اوچ پائپ لائن دھماکے میں تباہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے علاقے نصیر آباد میں اوچ پاور پلانٹ کو جانے والی گیس پائپ لائن کو نامعلوم افراد نے دھماکے سے اڑا دیا ہے۔ یہ پیر اور منگل کی درمیانی شب اوچ گیس فیلڈ کے قریب پیش آیا ہے۔ پولیس کے مطابق نامعلوم افراد نے سوئی میں اوچ گیس فیلڈ سے اوچ پاور پلانٹ جانے والی آٹھ انچ قطر کی گیس پائپ لائن کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس دھماکے کے نتیجے میں پلانٹ کو امونیم گیس کی ترسیل معطل ہو گئی ہے۔ دوسری طرف ایسی اطلاعات ہیں کہ فرنٹیئر کور نے گیس پائپ لائن کی حفاظت کے لیے تعینات عملے کے کچھ اہلکاروں کو حراست لیا ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ چھبیس انچ قطر کی پائپ لائن کو دھماکے سے اڑایا گیا ہے لیکن پولیس ذرائع نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔ اس کے علاوہ کل رات سوئی کے تحصیل بازار میں نامعلوم افراد نے شاہ محمد بگٹی نامی شحص کے مکان پر راکٹ داغے ہیں جس سے پولیس کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ بلوچ ریپبلکن آرمی کے ترجمان سرباز بلوچ نے حملے کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کارروائی میں شاہ محمد کا بیٹا زخمی ہوا ہے۔ سرباز بلوچ نے آر ڈی دو سو اڑتیس میں ایک شخص کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں حملے سرکار کے مخبروں پر کیے گئے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ دو روز پہلے سوئی میں وڈیرہ سکہ خان کے قافلے پر حملہ کیا گیا تھا جس میں ان کے پوتے ہلاک ہو گئے تھے۔ بی آر پی کے ترجمان نے اس حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے اور کہا ہے کہ وڈیرہ سکا خان کی مخبری پر انیس جولائی کو ان کی تنظیم کے آٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ | اسی بارے میں بلوچستان: زیادہ تر علاقوں میں ہڑتال19 December, 2008 | پاکستان ’نواب بگٹی کے منحرف کمانڈر قتل‘29 November, 2008 | پاکستان مسئلہ بلوچستان پر روڈ میپ تیار26 October, 2008 | پاکستان بلوچستان سے تبادلے کی درخواستیں01 October, 2008 | پاکستان نواب مری، بیٹے، آٹھ مقدمات واپس29 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||