BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 January, 2009, 11:59 GMT 16:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ملک بھرمیں ہزاروں غیرفعال سکول

فائل فوٹو
بہت سے غیر فعال سکولوں میں جانور باندھے جاتے ہیں

وفاقی وزیر تعلیم میر ہزار خان بِجارانی نے جمعہ کو پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ کو بتایا ہے کہ پاکستان میں غیر فعال (بھوت) سکولوں کی تعداد بتدریج کم ہورہی ہے لیکن اب بھی ملک بھر میں نو ہزار ایسے سکول ہیں جہاں تعلیم و تدریس کا کام نہیں ہوتا۔

یہ بات انہوں نے سینیٹر طلحہ محمود کے سوال کے جواب میں بتائی اور کہا کہ مالی سال دو ہزار چار اور پانچ میں ملک بھر میں ستر ہزار کے قریب غیر فعال سکول تھے۔ تاہم انہوں نے (بھوت) سکولوں کے اساتذہ کی تعداد نہیں بتائی۔

وزیر نے بتایا کہ سب سے زیادہ غیر فعال سکول صوبہ سندھ میں ہیں جن کی تعداد ساڑھے سات ہزار سے بھی زیادہ ہے۔ پنجاب میں اس طرح کے سکول آٹھ سو ہیں جبکہ صوبہ سرحد میں پانچ سو کے قریب غیر فعال سکول اب بھی موجود ہیں۔

غیر فعال سکول
فائل فوٹو
سب سے زیادہ غیر فعال سکول صوبہ سندھ میں ہیں جن کی تعداد ساڑھے سات ہزار سے بھی زیادہ ہے۔ پنجاب میں اس طرح کے سکول آٹھ سو ہیں جبکہ صوبہ سرحد میں پانچ سو کے قریب غیر فعال سکول اب بھی موجود ہیں
وفاقی وزیرِ تعلیم میر ہزار بجرانی

واضح رہے کہ چند برس قبل بعض غیر سرکاری تنظیموں نے غیر فعال سکولوں کے بارے میں اپنے سروے میں کہا تھا کہ یہ سکول بعض جاگیرداروں نے اپنی ذاتی بیٹھک میں تبدیل کرلیے ہیں تو کچھ نے اناج اور گھاس کے گداموں میں تبدیل کردیے ہیں۔ ان کے مطابق سندھ کی بعض سکولوں میں جانور بھی بندھے رہتے ہیں۔

غیر سرکاری تنظیموں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس طرح کے جعلی یا بھوت سکولوں کے نام پر اساتذہ، نائب قاصد اور چوکیدار بھی تعینات ہیں اور ان میں سے کئی ایسے لوگ تنخواہ لیتے ہیں جو وڈیروں کے ذاتی ملازم ہیں۔

وزیر تعلیم نے ایک اور سوال کے جواب میں ایوان کو بتایا کہ وزارت مذہبی امور کے پاس ملک بھر کے پندرہ ہزار دینی مدارس رجسٹرڈ ہیں اور غیر اندراج شدہ مدارس کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مالی سال دو ہزار دو اور تین میں مدارس میں اصلاحات کا پروگرام شروع کیا گیا اور دینی تعلیم کے ساتھ سائنسی مضامین بھی پڑھانا شروع کیا۔ لیکن ان کے بقول جون دو ہزار آٹھ میں یہ سلسلہ ختم ہوگیا اور دو سو اٹھاسی مدارس کے بارہ سو تریپن اساتذہ کو جون دو ہزار نو تک تنخواہیں دی جائیں گی۔

سینٹر طاہرہ لطیف کے سوال کے جواب میں سید خورشید احمد شاہ نے سینیٹ کو بتایا کہ سال دو ہزار سات اور آٹھ کے دوران دو لاکھ ساٹھ ہزار ہنر مند افراد جبکہ تین لاکھ اٹھارہ ہزار سے زیادہ غیر ہنر مند افراد کو حکومت نے بیرون ملک بھیجا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد