BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 February, 2009, 14:59 GMT 19:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈی جی خان دھماکہ، چوبیس ہلاک

ڈیرہ غازی خان: فائل فوٹو
ڈیرہ غازی خان میں پہلے فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات ہوئے ہیں
جنوبی پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان میں ایک بم دھماکہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں چوبیس افراد ہلاک جبکہ پنتالیس کے قریب زخمی ہوگئے ہیں۔ مرنے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔

آئی جی پولیس پنجاب شوکت جاوید نے اس حملے میں چوبیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

دوسری طرف ڈی آئی جی ڈیرہ غازی خان اطہر مبارک نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا اور دھماکے کی جگہ لوہے کے ٹکڑے اور انسانی جسم کے اعضاء بھی ملے ہیں۔ ان کے بقول خودکش حملہ آور ہجوم میں داخل ہوا جس کے بعد اس نے خود کو دھماکے سے اڑیا دیا۔

ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ خودکش حملے کے لیے جو جیکٹ استعمال کی گئی ہے اس میں دھماکہ خیز مواد کا وزن بارہ سے چودھ کلو ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکہ ایک امام بارگاہ کے قریب اس وقت ہوا جب امام بارگاہ میں لوگ ماتمی جلوس کے لیے موجود تھے۔دھماکہ اس قدر شدید تھاکہ اس سے قریبی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔

پولیس نے واقعہ کی فوری بعد تمام علاقے کو گھیر لیا اور شہر کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر ناکہ لگادیا گیا۔

وزیر اعلیْ پنجاب شہباز شریف نے ڈیرہ غازی خان میں ہونے والے دھماکے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے ۔

دھماکہ کے بعد لوگ اشتعال میں آگئے اور سڑکوں پر آ کر حکومت کے خلاف نعرے بھی لگائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد