BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 February, 2009, 01:00 GMT 06:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گورنر راج میں اسمبلی اجلاس

پمجاب اسمبلی (فائل فوٹو)
پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ گورنر راج کے بعد صوبائی اسمبلی کے اجلاس کی قانونی حیثیت نہیں ہے (فائل فوٹو)
پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں گورنر راج کے نفاذ کے دوران صوبائی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں مسلم لیگ نون سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی نے شرکت کی۔

بدھ کی رات نو بجے ہونے والے اس اجلاس میں مسلم لیگ نون قائد نواز شریف اور صدر شہباز شریف کی نااہلی کے عدالتی فیصلہ کے خلاف ایک قرارداد منظور کی گئی ہے۔

ادھر پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبائی اسمبلی کے اجلاس کی قانونی حیثیت نہیں ہے اور یہ غیر آئینی ہے۔

سپیکر پنجاب اسمبلی نے عدالتی فیصلے کے خلاف قرار داد کی منظوری کے بعد اجلاس جمعرات کی صبح دس بجے تک ملتوی کردیا ہے۔

اجلاس کے بعد ڈپٹی سپیکر پنجاب رانا مشہود احمد خان نے اسمبلی ہال کے باہر میڈیا سے بات کی اور ان کا کہنا تھا کہ جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں صوبے میں امن وامان اور موجودہ صورت حال پر بحث کی جائے گی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ اگر انہیں جمعرات کو اسمبلی کی عمارت کے اندر جانے کی اجازت نہ دی گئی تو یہ اجلاس اسمبلی کی عمارت کے باہر سڑھیوں پر ہوگا۔

بدھ کی رات ہونے والے اجلاس میں مسلم لیگ نون کے اراکین کے نے شرکت کی جبکہ صوبائی اسمبلی کی دیگر پارلیمانی جماعتوں کے کسی رکن نے شرکت نہیں کی۔اجلاس کے دوران مسلم لیگ نون کے ارکان نے مسلسل صدر آصف علی زرداری اور عدلیہ کے خلاف جبکہ نواز شریف اور شہباز شریف کے حق میں نعرے لگائے۔

جب پنجاب اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو سپیکر صوبائی اسمبلی رانا اقبال نے ایوان کو بتایا کہ انہوں نے یہ اجلاس ایک سو بیس ارکان اسمبلی کی درخواست پر طلب کیا ہے اور بقول ان کے دفعہ چون کی ذیلی شق تین کے تحت ان کے پاس اسمبلی کا اجلاس بلانے کا اختیار ہے اور اسی قانونی اختیار کے تحت انہوں نے اجلاس طلب کیا ہے۔

قرارداد
 ایوان آصف علی زرداری کے ایماء پر پی سی او ججز کے ہاتھوں پنجاب کے منتخب وزیر اعلیْ کی نااہلی کو اتفاق رائے سے مسترد کرتا ہے اور اس کی پروز مذمت بھی کرتا ہے۔

سابق وزیر قانون رانا ثناء اللہ خاں نے شریف براردران کی نااہلی کے خلاف قرار داد پیش کی جس میں کہا گیا کہ پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان آج آنے والے سپریم کورٹ کے فیصلے کو جمہوریت پر شب خون تصور کرتا ہے۔

قرارداد میں یہ کہاگیا کہ ایوان آصف علی زرداری کے ایماء پر پی سی او ججز کے ہاتھوں پنجاب کے منتخب وزیر اعلیْ کی نااہلی کو اتفاق رائے سے مسترد کرتا ہے اور اس کی پروز مذمت بھی کرتا ہے۔ قرارداد میں مزید کہا گیا کہ یہ ایوان سمھجتا ہے کہ پی سی او کورٹ کی طرف سے نہ صرف پنجاب بلکہ پاکستان کے عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی گئی ہے اور جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔

مسلم لیگ نون کے ارکان پنجاب اسمبلی نے قرار داد کے ذریعے نواز شریف اور شہباز شریف کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور ان کی قیادت میں جمہوریت ، قانون کی حکمرانی اور آزاد عدلیہ کے لیے جدوجہد کو جاری رکھنے کے عزائم کا اظہار کیا۔

تین گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں ارکان اسمبلی نے آصف علی زرداری اور عدلیہ پر کڑی تنقید کی۔

اسی بارے میں
’جوڑ توڑ کی ماہر شخصیت‘
25 February, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد