’آخر ہادیہ کو کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے؟

،تصویر کا ذریعہROSHAN JAISWAL
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
انڈیا کا انسداد دہشت گردی کا ادارہ این آئی اے کیرالہ میں ایک مسلم لڑکے اور ایک ہندو لڑکی کی شادی کی تفتیش کررہا ہے۔
سپریم کورٹ نے این آئی نے کو حکم دیا ہے کہ وہ دونوں کی شادی کی تفتیش سے یہ معلوم کرے کہ اس شادی میں دہشت گردی کا کوئی پہلو تو شامل نہیں ہے۔
انڈیا میں ہندوؤں کی سخت گیر تنظیمیں یہ الزام لگاتی رہی ہیں کہ داعش اوردیگر مسلم دہشتگرد تنظیموں کی ایما پر مسلم لڑکے ہندو لڑکیوں کو ورغلا کر انھیں مسلمان بناتے ہیں اوران سے شادی کرتے ہیں۔ یہ تنظیمیں اسے 'لو جہاد' کا نام دیتی ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ اس 'لو جہاد' کے لیے غیر ممالک سے با ضابطہ فنڈنگ کی جا رہی ہے۔ وزارت داخلہ کی رپورٹ کے مطابق اس طرح کا کوئی واقعہ ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
کیرالہ میں چند مہینے پہلے شفیع جہاں نے اکھیلا نام کی ایک 24 سالہ ہندو لڑکی سے شادی کی۔ اکھیلا نے اسلام مذہب اپنا لیا اور اپنا نام ہادیہ رکھا۔ ہادیہ کے والد نے کیرالا ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن فائل کی کہ ان کی بیٹی کو مسلم انتہا پسندوں نے 'لوجہاد' کے ذریعے اپنے جال میں پھنسا لیا ہے۔ ہادیہ نے عدالت کے روبرو یہ بیان دیا کہ اس نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے۔
لیکن عدالت عالیہ نے شفیع اور ہادیہ کی شادی رد کر دی اور کہا کہ شادی زندگی کا ایک اہم پہلو ہے اور اتنا اہم فیصلہ والدین کے بغیر نہیں لیا جا سکتا۔ مئی میں عدالت کے فیصلے کے بعد سے ہادیہ اپنے گھر میں قید ہیں۔ انھیں اپنے شوہر یا کسی اورسے ملنے جلنے کی آزادی نہیں ہے۔ شفیع جہاں نے آزادی کے بنیادی حقوق کی ضمانت کے تحت اپنی بیوی سے ملنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ لیکن سپریم کورٹ نے 24 سالہ ہادیہ کو آزاد کرنے کا حکم دینے کے بجائے این آئی اے کو حکم دیا کہ وہ اس میں لو جہاد اور دہشت گردی کے پہلوؤں کی تفتیش کرے۔
انڈیا ایک کثیرالمذہب ملک ہے اور الگ الگ مذاہب کے لوگ ایک ساتھ پڑھتے، رہتے اور کام کرتے ہیں۔ نوجوان لڑکو ں اور لڑکیوں میں ایک دوسرے کے لیے انسیت پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے۔ کئی بار یہ اانسیت دو ایسے لڑکے اور لڑکی میں پیدا ہو جاتی ہے جو دو الگ الگ مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ملک کے آئین نے ہر بالغ مرد اور عورت کو اپنے فیصلے کرنے کا حق دیا ہے اس لیے وہ اپنی شادی کا فیصلہ کرنے کے بھی مجاز ہیں۔
انڈیا روایتی طور پر ایک قدامت پسند ملک ہے۔ اس لیے ہر برادری دو مذاہب کے لوگوں کے درمیان شادی کی مخالف ہے اور اس کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ مذہب کی تبدیلی بھی عمومآ لڑکے کے معاشرے میں لڑکی کی قبولیت کے لیے عمل میں آتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہKARIM KHAN
لیکن جیسے جیسے انڈیا میں ہندوتوا کا اثر بڑھ رہا ہے، ہندو مسلم شادیاں ہندوتوا کے نظریے کے نشانے پر ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ صرف ہندو لڑکیاں مسلم لڑکوں سے شادیاں کر رہی ہیں۔ مسلم لڑکیاں بھی بڑی تعداد میں ہندو لڑکوں سے شادی کرتی ہیں اور کچھ مذہب بھی تبدیل کر تی ہیں۔ کسی جمہوری ملک میں پیار اور شادی جیسے معاملے قطعی طور پر انفرادی آزادی کے زمرے میں آتے ہیں۔ انڈیا کی عدالتوں نے ماضی میں ہزاروں جوڑوں کو پولیس اور معاشرے کے جبر سے تحفظ فراہم کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تجزیہ کار ایک عرصے سے اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ ہندو مسلم شادی کو انفرادی پسند اور فیصلہ نہ سمجھ کر اسے دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کی ایک منظم تحریک سمجھنا غلط ہو گا۔ ماضی میں کئی تفتیش سے ابھی تک ایسا کوئی عندیہ نہیں ملا ہے کہ اس طرح کی شادیوں کے پیچھے کوئی چھپا ہوا مقصد کام کر رہا ہے۔ یا وہ کسی منظم تحریک کے تحت ہو رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
نیشنل انوسٹی گیشن ایجینسی یعنی این آئی اے دہشتگردی کے واقعات کی تفتیش اور اس کی روک تھام کے لیے بنائی گئی ہے۔ این آئی سے اے سے شفیع جہاں اور ہادیہ کی شادی کی تفتیش کرانے سے زیادہ بہتر یہ ہوتا کہ عدالت عظمی چوبیس برس کی تعلیم یافتہ ہادیہ کو غیر قانونی نظربندی سے آزاد کرنے کا حکم دیتی اور ان سے پوچھ گچھ کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کرتی۔ آخر ہادیہ کو کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے؟










