BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 January, 2009, 07:02 GMT 12:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات: درجہ چہارم تک پابندی ختم

مولانا فضل اللہ
مولانا فضل اللہ نے کہا کہ جنرل کیانی کے دورہ سوات کے بعد سے فوجی کاروائی میں تیزی آئی ہے
سوات میں تحریکِ طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ نے لڑکیوں کی تعلیم حاصل کرنے پر لگائی جانے والی پابندی کا فیصلہ واپس لینے کا عندیہ دیا ہے۔

سوات سے فون پر بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل اللہ نے کہا کہ انہوں نے چوتھی جماعت تک لڑکیوں کی تعلیم کی اجازت دیدی ہے اور مکمل طور پر پابندی اٹھائے جانے پر ازسرِ نو غور کیا جاسکتا ہے۔

ان کے مطابق’ ہم نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے لڑکیوں کو چوتھی جماعت تک سکول پڑھنے کی اجازت دی ہے اور اب ہم ایک ایسی حکمت عملی وضع کریں گے جو دنیا کے لیے ایک اچھا پیغام ثابت ہوگا۔‘

طالبان کی جانب سے سکولوں کو بموں سے اڑانے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے الزام لگایا کہ خود سکیورٹی فورسز نے بھی بعض تعلیمی اداروں کو تباہ کیا ہے جسکے ان کے پاس ویڈیو ثبوت بھی موجود ہیں۔

سکول جلانے کا مقصد
سوات میں کئی سکولوں کو بالکل جلا دیا گیا ہے
 طالبان اس لیے تعلیمی اداروں کو تباہ کررہے ہیں کیونکہ بقول ان کے سکیورٹی فورسز انہیں نہ صرف مورچے کے طور پر استعمال کررہی ہیں بلکہ وہاں پر تعلیم کی آڑ میں مبینہ طور پر’ فحاشی‘ کو بھی فروغ دیا جارہا ہے
فضل اللہ

البتہ انہوں نے کہا کہ طالبان اس لیے تعلیمی اداروں کو تباہ کررہے ہیں کیونکہ بقول ان کے سکیورٹی فورسز انہیں نہ صرف مورچے کے طور پر استعمال کررہی ہیں بلکہ وہاں پر تعلیم کی آڑ میں مبینہ طور پر’ فحاشی‘ کو بھی فروغ دیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ’حکومت ہم پر بھی تو پھول نہیں برسا رہی ہے بلکہ میزائل اور بارود برساتی ہے جسکا ردعمل بھی اسی قسم کا ہوگا۔‘

مولانا فضل اللہ نے کہا کہ پاکستانی فوج کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی کے دورہ سوات کے بعد سے فوجی کارروائی میں تیزی آئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آرمی چیف سوات میں فوجی کاروائی میں تیزی لانے کی بجائے سرحد پار افغانستان سے پاکستانی سرزمین پر امریکی ڈرونز حملے رکوانے کے خلاف احکامات جاری کرتے تو اس پاکستانی قوم اور فوج کا مورال بلند ہوجاتا۔

انہوں نے سکیورٹی فورسز پر الزام لگایا کہ فوجی آپریشن میں تیزی لانے کے بعد انہوں نے ننگولئی اور منگلور میں شہریوں کو مار کر انکی لاشیں سرِ عام پھینک دی ہیں۔ تاہم حکومت اس قسم کے الزامات کی پہلے ہی تردید کرچکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ نظریہ پا کستان کی رو سے اسلامی نظام کے مطابق حکومتی رٹ کوقائم کرنے کے لیے تو تیار ہیں مگر لارڈ میکالے کے نظام کے تحت قائم ہونے والی عملداری کو دوبارہ بحال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

اس سوال کے جواب میں کہ طالبان پر علماء اور قبائلی عمائدین کی جانب سے یہ نکتہ چینی ہورہی ہے کہ وہ لوگوں کے گلے کاٹ کر اور مردوں کو قبر سے نکال کر لٹکاتے ہیں جنہں اسلام اور پشتون روایات کے منافی عمل گردانا جارہا ہے تو مولانا فضل اللہ نے دعوی کیا کہ’اسلام میں جاسوسی کی سزا گلا کاٹنا ہے، یہ سنتِ رسول ہے اور صحابہ کرام نے اس پر عمل بھی کیا۔ میں اس معاملے پر علماء کے ساتھ مناظرے کے لیے بھی تیار ہوں۔‘

مولانا فضل اللہ اس وقت روپوش ہیں اور ذرائع کے مطابق وہ ایک نامعلوم مقام سے طالبان کی کارروائیوں کی نگرانی کررہے ہیں۔وہ میڈیا کے سامنے بہت کم آتے ہیں اور اس دفعہ بھی انہوں نے ایک طویل عرصے کے بعد صرف دو سوال پوچھنے کی شرط پر بی بی سی کے ساتھ بات کی ہے۔

سواتسوات آپریشن
بارہ سو شہری، ایک سو نواسی فوجی ہلاک
فوج اپنی ساکھ بچائیں
سوات میں فوج ایک فریق ہے: افضل خان
سوات آپکی دہلیز پر
سوات سفر میں ہے اور جلد آپکے شہر میں ہو گا
قانون نیا نہیں ہے
ماہرین متفق نہیں کہ ترامیم بہتری لائیں گی
مولانا فضل اللہطالبان کا ایف ایم
سوات میں مولانا فضل اللہ کی پروپیگنڈا مشین
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد