عہدے کی معیاد ختم،گورنرمستعفی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سٹیٹ بینک آف پاکستان کی گورنر ڈاکٹر شمشاد اختر نے اپنا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔ سٹیٹ بینک کے ترجمان کے مطابق ڈاکٹر شمشاد اختر نے اپنے اس فیصلے سے تین دن پہلے حکومت کو آگاہ کر دیا تھا۔ ترجمان کے مطابق گورنر سٹیٹ بینک کے عہدے کی تین سالہ معیاد یکم جنوری سنہ 2009 کو ختم ہورہی ہے اور وہ پہلے بھی کئی بار اپنے اس مؤقف کا اظہار کر چکی ہیں کہ وہ اپنی مدت ملازمت میں توسیع حاصل کرنے کی خواہشمند نہیں ہیں۔ تاہم ملک کی غیر معمولی معاشی صورتحال اور آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات کی وجہ سے انہیں اس فیصلے کے اعلان کے لیے انتظار کرنا پڑا۔ ترجمان کے مطابق ڈاکٹر شمشاد اختر نے جمعہ چھبیس دسمبر کو بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ایک اجلاس میں ملکی معیشت پر بینک کی سہ ماہی رپورٹ کے علاوہ اپنی مدت ملازمت کے دوران بینک کی کارکردگی کی تفصیلی رپورٹ بھی پیش کی۔ ڈاکٹر شمشاد اختر سٹیٹ بینک آف پاکستان کی پہلی خاتون گورنر تھیں۔ انہوں نے دو جنوری دو ہزار چھ کو اپنے عہدے کا چارج سنبھالا تھا۔ سٹیٹ بینک کی گورنر بننے سے پہلے وہ ایشیائی ترقیاتی بینک سے وابستہ تھیں۔ انہوں نے بارہ نومبر کو شرح سود میں دو فیصد اضافہ کر کے اسے تیرہ سے پندرہ فیصد کردیا تھا جس پر بینکوں سے قرضہ لینے اور دینے والوں دونوں نے یکساں طور پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔ ڈاکٹر شمشاد اختر نے اخباری کانفرنس میں شرح سود میں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے اسے اپنی زندگی کا سب سے مشکل فیصلہ قرار دیا تھا تاہم ان کا کہنا تھا کہ تیزی سے بڑھتے ہوئے افراط زر پر قابو پانے کے لیے یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔ معاشی ماہرین کے مطابق شرح سود میں اضافہ آئی ایم ایف بعض پیشگی شرائط میں سے ایک تھی جو اس نے پاکستان کے زرمبادلہ کے تیزی سے سکڑتے ذخائر کو بہتر بنانے کی غرض سے قرضہ دینے کے لیے کی تھیں۔ وفاقی حکومت نے اب تک نئے گورنر کی تقرری کا نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا ہے تاہم اطلاعات ہیں کہ حکومت سٹیٹ بینک کے نئے گورنر کے طور پر سلیم رضا کے نام پر غور کررہی ہے۔ تاہم اسٹیٹ بینک کے ترجمان سید وسیم الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کی طرف سے اب تک نئے گورنر کی تقرری کا نوٹیفیکیشن موصول نہیں ہوا ہے۔ سلیم رضا 1970ء سے 2006ء تک سٹی بینک سے منسلک رہ چکے ہیں اور آج کل پاکستان بزنس کونسل کے سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ وزیراعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل کے رکن بھی ہیں۔ ماہرین کے مطابق شرح سود میں اضافہ افراط زر پر قابو پانے کے بہت سے مؤثر طریقوں میں سے ایک ہے اور نئے گورنر کے لئے بھی یہ ممکن نہیں ہوگا کہ وہ شرح سود میں کمی کرے بلکہ زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ نئے گورنر کو آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق آئندہ مہینوں میں شرح سود مزید بڑھانا ہوگی۔ | اسی بارے میں مہنگائی: اضافے کی شرح 7ء31 فیصد 06 December, 2008 | پاکستان شرحِ سُود میں دو فیصد اضافہ12 November, 2008 | پاکستان ’ملک کا بینکاری نظام محفوظ‘22 October, 2008 | پاکستان کیش ریزرو 6 فیصد کردی گئی17 October, 2008 | پاکستان شرح سود میں ایک فیصد اضافہ29 July, 2008 | پاکستان شرح سود میں ڈیڑھ فیصد اضافہ22 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||