میزائل حملے کی افادیت کیا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بقول حکومت پاکستان مبینہ امریکی جاسوس طیاروں کے بغیر اجازت حملے جاری ہیں۔ تازہ حملے میں مشتبہ مکانات کی بجائے اب چلتی گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ گزشتہ کئی حملوں میں ہلاک ہونے والے غیرملکی ہوا کرتے تھے تاہم اس مرتبہ تو مقامی قبائلی ہی نہیں ’پنجابی شدت پسند‘ بھی نشانہ بنے۔ ایسے میں اب تک کے حملوں کی افادیت کیا رہی ہے؟ بعض لوگوں کے خیال میں اب تک کے ان گنت حملوں میں القاعدہ کی کوئی بڑی ’مچھلی‘ ہاتھ نہ آنا ان کی افادیت کم کر دیتی ہے۔ تاہم ایک رائے یہ بھی ہے کہ چھوٹے موٹے سہی القاعدہ کا کچھ تو صفایا ہو رہا ہے۔ ان متنازعہ حملوں میں القاعدہ کے ایک دو اہم رہنما بھی مارے گئے ہیں لیکن ان حملوں کا نشانہ زیادہ تر عام شہری بنے ہیں جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں جو کسی بھی طرح شدت پسند نہیں ہوسکتے ہیں۔ اب تک کے حملوں میں جو سرکردہ القاعدہ کے لوگ مارے جانے کا شک ہے ان میں عبداللہ اعظم السعودی، ابو جہاد المصری، ابو خباب، ابو لیث اللبی، ابو عکاش العراقی اور عبدالرحمان السعودی شامل ہیں۔ لیکن امریکہ نے آج تک ان میں سے کسی کی ہلاکت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔ ایک آدھ ہلاکت کی تصدیق امریکی ذرائع کے توسط سے مغربی میڈیا میں شائع ہوئی ہیں لیکن مجموعی طور پر امریکہ نے شدید ’سیکریسی’ اختیار کر رکھی ہے۔
بعض عسکری ذرائع کے مطابق امریکہ جدید جاسوس طیاروں کے ذریعے قبائلی علاقوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ کسی بھی وقت فضاء میں پانچ چھ بغیر پائلٹ کے طیارے محو پرواز رہتے ہیں۔ اس کا اندازہ جلال آباد کے امریکی اڈے پر گزشتہ دنوں ہوا جہاں تقریباً ہر گھنٹے پوری طرح سے مسلح یہ طیارے اڑان کرتے نظر آئے۔ ویسے ابھی تک تو امریکہ نے ان حملوں کی باضابطہ ذمہ داری بھی قبول نہیں کی ہے۔ لیکن اصل مسئلہ ان حملوں میں ہلاکتوں کی باضابطہ تصدیق کا بھی ہے۔ حملہ ہوتا ہے دو چار غیرملکیوں کی ہلاکت کی خبر آتی ہے لیکن وہ کون ہیں سرکاری سطح پر اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاتا۔ جنوبی وزیرستان میں تازہ حملے میں بھی یہی دیکھا گیا ہے۔ چند ’پنجابی‘ شدت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے لیکن وہ کون ہیں کس تنظیم یا علاقے سے ہیں کبھی معلوم نہیں ہو پاتا۔ برطانوی شہری راشد رؤف کی ہلاکت کی خبر بھی گزشتہ ماہ سامنے آئی لیکن ابھی تک نہ تو حکومت پاکستان اور نہ امریکہ نے اس کی تصدیق کی ہے۔ کسی ہلاکت کی واحد تصدیق طالبان کی جانب سے سامنے آئی تو وہ ابو خباب کی وانا میں ہلاکت تھی۔ اس کے علاوہ القاعدہ سے تعلق کا شبہ جن کراچی کے دو ڈاکٹر برادران پر کیا جاتا تھا ان میں سے ایک ڈاکٹر ارشد وحید کی ہلاکت بھی اسی طرح کے میزائل حملے میں اس سال مارچ میں ہوئی تھی۔ وہ اپنے خاندان کے ساتھ کور کمانڈر کراچی پر حملے کے مقدمے سے بری ہونے کے بعد وانا منتقل ہوگئے تھے۔
جاسوس طیاروں کے آگے تو شدت پسند یقیناً بےبس ثابت ہوئے ہیں تاہم زمین پر گھومنے پھرنے والے جاسوسوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ان میں اکثریت افغانوں کی بتائی جاتی ہے۔ تاہم ان کی ہلاکتوں کے بعد بھی یہ عمل بظاہر رکا نہیں ہے۔ پاکستان نے امریکہ کو ناراض نہ کرنے کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے ان حملوں کے خلاف باضابطہ احتجاج تو بہت کیے ہیں لیکن کئی سیاسی جماعتوں کے مطالبے کے باوجود افغانستان سامان رسد کی بندش یا سفیر کو نکالنے جیسا کوئی بھی اقدام اٹھانے سے اجتناب تو دور کی بات اس کی اب تک دھمکی بھی نہیں دی ہے۔ اس بابت منتخب ایوانوں کی متفقہ قرار دادیں بھی بےاثر ہو کر رہ گئی ہیں۔ ان حملوں میں امریکہ سے تعاون سے پاکستان انکار کرتا رہا ہے لیکن سب پر واضح ہے کہ اس کے بغیر ان حملوں کی افادیت تقریباً بےمعنی ہوکر رہ جاتی ہے۔ امریکہ اور پاکستان میں ان حملوں پر اتفاق اور تعاون کے بغیر عام شہریوں کی زندگیوں کو زیادہ خطرہ ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||