’آنر بورڈ پر شاید اس سال کسی کا نام نہ لکھاجائے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں گزشتہ برس اکتوبر میں شروع ہونے والی فوجی کارروائی جاری ہے۔ ایک طرف سکیورٹی فورسز اور طالبان کی جھڑپوں میں درجنوں عام شہریوں کے ہلاکتیں ہوئی ہیں تو دوسری طرف مسلح طالبان نے ایک سو تیس سے زائد سکولوں کو تباہ کر دیا ہے جن میں سے زیادہ تر لڑکیوں کے ہیں۔ اب طالبان نے پندرہ جنوری سے لڑکیوں کے سکول جانے پر بھی پابندی لگادی ہے۔ اس صورتحال میں طالبات پر کیا گزر رہی ہے، بی بی سی ارود ڈاٹ کام ساتویں جماعت کی ایک طالبہ کی کہانی ایک ڈائری کی صورت میں شائع کررہی ہے۔ سکیورٹی کے خدشے کے پیش نظر وہ ’گل مکئی‘ کے فرضی نام سے اپنی ڈائری لکھ رہی ہیں۔ ’سوات کی طالبہ‘ سلسلے کی چوتھی کڑی:
ہمارے سالانہ امتحانات چھٹیاں ختم ہونے کے بعد ہونگے، لیکن یہ اس وقت ہونگے جب طالبان لڑکیوں کو سکول جانے کی اجازت دیں تیاری کرنے کے لیے ہمیں کچھ چپٹر بتائے گئے ہیں مگر میرا دل پڑھنے کو نہیں کررہا ہے۔ کل سے فوج نے بھی مینگورہ میں تعلیمی اداروں کی حفاظت کے لیے کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ جب درجنوں سکول تباہ ہوگئے اور سینکڑوں بند ہوئے تو اب جاکے فوج کو حفاظت کا خیال آیا۔اگر وہ صحیح آپریشن کرتے تو یہ نوبت پیش ہی نہ آتی۔ مسلم خان نے کہا ہے کہ وہ ان تعلیمی اداروں پر حملہ کریں گے جن میں فوجی ہونگے۔اب تو سکول میں فوجیوں کو دیکھ کر ہمارا خوف اور بھی بڑھ جائے گا۔
آج صبح سویرے توپ کے گولوں کی آوازیں سن کر نیند سے جاگ اٹھی۔ بہت زیادہ گولہ باری ہوئی ہے۔ پہلے ہم ہیلی کاپٹروں کے شور سے ڈرتے تھے اور اب توپ کے گولوں سے۔ مجھے یاد ہے کہ جب آپریشن شروع ہوا تھا اس وقت جب پہلی مرتبہ ہیلی کاپٹر ہمارے گھروں کے اوپر سے گزرے تھے تو ہم خوف کے مارے چھپ گئے تھے۔ میرے محلے کے تمام بچوں کی یہی حالت تھی۔ ایک دن ہیلی کاپٹروں سے ٹافیاں پھینکی گئیں اور پھر یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلتا رہا۔اب میرے بھائی اور محلے کے دوسرے بچے جونہی ہیلی کاپٹر کی آواز سنتے ہیں تو وہ باہر نکل کر ٹافیوں کے پھینکے جانے کا انتظار کرتے ہیں لیکن اب ایسا نہیں ہوتا۔ تھوڑی دیر پہلے ابو نے خوشخبری سنائی کہ وہ ہمیں کل اسلام آباد لیکر جارہے ہیں۔ ہم سب بہن بھائی بہت خوش ہیں۔
ابو نے اپنا وعدہ پورا کیا اور ہم کل ہی اسلام آباد آگئے۔ راستے میں ہمیں بہت ڈر لگ رہا تھا کیونکہ میں نے سنا تھا کہ طالبان رستے میں تلاشی لیتے ہیں۔ لیکن اچھا ہوا کہ ہمارے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔ اسکے بجائے فوج نے ہماری تلاشی لی۔ جب سوات کا علاقہ ختم ہوگیا تو ہمارا خوف ختم ہوگیا۔ ہم اسلام آباد میں ابو کے ایک دوست کے ساتھ ٹھہرے ہوئے ہیں۔ میں پہلی بار اسلام آباد آئی ہوں، یہ ایک خوبصورت شہر ہے، یہاں بڑے بڑے بنگلے اور صاف ستھرے سڑکیں ہیں لیکن اس میں وہ نیچرل بیوٹی نہیں ہے جو میرے سوات میں ہے۔ ابو ہمیں لوک ورثہ لیکر گئے۔یہاں میری معلومات میں بہت اضافہ ہوا۔سوات میں بھی اسی قسم کا میوزیم ہے لیکن معلوم نہیں کہ وہ محفوظ رہ بھی سکے گا یا نہیں؟ لوک ورثہ سے نکل کر ابو نے ایک بوڑھے شخص سے ہمارے لیے پاپ کارن خریدا۔اس شخص نے جب پشتو میں بات کی تو ابو نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ اسلام آباد کے رہنے والے ہیں تو اس بوڑھے شخص نے جواب دیا کہ آپکو کیا لگتا ہے کہ اسلام آباد پشتونوں کا ہوسکتا ہے؟ اس شخص نے بتایا کہ اس کا تعلق مہمند ایجنسی سے ہے جہاں پر فوجی آپریشن شروع ہوگیا ہے۔ ’میں گھر بار چھوڑ آکر یہاں آیا ہوں۔‘ اس وقت میں نے ابو اور امی کی آنکھوں میں آنسو دیکھ لیے۔ |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||