BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 December, 2008, 15:03 GMT 20:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بازار حصص میں مندی، بروکر معطل

بازار حصص(فائل فوٹو)
عالمی سطح پر بازار حصص مشکلات کا شکار ہیں
پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں گزشتہ آٹھ روز کے دوران مجموعی طور پر ساڑھے ستائیس فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ چالیس سے زائد بروکروں کو ادائیگی نہ کرنے پر معطل کر دیا گیا ہے اور سرمائے کی عدم دستیابی کی وجہ سے کئی بروکروں کے دیوالیہ ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔

کراچی سٹاک ایکسیچنج میں منگل کو حصص کے سودوں میں مزید تین عشاریہ آٹھ فیصد کمی دیکھی گئی۔ ہنڈریڈ انڈیکس دو سو پینسٹھ پوائنٹس کی کمی کے ساتھ چھ ہزار چھ سو ساٹھ پوائنٹس پر بند ہوا۔

سٹاک مارکیٹ کو ساڑھے تین ماہ کے کاروباری انجماد کے بعد پندرہ دسمبر کو کھولا گیا اور ابھی تک بازار میں شدید مندی غالب رہی ہے اور اس میں مجموعی طور پر ستائیس فیصد گراوٹ آچکی ہے۔

کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس جو نو ہزار ایک سو ستاسی پوائنٹس کی سطح پر تھا وہ اس وقت چھ ہزار چھ سو ساٹھ پوائنٹس پر آگیا ہے۔

حکام کہاں ہیں؟
 پوری دنیا میں سرمائے کی مندی ہے حکومتیں بازار حصص کو بچانے کے لیے منصوبے بنا رہی ہیں، مشیر خزانہ شوکت ترین نے وعدہ کیا تھا کہ حکومت مدد کرے گی مگر اب وہ ٹیلیفون پر بھی دستیاب نہیں ہیں۔آئی ایم ایف نے بھی کہا تھا کہ وہ مدد کریں گے مگر وہ نہیں بتا رہے کہ کب مدد کریں گے۔مارکیٹ دیوالیہ کے قریب پہنچ چکی ہے آہستہ آہستہ تمام بروکر دیوالیہ پن کی طرف جارہے ہیں۔
احسن محنتی
تجزیہ نگار محمد سہیل کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں حصص کے خریدار بہت کم اور فروخت کرنے والے زیادہ ہے۔ انہیں دو چیزوں کا خوف ہے ایک غیر ملکی سرمایہ کار سرمایہ نکال رہے ہیں اور دوسرا یہ اطلاعات ہیں کہ بروکروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔

سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کو سہارا دینے کے لیے حکومت نے بیس ارب روپے فنڈ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی جو ابھی تک قابل عمل نہ ہوسکی ہے۔

تجزیہ نگار احسن محنتی کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں سرمائے کی مندی ہے حکومتیں بازار حصص کو بچانے کے لیے منصوبے بنا رہی ہیں، مشیر خزانہ شوکت ترین نے وعدہ کیا تھا کہ حکومت مدد کرے گی مگر اب وہ ٹیلیفون پر بھی دستیاب نہیں ہیں۔

ان کے مطابق آئی ایم ایف نے بھی کہا تھا کہ وہ مدد کریں گے مگر وہ نہیں بتا رہے کہ کب مدد کریں گے۔ ’مارکیٹ دیوالیہ کے قریب پہنچ چکی ہے آہستہ آہستہ تمام بروکر دیوالیہ پن کی طرف جارہے ہیں۔‘

دوسری جانب کاروباری سودوں کی ادائیگیوں کے لیئے کام کرنے والے ادارے نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان لمیٹیڈ نے ادائیگی نہ کرنے پر چالیس سے زائد بروکروں کو معطل کردیا ہے اور اب وہ حصص کا کاروبار نہیں کرسکیں گے۔

قوائد و ضوابط کے مطابق اگر مطلوبہ رقم ادا نہیں کی گئی تو نادہندہ بروکروں کو ایک اور نوٹس دیا جائے گا جِس کے بعد اُن کے خلاف دیوالیہ قرار دیے جانے کی کارروائی شروع ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ کراچی سٹاک مارکیٹ میں ساٹھ فیصد کاروبار حکومتی اداروں کا ہے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت مدد نہ کر کے خود قومی خزانے کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

اسی بارے میں
حصص بازار میں مندی کا رجحان
21 December, 2008 | پاکستان
کے ایس ای: حکم امتناعی جاری
13 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد