وکلاء کا ترانہ جاری کر دیا گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جوں جوں لانگ مارچ اور دھرنے کا مقررہ وقت نزدیک آرہا ہے وکلاء کی تحریک میں جوش وخروش بڑھ رہا ہے۔ وکلاء کے رہنما اعتزاز احسن کی طرف سے جاری ہونے والا لانگ مارچ کا ترانہ اسی کا آئینہ دار ہے اور تحریکوں کی اس روایت کا بھی عکاس ہے جن میں تحریک کے اغراض ومقاصد کی نمائندگی کرنے والے ترانے جاری کیے جاتے ہیں۔
اعتزاز احسن نےبتایا کہ ترانہ انہوں نے خود لکھا ہے جبکہ اس کی موسیقی اور گائیگی گلوکار عامر منور کی ہے۔ اعتزاز احسن کے لکھے اس ترانے کا آغاز ان مصرے سے ہوتا ہے ’ایک طرف ہے جنتا ساری ایک طرف چند گھرانے، ایک طرف بھوکے ننگے ایک طرف قارون کے خزانے‘۔ ترانہ اعتزاز احسن کی آواز میں شروع ہوتا ہے اور بعد میں گلوکار عامر منور نے اس کو گایا ہے۔ سپریم کورٹ بار کے سابق صدر کا کہنا ہے کہ یہ ترانہ نا صرف وکیلوں کی تحریک کا منشور ہے بلکہ عوام کے لیے ایک پیغام بھی ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ ترانہ صدر آصف علی زرداری سمیت تمام پاکستانیوں کے لیے ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ لانگ مارچ بینظر بھٹو کے اس اعلان کی یاد میں ہے جو انہوں نے جسٹس افتخار چودھری کے گھر کے باہر کیا تھا کہ وہ معزول چیف جسٹس کے گھر پر قومی جھنڈا لہرائیں گی۔ ان کے بقول یہ لانگ مارچ بینظر بھٹو کی پارٹی کے صدر اور وزیر اعظم کو اس اعلان اور وعدے کی یاد دہانی کراتا ہے جو ان کی مرحوم لیڈر نے کیا تھا۔ان کےبقول بینظیر بھٹو نے نومبر سنہ دوہزار سات میں جو لانگ مارچ کرنا تھا وہ عدلیہ کی بحالی کے لیے تھا لیکن انہیں مارچ سے پہلے ہی نظربند کردیا گیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ اور دھرنے کو کوئی جماعت ہائی جیک نہیں کر رہی بلکہ تمام جماعتوں کو اس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ایک دیگر سوال پر انہوں نے واضح کیا کہ دھرنے کا مقام پارلیمنٹ ہاؤس ہے اور اس کو تبدیل نہیں کیا جا رہا ہے۔ اعتزاز احسن نے بتایا کہ وکلاء قیادت نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ لانگ مارچ کے راستے میں تقاریر نہیں کی جائیں گے لیکن راستے میں لگائے گئے استقبالیہ کیمپوں میں موجود لوگوں کو مایوس نہیں کیا جائے گا اور ممکن ہے کہ مختلف استقبالیہ کیمپوں میں تقاریر بھی ہوسکتی ہیں۔ اعتزاز احسن نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ انہوں نے اپنی جماعت پیپلزپارٹی کی طرف سے بھجوائے گئے نوٹسوں کا ابھی جواب نہیں دیا اور امکان ہے کہ آئندہ ایک دو روز میں ان نوٹسوں کا جواب دے دیا جائے گا۔ | اسی بارے میں ’دھرنے میں ن لیگ شرکت کرے گی‘21 February, 2009 | پاکستان کوریج پر پابندی، بار کا احتجاج23 January, 2009 | پاکستان پنجاب بار انتخابات، مِلا جلا نتیجہ 29 January, 2009 | پاکستان نااہلی تنازع اور پاکستانی اخبارات26 February, 2009 | پاکستان بار: شام کی عدالتوں کی مخالفت17 January, 2009 | پاکستان ’بار کونسل کی کارروائی بلاجواز‘17 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||