بٹگرام: صرف پچیس سکولوں کی تعمیر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکام کے دعوے اپنی جگہ لیکن آٹھ اکتوبر سنہ دو ہزار پانچ کے زلزلے کے نتیجے میں ضلع بٹگرام کے جو سات سو پچاس سکول تباہ ہوئے تھے تین سال گزرنے کے بعد ایرا اُن میں سے پچیس سکول ہی تعمیر کر سکی ہے۔ یہی حال ضلع بھر کے تباہ شدہ ہسپتالوں، سرکاری دفاتر اور سڑکوں کا ہے۔ آٹھ اکتوبر سنہ دو ہزار پانچ کے زلزلے کے بعد بحالی اور تعمیر نو کےادارے کو اسی لیے قائم کیا گیا تھا کہ یہ خود مختار ادارہ تیزی کے ساتھ بحالی اور تعمیر نو کے کام مکمل کر لے گا۔ اور متاثرہ علاقوں میں زندگی ایک بار پھر سے رواں دواں ہوجائے گی۔ لیکن آج تین سال گزرنے کے بعد بھی بٹگرام شہر سے لیکر آلائی تک اور آلائی سے لیکر شاملائی تک تباہی کے مناظر میں کچھ زیادہ فرق نہیں آیا ہے۔ ضلعی ہیڈ کوارٹرز بٹگرام میں قائم ایرا ڈسٹرکٹ ریسورس سنٹر کے باہر متاثرین زلزلہ قطاروں میں کھڑے مکانات کی تعمیر نو کیلیے ایک لاکھ پچھہتر ہزار روپے کی رقم کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن ڈسٹرکٹ ریسورس سینٹر کے اہلکار انہیں ’نو ریکارڈ ، یا ان کے سروے فارم میں کسی غلطی کا کہہ کر اگلی تاریخ پر تصحیح کا کہہ کر تسلی کرا دیتے ہیں۔ ایرا ریسورس سینٹر کے باہر قطار میں کھڑے ایک متاثرہ شخص عبد القدوس کے بقول کہ وہ فوجی کیمپ ، ایرا اور بٹواری کے دفتروں کے چکر کاٹنے کے بعد حکام سے شکایت کرنے کیلئے پشاور تک گیا لیکن اسے ابھی تک معاوضے کی رقم ادا نہیں کی گئی ہے۔ عبد القدوس کا کہنا ہے کہ ایرا والے کبھی کوئی بہانہ کرتے ہیں تو کبھی کوئی۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر اسے معاوضے کی رقم مل جاتی تو وہ اپنے مکان کی تعمیر مکمل کر لیتا جو اس نے معاوضے کے پچاس ہزار کی پہلی قسط لیکر اور کچھ پیسے اپنے رشتہ دار سے قرض لیکر شروع کی ہے لیکن مہنگائی کے اس دور میں وہ اب اپنے مکان کو معاوضے کی رقم ملے بغیر مکمل نہیں کر سکتا۔
اگرچہ حکومت نے ضلع بٹگرام میں قائم خیمہ بستیوں کو ختم کر لیا ہے لیکن سرکاری خیمہ بستیوں سے نکل کر اکثر متاثرین نے اپنے اپنے علاقوں میں اپنی مدد آپ کے تحت خیمہ بستیاں قائم کی ہیں اسی قسم کی ایک خیمہ بستی بٹگرام کے کوزہ بانڈہ گاؤں میں قائم کی گئی ہے۔ جہاں چالیس کے قریب خیمے لگے ہوئے ہیں اس خیمہ بستی کے ایک مکین انور اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ خیمہ بستی کے رہائشیوں میں سے کسی کو بھی معاوضے کی رقم نہیں ملی ہے حالانکہ یہ سب معاوضے کی رقم کے حقدار ہیں اور جب انہیں ریلیف کمشنر اور دیگر حکام کی طرف سے تسلی ملنے کے بعد رقم نہیں ملی تو انہوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکٹایا اور عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ بھی دے دیا ہے لیکن پھر بھی انہیں معاوضے کی رقم نہیں دی جا رہی ہے۔ انور اللہ نے بتایا کہ کوئی ایک رات بھی ان خیموں میں گزار ے تو اسے اندازہ ہو جائے گا کہ اس حالت میں زندگی گزارنا کتنا مشکل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ سردی سے بچنے کیلیے وہ خیموں پر سوکھا گھاس ڈال لیتے ہیں لیکن سردی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ گھاس ڈالنے سے بھی نہیں رکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ حیران ہیں کہ حکومت متاثرین زلزلہ کے نام بیرون دنیا سے اکھٹی کی گئی رقم کہاں لے گئی؟ انہیں عدالت سے فیصلے کےباوجود بھی معاوضے کی رقم نہیں دی جا رہی ہے۔ اور دوسری جانب حکومت بڑے بڑے دعوے کر رہی ہے۔ بحالی اور تعمیر نو کے حوالے سے اگرچہ حکام کی طرف سے دعوے بھی ہو رہے ہیں لیکن ضلع بٹگرام میں متعلقہ حکام یہ تصدیق کر رہے ہیں کہ تین سال گزرنے کے بعد بھی متاثرین زلزلہ کی اکثریت کو امدادی رقوم کی تمام اقساط ابھی تک نہیں ملیں۔
تعمیر نو یونٹ ضلع بٹگرام کے سربراہ محمد جاوید نے بی بی سی کو بتایا کہ متاثرین کو امدادی رقوم نہ ملنے کی وجہ ان لوگوں کی کم علمی اور تعلیم نہ ہونا ہے ۔ ان کے بقول متاثرین نے سروے کے دوران فارم غلط طریقے سے پر کئے۔ بعض کے پاس شناختی کارڈ نہیں تھے ، تو بعض نے کوئی اور غلطی کی اسی لیے انہیں ابھی تک معاوضے کی رقم نہیں ملی۔تعمیر نو یونٹ کے اس سربراہ نے یہ بھی بتایا کہ ابھی تک وہ منصوبہ بندی کر رہے تھے اس لیے ابھی تک کام کی رفتار ذرا سست رہی لیکن اب وہ بڑی تیزی سے یہ کام پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔ ضلع بٹگرام میں تقریباًسات سو پچاس سکول تباہ ہوئے تھے جن میں سے تعمیر نو کے سربراہ کے مطابق پچیس تکمیل کے مرحلے تک پہنچ چکے ہیں جبکہ باقی پر کام شروع ہے۔ محکمہ تعلیم ضلع بٹگرام کے سربراہ محمد سعید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایرا ابھی تک صرف دو سکول تعمیر کر سکی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ضلع بھر کے تعلیمی اداروں کے طلباء اور طالبات عمارت نہ ہونے کی وجہ سے سخت مشکلات سے دوچار ہیں اور ایرا کے تعمیرات کے کاموں کی رفتار بہت سست ہے۔ ضلع بٹگرام کی سڑکیں جو زلزے میں تباہ ہوئیں ابھی تک ان میں سے سات سڑکوں پر کام ہوا ہے اور وہ بھی مکمل نہیں ہوا۔ یہی صورتحال ہسپتالوں اور سرکاری دفاتر کی ہے۔ ضلعی ہیڈکوارٹر میں گرے ہوئے دفاتر کا ملبہ ابھی تک پڑا ہوا ہے اور ان دفاتر کو خیموں یا فیبر یکٹڈ شلٹرز میں قائم کیا گیا ہے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سے لیکر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اور دوسرے سرکاری افسران تک سب انہی عارضی شیلٹرز میں دفاتر قائم کیے ہوئے ہیں۔ ضلعی ہیڈکوارٹر کے درمیان کھڑے ہو کر دیکھا جائے تو یوں لگتا ہے جیسےکہ زلزلے کے کچھ دن ہی ہوئے ہیں۔ آج زلزلے کی تیسری سالگرہ ہے اگرچہ حکام کی جانب ایک مرتبہ پھر وعدے اور دعوے کئے جا رہے ہیں لیکن بٹگرام کے برفیلے اور ٹھنڈے پہاڑوں کے درمیان متاثرین زلزلہ کو آنے والی سردی سے بچنے کی فکر لگی ہوئی ہے۔ اور یہ متاثرین سوچ رہے ہیں کہ خیموں سے نکل کر وہ کہاں چلے جائیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||