مدرسےمیں دھماکہ، چار ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر پشین میں بچیوں کے ایک مدرسے میں دھماکہ ہوا ہے جس میں کم سے کم چار افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔ عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ یہ خود کش دھماکہ تھا ۔ پشین کے ضلعی پولیس افسر اکبر رئیسانی نے بتایا ہے کہ یہ لڑکیوں کا مدرسہ ہے جس میں تقسیم اسناد کی تقریب ہوئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا محمد خان شیرانی اور دیگر قائدین تقریب ختم ہونے کے بعد چلے گئے تھے جس کے بعد دھماکہ ہوا ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ جب مولانا محمد خان شیرانی تقریر کرنے کے بعد نیچے اترے تو ایک نوجوان نے ان کی طرف جانے کی کوشش کی جسے روکا گیا اور اس دوران دھماکہ ہوا۔ عینی شاہدین نے خودکش حملہ آور کی عمر پندرہ اور اٹھارہ سال کے درمیان بتائی ہے۔ اس دھماکے سے ہلاک ہونے والوں میں مدرسے کے دو استاد شامل ہیں۔ بلوچستان کے سینیئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کی تعداد زیادہ ہے۔ یہ مدرسہ کلی کربلا میں واقع ہے جو پشین شہر سے بارہ کلومیٹر دور ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ اس موقع پر ایک اور حملہ آور موجود تھا جو فرار ہونے میں کامیاب ہوا لیکن پولیس نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔ زحمیوں کو سول ہسپتال پشین پہنچا دیا گیا ہے جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ |
اسی بارے میں بلوچستان: تین گیس لائینیں اڑا دی گئیں05 February, 2009 | پاکستان ’یو این اہلکار کا اغواء، ذمہ داری‘ 07 February, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||