BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جعفر ایکسپریس پر فائرنگ

 بلوچستان میں فوج کو بلوچ مزاحمت کاروں کا سامنا ہے
بلوچستان میں فوج کو بلوچ مزاحمت کاروں کا سامنا ہے
بلوچستان کے شہر ڈیرہ مراد جمالی کے قریب نامعلوم افراد نے جعفر ایکسپریس پر فائرنگ کی ہے جس سے ایک شخص زخمی ہوا ہے جبکہ ادھر مچھ میں کوئلے کی کان سے سات مزدوروں کا تلاش کا کام رات دیر تک جاری تھا۔

کوئٹہ سے راولپنڈی جانے والی جعفر ایکسپریس اور ریل گاڑی سے پہلے روانہ ہونے والے پائلٹ انجن جب ڈیرہ مراد جمالی اور ڈیرہ اللہ یار کے درمیان منگولی کے قریب پہنچے تو نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کی ہے۔ ریلوے اہلکاروں نے بتایا ہے کہ اس حملے میں محمد عالم نامی ایک شخص زخمی ہوا ہے۔

دریں اثناء، اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نامی شحص نے اس حملے کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے۔

ترجمان نے کہا ہے اس حملے میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ان کا جانی نقصان بھی ہوا ہے لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

یاد رہے کہ تین روز پہلے سبی کے قریب کوئٹہ ایکسپریس پر اس طرح کا حملہ کیا گیا تھا جس میں ریل گاڑی کا انجن تباہ ہوگیا تھا اور ریل گاڑی کے ڈرائیور سمیت نو افراد زخمی ہوگئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری بھی بی آر اے کے ترجمان نے قبول کی تھی۔

جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان
اس کے علاوہ ایک اور کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان بیبرگ بلوچ نے نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ دنوں میں سکیورٹی فورسز کی تشدد آمیز کارروائیوں کے بعد تینوں کالعدم تنظیمیوں نے جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بیبرگ بلوچ کے مطابق انہوں نے جنگ بندی کا اعلان کر دیا تھا لیکن سکیورٹی فورسز نے مختلف مقامات پر بےگناہ بلوچوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں جن میں خواتین اور بچے ہلاک بھی ہوئے جس کی وجہ سے انہوں نے اب جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

کان میں مزدوروں کی ہلاکت کا خدشہ
اس کے علاوہ ادھر مچھ میں کوئلے کی کان میں دھماکے سے پھنس جانے والے ایک مزدور کی لاش نکالی گئی ہے جبکہ باقی سات کو نکالنے کے لیے کارروائی رات دیر تک جاری تھی۔

پولیس اور معدنیات کے انسپکٹر فاروق کے مطابق یہ دھماکہ کان میں گیس بھر جانے سے ہوا ہے اور دھماکے کو بیس گھنٹے گزر جانے کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان سات مزدوروں کے بچنے کے امکانات کم ہیں۔

اسی بارے میں
حکومت کا حامی وڈیرہ ہلاک
08 November, 2008 | پاکستان
سوئی دھماکے میں چار زخمی
09 November, 2008 | پاکستان
حب میں کار بم دھماکہ
13 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد