گرتی عمارتیں اور خوف سے بھرا منظر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ دس سالوں سے پشاور میں کئی دھماکوں کی رپورٹنگ کی ہے تاہم گزشتہ رات قصہ خوانی بازار کے عقب میں ہونے والا دھماکہ نقصان کے حوالے سے شاید سب سے بڑا تھا۔ آج صبح جب جائے وقوعہ پہنچا تو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود بھی ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جسے ابھی ابھی دھماکہ ہوا ہے۔ اردگرد عمارات کو دیکھا تو شدید خوف محسوس ہوا، ہر عمارت گرتی ہوئی محسوس ہوئی۔ یہ ایک تباہ کن اور خوف سے بھرا منظر تھا۔ ایک لمحے کےلیے تو بالکل ایسا محسوس ہوا کہ جسے یہاں رات کو قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ ہرطرف تباہی کے مناظر دکھائی دیئے اور لوگ نوحہ کناں نظرآئے۔ دھماکہ اتنا زودار اور شدید تھا کہ اس سے اردگرد تقریباً بیس سے لیکر اسی میٹر تک تمام علاقے میں بڑے پیمانے پر دوکانوں، عمارتوں، گھروں اور مارکیٹوں کوشدید نقصان پہنچا ہے۔ میں تقریباً ایک گھنٹے تک وہاں موجود رہا اور اس دوران ہر لمحے یہی خوف رہا کہ جن عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے وہ گر نہ جائیں کیونکہ وہ دھماکے کی شدت کے باعث گرنے کے قریب ہیں۔ پولیس والوں کی طرف سے منع کرنے کے باوجود بھی ذرائع ابلاغ کے کئی نمائندے تباہ ہونے والی عمارتوں کے نیچے خطرناک صورتحال میں رپورٹنگ کرتے دکھائی دیئے۔ وہاں موجود کئی لوگوں کو یہ کہتے سنا کہ یہ میرٹ ہوٹل کے طرز کا دھماکہ تھا۔ جہاں یہ واقعہ پیش آیا وہ ایک تنگ سی گلی ہے جس کے اردگرد گھر، دوکانیں اور بازار ہیں۔ یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں سے ملحق تین چار بازار ایک ساتھ واقع ہیں اور جہاں دن رات ہر وقت لوگوں کا انتہائی رش رہتا ہے۔ جائے وقوعہ پر مقامی انتظامیہ کے کئی اہلکار ملبہ ہٹانے میں مصروف رہے۔ ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ تباہی اتنی ہوئی ہے کہ ملبہ ہٹانے کے کام میں مزید ایک دن لگ سکتا ہے۔ ’میں نے دیکھا کہ قریب ایک عمارت سے ایک لاش نکالی گئی جس کا ایک ہاتھ اور دہڑ کا کچھ حصہ باقی رہ گیا تھا جبکہ اس کا سر نہیں تھا۔ لاش آگ کی وجہ سے بری طرح جلس گئی تھی۔لاشوں کی جلنے کی وجہ سے وہاں بدبو بھی پھیلی ہوئی ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ عید کا موقع ہے اس لیے دھماکے کے وقت لوگوں کا رش غیرمعمولی تھا۔ دھماکے میں زیادہ تر چھوٹے اور کم سرمایے والے دوکانداروں کو نقصان پہنچا ہے۔ کباڑی بازار میں مجھے دیکھتے ہی کئی دوکاندار میری طرف لپک پڑے اور سب ایک ساتھ بولنے لگے۔ درجنوں دوکاندار اس بات پر غصہ تھے کے رات سے لیکر اب تک ان کے پاس کوئی عوامی نمائندہ، منتخب رکن پارلمینٹ اور سرکاری اہلکار نہیں آیا۔ کئی دوکاندار عوامی نمائندوں کو برا بھلا کہتے رہے۔ پورا علاقہ بڑا سوگوار دکھائی دیا۔ |
اسی بارے میں پشاور، ایک خطرناک شہر کی کہانی25 November, 2008 | صفحۂ اول پشاور، امام بارگاہ دھماکہ سات زخمی24 November, 2008 | پاکستان عسکریت پسندوں کا حملہ، چار ہلاک26 November, 2008 | پاکستان سرحد، سفارتکاروں کا اغوا، بازیابی نہیں13 November, 2008 | پاکستان پشاور اور اطرف، لاقانونیت کی لہر13 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||