BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 March, 2009, 03:37 GMT 08:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور، درہ آدم خیل میں دھماکے، دس ہلاک

ماضی میں پشاور میں قانون نافذ کرنے والوں پر حملے ہوتے رہے ہیں
صوبہ سرحد کےصدر مقام پشاور کے علاقے بڈہ بیر اور اس کے قریب ہی واقع قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں دو الگ الگ دھماکوں میں دس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

پشاور کے علاقے بڈہ بیر میں ہونے والے دھماکے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق آٹھ افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سات پولیس اہلکار شامل ہیں۔

بڈہ بیرہ تھانہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی صبح تھانہ سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر ایک مشکوک گاڑی کی اطلاع ملی کہ گاڑی میں ایک نامعلوم شخص کی لاش پڑی ہے جس پر پولیس کی نفری وہاں پہنچ گئی تو اس دوران اچانکہ اس مشکوک گاڑی میں دھماکہ ہوا جس کے نتیجہ آٹھ افراد ہلاک ہو گئے جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس اہلکار کاکہنا تھا کہ ہلاک ہونے میں سات پولیس اہلکار اور ایک عام شہری شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکے میں ایک پولیس گاڑی کے علاوہ وہ مشکوک گاڑی بھی مکمل طور تباہ ہوگئی ہیں۔

پولیس اہلکار نے مزید بتایا کہ دھماکے ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ تھا جو پولیس کے پہنچنے کے بعد کیاگیا۔انہوں نے کہا کہ پولیس اور عام شہری زحمیوں کو ہسپتال پہنچا رہے ہیں۔اور پولیس نے علاقے میں ناکہ بندی بھی کردی ہے لیکن تاحال کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی پشاور میں قانون نافذ کرنے والوں پر خودکش اور باروی سرنگ کے دھماکے ہوچکے ہیں جس سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ عام شہری بھی مارے ہیں۔

دوسری طرف پشاور کے قریب نیم قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں ایک بارودی سرنگ کے دھماکے میں دو شہری ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں تین سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔

ایک اعلیٰ فوجی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کو کوہاٹ سے پشاور جانے والے ایف سی کے دو گاڑیاں میں سے ایک گاڑی نیم قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں عباس چوک کے قریب ایک بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی جس کے نتیجہ میں دو راہ گیر ہلاک جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ اہلکار کے مطابق زخمیوں میں تین سکیورٹی فورسز کے اہلکار شامل ہیں جو معمولی زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے میں پانچ گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے جن میں دو ایف سی کی اور تین دوسرے عام لوگوں کی گاڑیاں شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد کچھ دیر کے لیے سڑک بند ہوگئی تھی لیکن بعد میں سڑک ہر قسم کے ٹریفک کے لیے کھول دی گئی۔

اسی بارے میں
ڈی جی خان دھماکہ، چوبیس ہلاک
05 February, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد