نواز، شہباز کا جلسوں سے خطاب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ نون کے سرپرست اعلیٰ نواز شریف نے نارروال اور صدر شہباز شریف نے بہاولپور میں دو بڑے عوامی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ وسط مارچ میں ہونے والی عدلیہ بحالی لانگ مارچ میں بھر پورشرکت کریں۔ نواز شریف نارروال میں خطاب کے لیے سٹیج پر آئے تو انہوں نے تقریر سے پہلے بلٹ پروف شیشے کا کیبن ہٹوایا اور کہا کہ انہیں اپنے ملک کے عوام سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ نارروال کے لوگوں کا جذبہ دیکھ کر خوش ہوئے ہیں اور وہ پرامید ہیں کہ جلد ملک میں تبدیلی لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی سی او ججز نے ان کے خلاف فیصلہ سنا کر دس منٹ کے اندر بھاگ گئے۔ انہوں نے کہا ججوں میں ہمت ہے تو وہ عوام کی عدالت میں آکر دیکھیں۔ نواز شریف نے کہا کہ عدلیہ نے ایک وردی والے پرویز مشرف کو الیکشن لڑنے کی اجازت دیدی جبکہ انہیں دو بار اس ملک کا وزیر اعظم ہونے کے باوجود نااہل قرار دیدیا۔ نوازشریف نے کہا کہ اس ملک میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے لیکن عوام کا فیصلہ ہے کہ اب اس گنگا کو سیدھی کرکے ہی دم لیں گے۔ نواز شریف نے کہا کہ اس کے باوجود کہ پنجاب میں گورنر راج ہے اور انہیں نااہل قراردیا گیا ہے وہ عوام کو خوش خبری دینا چاہتے ہیں کہ ان تمام ہتھکنڈوں کے باوجود انہیں شکست فاش ہوگی۔وہ پنجاب میں اپنی حکومت بنانا چاہتے ہیں لیکن ان کی یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔نواز شریف نے کہا کہ صوبے کی اسمبلی میں پہلے بھی شہباز شریف کی اکثریت تھی اور آج بھی ان کی اکثریت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد بھی پرویز مشرف کی پالیسیوں کی تسلسل جاری ہے اور عوام کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آسکی۔ نہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ عدلیہ بحالی لانگ مارچ میں شرکت کریں۔نواز شریف نے کہا کہ وہ عوام سے اپنے لیے کچھ نہیں مانگ رہے بلکہ اس ملک و قوم کے لیے مانگ رہے ہیں۔انہوں کہا کہ مارچ کے مہینے میں ایک لانگ مارچ آرہا ہے جس میں عوام ان کا ساتھ دیں۔ سابق وزیر اعلی شہباز شریف نے بہاولپور میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو بچانے کے لیے اصل ججوں کو بحال کرنا ہوگا۔شہباز شریف نے کہا کہ وہ اپنی کرسیوں کو قربان کرکے عوام کے پاس آئے ہیں اوران کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بچانا ہے تو سب کو باہر نکلنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ساری قوم لانگ مارچ اور دھرنے میں شریک ہوکر اس ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے تیار رہے۔شہباز شریف نے اس جلسہ عام میں حبیب جالب کی نظم ’میں نہیں مانتا”ترنم میں پڑھی۔ جلسہ میں موجود حاضرین نے نعرے لگا کر اور ہاتھ ہلاکر انہیں داد دی۔ ایک ہی روز میں دونوں بھائیوں کے پنجاب کے الگ الگ شہروں میں دو جلسہ عام سے خطاب کو مبصرین مسلم لیگ نون کی ہ حکومت مخالف رابطہ عوام مہم قرار دے رہے ہیں۔جس کا مقصد بظاہر لانگ مارچ کے لیے اپنے کارکنوں اور حامیوں کو متحرک کرنا ہے۔ | اسی بارے میں گورنر راج:سپریم کورٹ میں چیلنج28 February, 2009 | پاکستان ’خزانے کا غلط استعمال ہوگا‘28 February, 2009 | پاکستان ایم کیو ایم،احتجاجی ریلی02 March, 2009 | پاکستان شریف برادران، نااہلی افسوسناک02 March, 2009 | پاکستان مصالحت کی کوششیں02 March, 2009 | پاکستان قاضی، نواز:مل کر جہدوجہد کا اعلان02 March, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||