یو پی کے نامزد وزیر اعلی کے بعض متنازع بیانات

،تصویر کا ذریعہYOGIADITYANATH.IN
یو پی کے نامزد وزیراعلی اور سختگیر ہندو نظریات کے حامل بے بی جی پی کے رہنما یوگی آدتیہ ناتھ اپنے متنازع بیانات کے لیے معروف ہیں جن کے نشانے پر اکثر ملک کی اقلیتیں رہی ہیں۔
سیاست میں یوگی آدتیہ ناتھ کی شناخت ایک فائر برانڈ ہندو رہنما کی رہی ہے۔
وہ سخت گیر ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کے نظریات سے کافی قریب تصور کیے جاتے ہیں۔ اپنی سیاسی سفر کے آغاز سے ہی وہ نفرت انگیز بیانات دیتے رہے ہیں جن کی فہرست کافی طویل ہے۔
گذشتہ چند برسوں میں ان کے ایسے بیانات کچھ اس طرح سے ہیں۔
جون 2016: 'جب ایودھیا میں متنازع ڈھانچہ (بابری مسجد) کو گرانے سے کوئی نہیں روک سکا تو مندر بنانے سے کون روکے گا۔'

،تصویر کا ذریعہWWW.YOGIADITYANATH.IN
اکتوبر 2016: 'مورتی وسرجن (دیوی دیوتاؤں کے مجسموں کو پانی میں دفنانا) سے ہونے والی آلودگی تو دکھتی ہے لیکن عید اور بقرہ عید کے دن بنارس میں ہزاروں مویشیوں کے کاٹنے سے بہنے والا خون براہ راست گنگا جی میں بہتا ہے، کیا وہ آلودگی نہیں تھی؟'
اکتوبر2015 میں دلی سے متصل دادری میں گائے کی قربانی کرنے کے شبہے میں ہندوؤں نے محمد اخلاق کو ان خاندان کے سامنے قتل کر دیا تھا۔
اس قتل کے ردعمل میں یوگی نے کہا: 'یوپی کابینہ کے وزیر اعظم خان نے جس طرح اقوام متحدہ جانے کی بات کہی ہے، انھیں فوری طور پر برخاست کیا جانا چاہیے۔ آج ہی میں نے پڑھا کہ اخلاق پاکستان گیا تھا اور اس کے بعد سے اس کی سرگرمیاں بدل گئی تھیں۔ کیا حکومت نے یہ جاننے کی کبھی کوشش کی کہ یہ شخص پاکستان کیوں گیا تھا؟ آج اس کی اتنی عزت افزائی ہو رہی ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جون 2015: 'وہ لوگ جو یوگا کی مخالفت کر رہے ہیں انھیں انڈیا چھوڑ دینا چاہیے۔ جو لوگ سوریہ نمسکار کو نہیں مانتے انہیں سمندر میں ڈوب جانا چاہیے۔'

،تصویر کا ذریعہWWW.YOGIADITYANATH.IN
اگست 2015: 'مسلمانوں کی آبادی تیزی سے بڑھنا ایک خطرناک رجحان ہے، یہ ایک تشویش ناک بات ہے، مرکزی حکومت کو کارروائی کرتے ہوئے مسلمانوں کی آبادی کو کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔'
فروری 2015: 'اگر اجازت ملے تو میں ملک کی تمام مساجد کے اندر ہندو دیوی دیوتاؤں کی مورتیاں رکھوا دوں۔ جیسے ارياورت نے آریہ بنائے ویسے ہی ہندوستان میں ہم ہندو بنا دیں گے۔ پوری دنیا میں بھگوا (ہندو) پرچم لہرا دیں گے۔ مکہ میں غیر مسلم نہیں جا سکتا ہے، ویٹیکن میں غیر عیسائی نہیں جا سکتا ہے۔ ہمارے یہاں ہر کوئی آ سکتا ہے۔'
اگست 2014: میں 'لو جہاد' کے تعلق سے یوگی کا ایک ویڈیو سامنے آیا تھا۔ اس میں وہ اپنے حامیوں سے کہتے ہیں 'ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر وہ ایک ہندو لڑکی کا مذہب تبدیل کرواتے ہیں تو ہم 100 مسلم لڑکیوں کا مذہب تبدیل کروائیں گے۔ بعد میں یوگی نے ویڈیو کے بارے میں کہا کہ میں اس معاملے پر کوئی صفائی نہیں دینا چاہتا۔'
یوگی آدتیہ ناتھ کے ایسے متنازع بیانات کی فہرست کافی لمبی ہے اور جب بھی موقع ملا وہ انڈيا کو ایک ہندو راشٹر بنانے کی بات کرتے رہے ہیں۔








