پشاور، خیبر ایجنسی میں دھماکے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور، قبائلی علاقے خیبر ایجنسی اور درہ آدم خیل میں تین الگ الگ دھماکوں میں تیرہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ تازہ ترین دھماکہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں انصارالسلام کے مرکز میں ہوا ہے جس کے نتیجہ میں تین افراد ہلاک جبکہ دس زخمی ہوگئے ہیں۔ دھماکے میں ایک مسجد کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ خیبرایجنسی میں پولیٹکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تحصیل باڑہ کے دوردارز علاقے تیراہ کے پہاڑی سلسلے میں واقع انصارالاسلام کے ایک مرکز میں بم کا ایک دھماکہ ہوا ہے جس کے نتیجہ میں تین افراد ہلاک جبکہ دس زخمی ہوگئے ہیں۔زخمیوں کو خیبر کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کردیا ہے۔ پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار پردل خان نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلے سے مسجد کے قریب انصارالاسلام کے مرکز کے چاردیواری میں نامعلوم افراد نے ایک بم نصب کیا تھا جو تین بجے کے بعد ایک زوردار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا۔انہوں نے کہا کہ دھماکے میں مرکز کی چاردیواری مکمل طورپر تباہ جبکہ مسجد کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے کہا ک انصارالاسلام کے پیروکاروں نے مرکز کو جانے والے راستوں کو بند کیا ہے اور کسی کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ یادرہے کہ خیبر ایجسنی میں انصارالاسلام اور لشکر اسلام کے درمیان جون دو ہزار چھ سے ایک مسلکی تنازعہ چلا آرہا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق اب تک اسی عرصے میں ایک دوسرے کے پانچ سو کے قریب کارکن ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس سے پہلے پشاور کے علاقے بڈہ بیر میں ہونے والے دھماکے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق آٹھ افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں سات پولیس اہلکار شامل ہیں۔ بڈہ بیرہ تھانہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی صبح تھانہ سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر ایک مشکوک گاڑی کی اطلاع ملی کہ گاڑی میں ایک نامعلوم شخص کی لاش پڑی ہے جس پر پولیس کی نفری وہاں پہنچ گئی تو اس دوران اچانکہ اس مشکوک گاڑی میں دھماکہ ہوا جس کے نتیجہ آٹھ افراد ہلاک ہو گئے جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس اہلکار کاکہنا تھا کہ ہلاک ہونے میں سات پولیس اہلکار اور ایک عام شہری شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکے میں ایک پولیس گاڑی کے علاوہ وہ مشکوک گاڑی بھی مکمل طور تباہ ہوگئی ہیں۔ پولیس اہلکار نے مزید بتایا کہ دھماکے ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ تھا جو پولیس کے پہنچنے کے بعد کیاگیا۔انہوں نے کہا کہ پولیس اور عام شہری زحمیوں کو ہسپتال پہنچا رہے ہیں۔اور پولیس نے علاقے میں ناکہ بندی بھی کردی ہے لیکن تاحال کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی پشاور میں قانون نافذ کرنے والوں پر خودکش اور باروی سرنگ کے دھماکے ہوچکے ہیں جس سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ عام شہری بھی مارے ہیں۔ دوسری طرف پشاور کے قریب نیم قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں ایک بارودی سرنگ کے دھماکے میں دو شہری ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں تین سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔ ایک اعلیٰ فوجی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کو کوہاٹ سے پشاور جانے والے ایف سی کے دو گاڑیاں میں سے ایک گاڑی نیم قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں عباس چوک کے قریب ایک بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی جس کے نتیجہ میں دو راہ گیر ہلاک جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ اہلکار کے مطابق زخمیوں میں تین سکیورٹی فورسز کے اہلکار شامل ہیں جو معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے میں پانچ گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے جن میں دو ایف سی کی اور تین دوسرے عام لوگوں کی گاڑیاں شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد کچھ دیر کے لیے سڑک بند ہوگئی تھی لیکن بعد میں سڑک ہر قسم کے ٹریفک کے لیے کھول دی گئی۔ | اسی بارے میں جنازے پر خودکش حملہ، پچیس ہلاک20 February, 2009 | پاکستان ڈیرہ، ہلاک شدگان کی تعداد اکتیس21 February, 2009 | پاکستان بنوں خودکش حملہ: پولیس اہلکار ہلاک24 February, 2009 | پاکستان ڈی جی خان دھماکہ، چوبیس ہلاک05 February, 2009 | پاکستان سکیورٹی فورسز کی فائرنگ، بچے زخمی 15 February, 2009 | پاکستان مدرسےمیں دھماکہ، چار ہلاک 02 March, 2009 | پاکستان شاعر’رحمان بابا‘ کے مزار پر حملہ05 March, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||