85 فیصد تو خوش رہیں!

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
آپ کو شاید یاد ہو کہ انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے دو تین دلچسپ باتیں کہی تھیں: 'اگر عید پر بجلی آتی ہے تو دیوالی اور ہولی پر بھی آنی چاہیے،' اور 'اگر ریاست میں قبرستان بنائے جاتے ہیں تو شمشان گھاٹ بھی بننے چاہییں۔'
ان کا پیغام صاف تھا: سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے، ہندو ہو یا مسلمان۔ اگر ان کے بیان میں ہولی، دیوالی اور شمشان گھاٹ کا ذکر پہلے ہوتا تو تصویر ذرا مختلف ہو جاتی، لگتا ہے کہ مسلمانوں کو ان کا حق نہیں مل رہا لیکن انھوں نے ایسا کہا نہیں کیونکہ ان کے خیال میں ایسا ہو نہیں رہا تھا۔
اور پھر اتر پردیش میں شاندار اکثریت کے ساتھ بی جے پی کی حکومت بن گئی۔ اب ایک یوگی وزیر اعلیٰ ہیں اور ان کے پاس موقع ہے کہ وہ ان تمام پالیسیوں کو بدل دیں جن کی وجہ سے 85 فیصد کے ساتھ ناانصافی ہو رہی تھی۔
اور وہ تیزی سے اپنی ترجیحات کو عملی شکل دے بھی رہے ہیں، بس جیسا جمہوریت میں اکثر ہوتا ہے، سب پھر بھی خوش نہیں ہیں۔
ان میں سے ایک جولیو ریبئرو ہیں جو ممبئی کے سابق پولیس کمشنر ہیں۔ وہ گجرات اور پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل پولیس بھی رہ چکے ہیں۔ ان کا شمار ملک کے سب سے مشہور پولیس افسران میں کیا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
انھوں نے آج ایک اخبار میں 20 سال پہلے ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ کے سدرشن سے اپنی ایک ملاقات کے بارے میں لکھا ہے۔
کے سدرشن مسٹر ریبئرو کے ایک ساتھی کے دوست کے گھر ٹھہرے ہوئے تھے۔ ملاقات کے وقت وہاں اور بھی کئی لوگ موجود تھے۔ جولیو ریبئرو لکھتے ہیں کہ 'کے سدرشن کا صرف ایک ہی نکتہ تھا کہ ملک کی 85 فیصد آبادی کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے، اور ان کے ساتھ سیکنڈ کلاس شہریوں جیسا برتاؤ کیا جا رہا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جو مسٹر ریبئرو نے لکھا ہے وہ کوئی راز نہیں ہے، یہ آر ایس ایس اور بی جے پی کا پرانا موقف ہے اور شمشان گھاٹ والا بیان اسی نظریے کا عکاس ہے۔ مسٹر ریبئرو نے دو تین بنیادی سوال اٹھائے ہیں: 'جب من موہن سنگھ کو چھوڑ کر تمام وزرائے اعظم ہندو تھے، اور سرکاری افسران کی بھاری اکثریت ہندو ہے تو ہندؤوں کے ساتھ ناانصافی کیسے ہو سکتی ہے؟'
لیکن ان کا کہنا ہے کہ اب 20 سال بعد یو پی میں بی جے پی کی شاندار یک طرفہ کامیابی کے بعد انھیں لگتا ہے کہ '85 فیصد کا مطلب اکثریت کے لیے اکثریت کی حکمرانی ہے۔' اور باقی 15 فیصد کو حالات سے سمجھوتہ کر لینا چاہیے لیکن 'اگر قانون کی بالادستی کو یقینی نہیں بنایا گیا تو کیا باقی 85 فیصد بہتر زندگی گزار سکیں گے؟'
بظاہر ان کا اشارہ ان نام نہاد قوم پرستوں کی طرف ہے جو کبھی گائے کی حفاظت تو کبھی 'لو جہاد' کے نام پر قانون اپنے ہاتھوں میں لینے سے باز نہیں آتے، اور ان کا کہنا ہے کہ جلدی ہی ان لوگوں کو قانون توڑنے کی عادت پڑ جائے گی اور پھر وہ دلتوں اور قبائلیوں کو نشانہ بناسکتے ہیں جنھیں کے سدرشن 85 فیصد میں گنتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
مسٹر ریبئرو کے مطابق 'سب کا ساتھ سب کی وکاس' یعنی سب کی ترقی کے فارمولے کا اس انداز میں اطلاق ممکن نہیں ہے کہ صرف 85 فیصد کو ہی فائدہ پہنچے۔
اخبار انڈین ایکسپریس نے بھی اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ تاتھ کی قائم کردہ تنظیم ہندو یوا واہنی کی سرگرمیوں پر ایک اداریہ لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس تنظیم کو لگام دینے کی ذمہ داری خود یوگی آدتیہ ناتھ کی ہے۔ تنظیم کے کارکنوں کو گئو رکھشا اور لو جہاد کے نام پر تشدد کرنے کے الزامات کا سامنا ہے اور یوگی کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد اس کے کارکنوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور انھیں لگتا ہے کہ اب ان کی کوئی جوابدہی نہیں ہے۔
اخبار کے اداریے اور مسٹر ریبئرو کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ یہ ایک خطرناک کھیل ہے اور بات ہاتھ سے نکل بھی سکتی ہے۔
یہ ایک نظریہ ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ اگر سب کو ایک ساتھ خوش نہیں کیا جاسکتا تو کم سے کم 85 فیصد تو خوش رہیں، وہ خوش رہیں گے تو 15 فیصد کی زندگی خود بہ خود بہتر ہو جائے گی!









