بلوچستان: تین گیس لائینیں اڑا دی گئیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈیرہ بگٹی میں تین گیس پائپ لائنوں کو دھماکوں سے اڑایا گیا ہے اور فرنٹیئر کور کے قافلے پر حملہ ہوا ہے، جس میں حکام کے مطابق تین اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ حبیب راہی کے علاقے سے دو بگٹی نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں جن کی شناخت نہیں ہو پائی۔ فرنٹیئر کور کے مطابق زین کوہ میں ٹوبہ کے مقام پر دھماکے سے ایف سی کی گاڑی کو نقصان پہنچا اور تین اہلکار معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ اس بارے میں کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کے ترجمان سر باز بلوچ نے اس حملے کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے۔ سرباز بلوچ کے مطابق اس حملے میں ایف سی کی دو گاڑیاں تباہ ہوئی ہیں اور سات اہلکار ہلاک ہوئے ہیں لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ اس کے علاوہ سوئی میں ایک بڑی گیس پائپ لائن کو دھماکے اڑایا گیا ہے ۔ اس گیس پائپ لائن میں تین کنووں کی گیس آتی ہے۔ اسی طرح اُوچ کے قریب ایک گیس پائپ لائن کو اڑایا گیا ہے جو جنکشن لائن کہلاتی ہے۔ ان حملوں کی ذمہ داری بھی بی آر اے کے ترجمان نے اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے۔ بلوچستان میں خاص طور پر ڈیرہ بگٹی اور اس کے قریبی علاقوں میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ڈیرہ بگٹی کی سرحد پر واقع شہر نصیر آباد سے تعلق رکھنے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے وزیر صادق عمرانی کا کہنا ہے کہ ان کے حلقے میں دو ہفتوں میں چونتیس واقعات پیش آ چکے ہیں۔ جعفر آباد سے بلوچ ریپبلکن پارٹی کے ضلعی صدر مرید بگٹی نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے جیکب آباد سے خفیہ ایجنسی کے اہلکار ان کے بیٹے بھائی اور چچا زاد بھائی کو گاڑیوں کے ایک شو روم سے اٹھا کر لے گئے ہیں۔ | اسی بارے میں ڈیرہ بگٹی، گیس لائن اڑا دی گئی21 January, 2009 | پاکستان جعفر ایکسپریس پر فائرنگ04 January, 2009 | پاکستان کوئلہ کان میں دھماکہ، ایک ہلاک04 January, 2009 | پاکستان اوچ پائپ لائن دھماکے میں تباہ30 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||