BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 February, 2009, 06:36 GMT 11:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنازے پر خودکش حملہ، پچیس ہلاک

ڈیرہ اسماعیل خان حملہ
ڈی آئی خان میں حالیہ ماہ میں فرقہ وارانہ وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے
صوبہ سرحد کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک جنازے پر ہونے والے خود کش حملے میں کم از کم پچیس افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق حملہ میں زخمی ہونے والے افراد کو ڈسٹرکٹ ہسپتال ڈیرہ اور سی ایم ایچ پہنچایا گیا ہے اور ان میں سے متعدد کی حالت نازک ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک مقامی پولیس افسر اسد اللہ خان مروت نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ حملہ امام بارگاہ کوٹلی امام حسین کے سامنے اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے جنازے پر ہوا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے یہ جنازہ شیر زمان نامی ایک شخص کا تھا جسے جمعرات کی شام ڈیرہ شہر میں امامیہ گیٹ کے علاقے میں نامعلوم افراد نے گولی مار دی تھی۔

ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کے سربراہ محمد اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ اس دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد ایک سو ستاون ہے جن میں سے سو زخمیوں کو سی ایم ایچ جبکہ ستاون کو ڈسٹرکٹ ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان میں داخل کروایا گیا ہے۔

خود کش حملے کے بعد شہر میں کرفیو لگا دیا گیا ہے

اس حملے کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان شہر میں جگہ جگہ فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا اور شہر کے بازار بند ہوگئے۔ اسد اللہ خان مروت کے مطابق شہر میں کرفیو لگا دیا گیا ہے جبکہ فوج اور پولیس نے مشترکہ گشت شروع کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں کو بند کر دیا گیا ہے اور شہر سے باہر دیہاتوں میں تعینات پولیس کی مزید نفری بھی طلب کی گئی ہے۔

پولیس حکام نے بی بی سی کو یہ بھی بتایا کہ ڈیرہ ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ ہسپتال کے مرکزی دروازے پر پولیس تعینات ہے اور کسی عیر متعلقہ شخص کو ہسپتال کے اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔

خیال رہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان کو فرقہ وارانہ لحاظ سے حساس شہر تصور کیا جاتا ہے اور اہلِ تشیع کے ایامِ عزا کے حوالے سے شہر میں سخت حفاظتی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں
ڈیرہ، ہلاک شدگان کی تعداد 30
06 February, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد