ایم کیو ایم،احتجاجی ریلی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ قومی مومنٹ نے پاکستان پپلزپارٹی کی سابق چئرپرسن بینظیر بھٹو کی راولپنڈی میں یادگار کی بے حرمتی کی مذمت کرنے کے لیے اتوار کو احتجاجی ریلی نکالی۔ متحدہ قومی مومنٹ نے ایم اے جناح روڈ پر مزار قائد سے تبت سینٹر تک ریلی نکالی جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ سڑک پر تبت سینٹر سے مزارقائد تک ایم کیو ایم کے جھنڈے اور لوگوں کے سر نظر آرہے تھے۔ یہ سب ایم کیو ایم کی کال پر راولپنڈی میں پپلزپارٹی کی سابق سربراہ بینظیر بھٹو کی یادگار کی بے حرمتی پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے جمع ہوئے تھے۔ ریلی کے شرکاء سے متحدہ کے قائد الطاف حسین، وزیراعلٰی سندھ قائم علی شاہ، اور دونوں جماعتوں کے دیگر رہنماؤوں نے خطاب کیا۔ الطاف حسین کا خطاب شروع ہونے سے پہلے ایم کیو ایم کا مشہور گیت ’ساتھی‘ کا کچھ حصہ سنوایا گیا جس کے بعد الطاف حسین نے اپنا خطاب قرانی آیات کی تلاوت کے ساتھ شروع کیا۔ متحدہ کے قائد الطاف حسین نے بے نظیر بھٹو کی یادگار کی بے حرمتی کرنے والوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس افسوسناک واقعے پر عوام کے دل خون کے آنسو رو رہے ہیں۔ ان کے بقول شریف برادران کی اہلیت کے خلاف فیصلہ عدالت نے دیا تھا بینظیر بھٹو نے نہیں تو پھر ان کی یادگار کی بے حرمتی کیوں کی گئی۔ الطاف حسین نے شریف برادران سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ احتجاج ضرور کریں لیکن انتقامی سیاست سے گریز کریں۔ انہوں نے نوے کی دہائی میں نواز شریف حکومت کے دونوں ادوار کا تذکرہ کیا اور کہا کہ ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کیا گیا اور سندھ میں گورنر راج نواز شریف کے دور میں ہی لگایا گیا۔ الطاف حسین نے کہا کہ نواز شریف کو چاہیے کہ وہ صدر اور دیگر رہنماؤوں کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال نہ کریں۔ الطاف حسین کے بقول وہ گذشتہ تمام باتوں کو بھلا کر نواز شریف کو کھلے دل سے پیشکش کرتے ہیں کہ اگر وہ (نواز شریف) رضامند ہوں تو ایم کیو ایم کے آئینی ماہرین شریف برادران کی اہلیت کیس میں اپیل کی پیروی کرنے کے لیے تیار ہیں۔ پاکستان پپلزپارٹی کے رہنماء اور صوبائی وزیرِ اعلٰی قائم علی شاہ نے کہا کہ نواز شریف نے تو الیکشن میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا لیکن وہ بے نظیر بھٹو تھیں جنہوں نے ان سے کہا تھا کہ انتخابات میں حصہ لے کر ہی جمہوریت کی جدوجہد ممکن ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی موت کے بعد آصف زرداری نے ان کو انتخابات میں دوبارہ حصہ لینے کے لیے راضی کیا۔ قائم علی شاہ نے نواز شریف پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک شخص کو اس کی کرسی پر اس لیے بٹھانا چاہتے ہیں تاکہ وہ چور دروازے سے حکومت میں آسکیں۔ ان کے بقول اب کوئی چور دروازے سے ایوانوں میں داخل نہیں ہوسکے گا۔ ریلی سے دیگر رہنماؤوں نے بھی خطاب کیا۔ پولیس اور رینجرز کے علاوہ ایم کیو ایم کے کارکنوں نے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||