BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 January, 2009, 16:57 GMT 21:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بندوبستی علاقوں میں تعیناتیاں

 بیت اللہ محسود
تحریک طالبان نے بندوبستی علاقوں میں تعیناتیاں شروع کر دی ہیں
پاکستان میں شدت پسندوں کی کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے قبائلی علاقوں کے بعد اب بندوبستی علاقوں میں بھی اپنے رہنماؤں کی تقرری کا عمل شروع کر دیا ہے۔

کالعدم تنظیم کے سربراہ بیت اللہ محسود کے نائب اور اورکزئی اور خیبر قبائلی ایجنسیوں میں تنظیم کے امیر ذوالفقار محسود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مردان کے لیے حبیب الرحمان نامی شخص کو ضلعی امیر مقرر کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ ملا کامران ضلعی ترجمان کے فرائض انجام دیں گے۔

ذوالفقار محسود کا کہنا تھا کہ اسی طرح صوبے کے سب سے اہم ضلع اور دارالحکومت پشاور کے لیے بھی انہوں نےگزشتہ دنوں عبداللہ نامی ایک شخص کوامیر مقرر کیا تھا تاہم اس کا اعلان نہیں کیا جاسکا تھا۔

یاد رہے کہ شدت پسند میڈیا میں اکثر اصل نام ظاہر نہیں کرتے ہیں۔ شدت پسندوں کے مطابق اس تقرری کا فیصلہ ان کی اورکزئی ایجنسی میں شوریٰ کے ایک اجلاس میں کیاگیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مردان میں نئے امیر کی تعیناتی کا اقدام ان کے اہم کمانڈر کامران کی پولیس سے ایک جھڑپ میں ہلاکت کے بعد اٹھایاگیا ہے۔

مبصرین کے خیال میں صوبہ سرحد کے آبادی کے اعتبار سے پہلے دو بڑے اضلاع پشاور اور مردان میں تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے باقاعدہ کمانڈر کی تقرری سے ان کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا اظہار ہوتا ہے۔

ویسے تو شدت پسند صوبہ سرحد کے شمال میں وادی سوات سے لے کر انتہائی جنوب میں ڈیرہ اسماعیل خان جیسے قبائلی علاقوں سے جڑے اکثر اضلاع میں سرگرم ہیں لیکن بندوبستی علاقے میں تقرری کا یہ تحریک طالبان کا پہلا اعلان ہے۔

پشاور کی طرح ضلع مردان میں بھی شدت پسندوں کی پرتشدد کارروائیاں دو ہزار چار سے جاری ہیں۔ ایک افغان کیمپ میں محفل موسیقی کے دوران بم دھماکہ، فوجی کیمپ پر خودکش حملہ اور لڑکیوں کے سکولوں کو تباہ کرنے جیسے بڑے واقعات رونما ہوچکے ہیں۔

القاعدہ سے تعلقات کے شبہہ میں اللبی نامی ایک شخص بھی چند برس قبل مردان سے گرفتار ہوا تھا۔

مردان صوبہ سرحد کی وزیراعلی امیر حیدر خان ہوتی کا آبائی شہر ہے۔ ان کے مکان کو بھی بظاہر ماضی میں راکٹوں سے نشانہ بنایاگیا ہے۔ تاہم یہ راکٹ کھلے میدان میں گرنے سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔

پیپلز پارٹی کی مرکز اور صوبہ سرحد میں حکمراں عوامی نیشنل پارٹی قبائلی علاقوں کے بعد اب صوبہ سرحد میں شدت پسندوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں سے پریشان مگر بےبس دکھائی دے رہی ہے۔

صوبائی کابینہ نے گزشتہ دنوں ایک اجلاس میں ضلع سوات میں فوجی کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ کالعدم تحریک طالبان کا تازہ اعلان ان کی پریشانی میں مزید اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

باجوڑ میں جرگہ افراد رہا
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں مقامی طالبان کی طرف سے تین دن قبل یرغمال بنائے جانے والے قبائلی جرگہ کے تیرہ ارکان کو مشروط طور پر آزاد کردیا گیا ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو بتایا کہ مندل قبیلے سے تعلق رکھنے والے تیرہ مشران اور قبائلی عمائدین کو اس شرط پر آزاد کردیا گیا کہ وہ نہ تو عسکریت پسندوں کے خلاف لشکر تشکیل دینگے اور نہ ہی ان کےخلاف بات کرینگے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جرگہ ارکان نے عسکریت پسندوں کو علاقے سے نکل جانے کی دھمکیاں دی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام مشران کو ایک اور جرگہ کے حوالے کرکے آزاد کردیا گیا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مندل کے علاقے سے گزشتہ چند ہفتوں سے صدر مقام خار اور ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر راکٹ حملے ہوتے رہے جس کے ردعمل میں سکیورٹی فورسز نے مندل پر کئی بار بمباری کی اور متعدد افراد کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ مندل کے مشران طالبان کو سرکاری عمارت پر حملے نہ کرنے کی درخواست کرنےگئے تھے کہ سب کو وہاں یرغمال بنالیا گیا۔ تاہم طالبان نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے۔

واضح رہے کہ جرگہ ارکان کو تین دن پہلے مہمند ایجنسی کے علاقے انبار میں حراست میں لیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
ہنگو: دس سکیورٹی اہلکار رہا
06 November, 2008 | پاکستان
جرگوں پر حملوں میں اضافہ
06 November, 2008 | پاکستان
ہنگوجھڑپ: ایک ہلاک ایک زخمی
15 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد