پی پی ایل کےستاون ملازمین بحال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر اعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کے ان ستاون ملازمین کو بحالی کے حکم نامے دے دیے ہیں جنہیں ڈیرہ بگٹی میں فوجی آپریشن کے دوران برخاست کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ادھر ڈیرہ بگٹی میں سوئی کے قریبی علاقوں سے کشیدگی کی اطلاعات ہیں ۔ یہ حکم نامے پیر کو وزیر اعلی سیکریٹیریٹ میں ان ملازمین کو دیے گئے ہیں جنہیں مارچ دو ہزار پانچ میں نوکریوں سے برخاست کر دیا گیا تھا۔ اس موقع پر ملازمین نے نواب اکبر بگٹی، براہمداغ بگٹی اور وزیر اعلی نواب اسلم رئیسانی کے حق میں نعرہ بازی کی ہے۔ وزیر اعلی نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ موجود حکومت کےان اقدامات کا حصہ ہے جن میں سیاسی قائدین کے خلاف مقدمات کی واپسی، ان کی رہائی اور لاپتہ افراد کو منظر عام پر لانا شامل ہے۔ انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ان کے مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے ان ملازمین کی بحالی کا فیصلہ کیا ہے۔ ان ملازمین میں نواب اکبر بگٹی کے بیٹے جمیل اکبر بگٹی بھی شامل تھے لیکن ان کا کہنا ہے کہ انھیں سرکاری سطح پر اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے کہ وہ بحال ہوئے ہیں یا نہیں۔ تاہم انھوں نے حکومت کے اس اقدام کو سراہا ہے۔ جمیل اکبر بگٹی کے مطابق ان ملازمین کو بغیر کسی نوٹس یا قانونی کارروائی کے برخاست کیا گیا تھا اور یہ سب کچھ اس وقت کی پی پی ایل کی انتظامیہ نے ’پرویز مشرف کو خوش کرنے کے لیے کیا تھا۔‘ اس کے علاوہ سینیٹ کی داخلہ امور کی کمیٹی کا اجلاس یہاں کوئٹہ میں ہوا ہے جس میں لاپتہ افراد کے بارے میں بتایا گیا کہ بلوچستان سے مجموعی طور پر نو سو افراد لاپتہ ہوئے جن میں سے ستاون کو منظر عام پر لایا گیا ہے اور ان میں سے بتیس کے خلاف مقدمات قائم ہیں۔ صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے اس کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود نے بتایا ہے کہ انھوں نے چیف سیکرٹری بلوچستان سے کہا ہے کہ دیگر کو جلد از جلد تلاش کیا جائے کہ وہ کہاں ہیں۔ ادھر سوئی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پیر کی صبح سویرے سوئی سے دس کلومیٹر دور نیلغ بیح لنجاہ اور دیگر علاقوں میں مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے چھاپے لگائے ہیں۔ بلوچ ریپبلکن پارٹی کے ڈیرہ بگٹی کے رہنما شیر محمد بگٹی نے بتایا ہے کہ فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے صبح سویرے کارروائی کی ہے جس میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور چار دنوں میں ستر افراد کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔ اس بارے میں مقامی پولیس اور یہاں کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کے حکام نے لاعلمی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کی کوئی کارروائی ان علاقوں میں نہیں کی گئی ہے۔ تین روز پہلے دشت گوران کے علاقے میں ایف سی کے اہلکاروں پر حملے کے بعد مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے ایک کارروائی کی گئی تھی۔ | اسی بارے میں نواب اکبر بُگٹی کی تدفین01 September, 2006 | پاکستان ’فوجیوں نے ظلم کیا،سزاملنی چاہیے‘18 September, 2006 | پاکستان جے ڈبلو پی کے عہدیدار مستعفی28 October, 2006 | پاکستان بگٹی کی پوتیوں کے اکاونٹ منجمند21 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||