سوات: درجہ چہارم تک پابندی ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوات میں تحریکِ طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ نے لڑکیوں کی تعلیم حاصل کرنے پر لگائی جانے والی پابندی کا فیصلہ واپس لینے کا عندیہ دیا ہے۔ سوات سے فون پر بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل اللہ نے کہا کہ انہوں نے چوتھی جماعت تک لڑکیوں کی تعلیم کی اجازت دیدی ہے اور مکمل طور پر پابندی اٹھائے جانے پر ازسرِ نو غور کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق’ ہم نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے لڑکیوں کو چوتھی جماعت تک سکول پڑھنے کی اجازت دی ہے اور اب ہم ایک ایسی حکمت عملی وضع کریں گے جو دنیا کے لیے ایک اچھا پیغام ثابت ہوگا۔‘ طالبان کی جانب سے سکولوں کو بموں سے اڑانے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے الزام لگایا کہ خود سکیورٹی فورسز نے بھی بعض تعلیمی اداروں کو تباہ کیا ہے جسکے ان کے پاس ویڈیو ثبوت بھی موجود ہیں۔
البتہ انہوں نے کہا کہ طالبان اس لیے تعلیمی اداروں کو تباہ کررہے ہیں کیونکہ بقول ان کے سکیورٹی فورسز انہیں نہ صرف مورچے کے طور پر استعمال کررہی ہیں بلکہ وہاں پر تعلیم کی آڑ میں مبینہ طور پر’ فحاشی‘ کو بھی فروغ دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ’حکومت ہم پر بھی تو پھول نہیں برسا رہی ہے بلکہ میزائل اور بارود برساتی ہے جسکا ردعمل بھی اسی قسم کا ہوگا۔‘ مولانا فضل اللہ نے کہا کہ پاکستانی فوج کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی کے دورہ سوات کے بعد سے فوجی کارروائی میں تیزی آئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آرمی چیف سوات میں فوجی کاروائی میں تیزی لانے کی بجائے سرحد پار افغانستان سے پاکستانی سرزمین پر امریکی ڈرونز حملے رکوانے کے خلاف احکامات جاری کرتے تو اس پاکستانی قوم اور فوج کا مورال بلند ہوجاتا۔ انہوں نے سکیورٹی فورسز پر الزام لگایا کہ فوجی آپریشن میں تیزی لانے کے بعد انہوں نے ننگولئی اور منگلور میں شہریوں کو مار کر انکی لاشیں سرِ عام پھینک دی ہیں۔ تاہم حکومت اس قسم کے الزامات کی پہلے ہی تردید کرچکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ نظریہ پا کستان کی رو سے اسلامی نظام کے مطابق حکومتی رٹ کوقائم کرنے کے لیے تو تیار ہیں مگر لارڈ میکالے کے نظام کے تحت قائم ہونے والی عملداری کو دوبارہ بحال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اس سوال کے جواب میں کہ طالبان پر علماء اور قبائلی عمائدین کی جانب سے یہ نکتہ چینی ہورہی ہے کہ وہ لوگوں کے گلے کاٹ کر اور مردوں کو قبر سے نکال کر لٹکاتے ہیں جنہں اسلام اور پشتون روایات کے منافی عمل گردانا جارہا ہے تو مولانا فضل اللہ نے دعوی کیا کہ’اسلام میں جاسوسی کی سزا گلا کاٹنا ہے، یہ سنتِ رسول ہے اور صحابہ کرام نے اس پر عمل بھی کیا۔ میں اس معاملے پر علماء کے ساتھ مناظرے کے لیے بھی تیار ہوں۔‘ مولانا فضل اللہ اس وقت روپوش ہیں اور ذرائع کے مطابق وہ ایک نامعلوم مقام سے طالبان کی کارروائیوں کی نگرانی کررہے ہیں۔وہ میڈیا کے سامنے بہت کم آتے ہیں اور اس دفعہ بھی انہوں نے ایک طویل عرصے کے بعد صرف دو سوال پوچھنے کی شرط پر بی بی سی کے ساتھ بات کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||