وزیرستان: میزائل حملہ، 28 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ امریکی میزائل حملے میں کم سے کم اٹھائیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ازبک اور افغان جنگجو شامل ہیں۔ وزیرستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ سنیچر کی صبح لدھا سب ڈویژن کے علاقے نصر خیل میں اس وقت پیش آیا جب مبینہ امریکی جاسوس طیارے سے روشان محسود نامی ایک شخص کے مکان پر دو میزائل داغے گئے جس سے مکان مکمل طورپر تباہ ہوگیا ہے۔ مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ حملے میں اٹھائیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق حملے کے وقت مکان میں مقامی عسکریت پسند بڑی تعداد میں جمع تھے۔ انہوں نے کہا کہ مرنے والوں میں ازبک اور افغان جنگجو شامل ہیں۔ طالبان ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ازبک اور افغان طالبان شامل ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حملے کے فوری بعد عسکریت پسند اور مقامی لوگ بڑی تعداد جائے وقوعہ پر جمع ہوئے اور ملبے تلے سے لاشیں نکالنا کا کام شروع کیا۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں کو مکین کے علاقے کی طرف لے جایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جس مکان کو نشانہ بنایا گیا وہاں اکثراوقات طالبان کا آنا جانا رہتا تھا تاہم بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مکان کو طالبان بطور مرکز کے استعمال کرتے تھے تاہم عسکریت پسند اس کی تردید کرتے ہیں۔ بیس جنوری کو صدر باراک اوباما کے امریکی صدر کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقے پر ہونے والے یہ تیسرا میزائیل حملہ ہے۔ گزشتہ روز امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کی سربراہ نے کہا تھا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں میزائل حملے کرنے والے ڈرون طیارے ملک کے اندر ہی سے پرواز کرتے ہیں۔ یہ بات ینیٹر ڈائیان فائنسٹین نے سینیٹ کی ایک کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے کیا تھا۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی امریکی اہلکار نے اس بارے میں واضح الفاظ میں بیان دیا ہے کہ طیارے کہاں سے پرواز کرتے ہیں۔ ڈرون طیاروں کے حملوں پر قبائلی علاقوں میں بہت ناراضگی ہے اور اس سلسلےمیں حکومت پاکستان بھی امریکہ سے اپنی ناراضگی کا ظاہر کرتی رہی ہے۔ چند ماہ قبل امریکی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں بھی شائع ہوئی تھیں کہ صدر بش نے پاکستان کی سرحدوں کے اندر حملوں کی باقاعدہ اجازت دیدی تھی لیکن حکومت پاکستان نے ہمیشہ اس بات سے انکار کیا ہے کہ ڈرون حملوں کے سلسلے میں اس نے امریکہ کے ساتھ کوئی خفیہ سمجھوتہ کیا ہے۔ | اسی بارے میں میزائل حملے کی افادیت کیا؟23 December, 2008 | پاکستان 2009: دو دنوں میں دوسرا ڈرون حملہ02 January, 2009 | پاکستان ڈرون حملوں کے ’درست‘ نشانے23 January, 2009 | پاکستان ’ڈرون پاکستان سے اڑائے جاتے ہیں‘13 February, 2009 | پاکستان ’پاکستان پر حملے رک جائیں گے‘20 November, 2008 | پاکستان امریکی جاسوسی فضا سے، زمین پر پاکستان مضبوط12 September, 2008 | پاکستان ڈرون کی تاریخ16 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||