکتا ۔ اس کا فیصلہ عدالت میں ہی ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کہا جا رہا ہے کہ مسلمانوں نے یوپی کے انتخابات میں بی جے پی کو ووٹ دیا تھا اس پر اویسی کا کہنا تھا کہ مسلم خواتین نے بی جے پی کو ووٹ نہیں دیا اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے، اگر ہو تو سامنے لائیں'۔
انہوں نے کہا کہ اگر مسلم خواتین کا ووٹ حاصل کرنے کا دعوی کیا جا رہا ہے تو بی جے پی نے کسی مسلمان عورت کو ٹکٹ تک کیوں نہیں دیا۔
اویسی کی پارٹی نے یوپی انتخابات میں اس بار 35 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے، لیکن کوئی بھی امیدوار کامیاب نہیں رہا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا مستقبل میں وہ برہمن جماعتوں سے ہاتھ مِلائیں گے تو اویسی نے کہا، 'پہلے ہمیں اپنی طاقت دکھانی ہوگی تبھی تو کوئی ہمارے ساتھ آئے گا'۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ یوپی میں کیا یوگی آدتیہ ناتھ طاقت کا مظاہرہ کریں گے؟ ان کا کہنا تھا، 'یوگی وزیر اعلٰی ہیں، کوئی خدا نہیں'۔
اویسی نے کہا کہ اگر بھارت کے لوگ اکثریت والی حکومت کے تمام اقدامات کو درست ماننے اور ٹھہرانے لگیں گے تو بھارت کا ’پلورل ازم‘ ( تکثریت) ختم ہو جائے گا۔







