BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کے ایس ای لاک، عالمی مندی زائل

کے ایس ای
جب تک یہ لاک لگے رہیں گے اس وقت تک مارکیٹ پر عالمی حالات کا نہ ہی مثبت اور نہ ہی منفی اثر پڑے گا
امریکہ میں مالی اداروں کو بچانے کے لیے کانگریس کی جانب سے ریسکیو پیکج کے مسترد ہوجانے کے بعد دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی کا رجحان رہا لیکن اس کے اثر سے پاکستان کا سب سے بڑا بازارِ حصص کراچی اسٹاک ایکسچینج محفوظ رہا کیونکہ وہاں گذشتہ چند ماہ سے مسلسل مندی کے بعد اپر اور لوئر لاک لگا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے کاروبار ایک مخصوص سطح پر ہی منجمد ہوگیا ہے۔

ماہرین کے مطابق جب تک یہ لاک لگے رہیں گے اس وقت تک مارکیٹ پر عالمی حالات کا نہ ہی مثبت اور نہ ہی منفی اثر پڑے گا۔

کراچی اسٹاک مارکیٹ اس سال فروری میں اپنے عروج پر تھی یعنی پندرہ ہزار سے زیادہ پوائنٹ پر کاروبار کر رہی تھی لیکن پھر دیکھتے ہی دیکھتے مارکیٹ گرتی چلی گئی اور یہاں تک کہ جولائی میں چھوٹے سرمایہ کار اپنے سرمائے کو ڈوبتا دیکھ کر بلبلا اٹھے اور پرتشدد احتجاج پر اتر آئے جس کے بعد اگست کے آخر میں بازارِ حصص میں مندی پر قابو پانے کے لیے یہاں لوئر اور اپر لاک لگا دیا گیا۔

مارکیٹ کے تجزیہ کار اظہر باٹلہ کا کہنا ہے کہ لاک لگنے کی وجہ سے کراچی اسٹاک مارکیٹ، عالمی اتار چڑھاؤ کا اثر نہیں لے رہی۔ انہوں نے کہا کہ پرتشدد احتجاج کے بعد کچھ اس قسم کے اقدامات کیے گئے تھے کہ کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس 9,144 پوائنٹس کی سطح سے نیچے نہیں آسکتا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا میں کوئی بھی خبر گردش کرے اس کا اثر کراچی اسٹاک مارکیٹ پر نہیں پڑے گا کیونکہ یہ نو ہزار ایک سو چوالیس کی سطح پر منجمد ہے۔

معاشی ماہر ظفر موتی کے خیال میں بیرونِ ملک سرمایہ کار مارکیٹ سے اپنا سرمایہ نکالنا چاہتے ہیں اور اسی وجہ سے جیسے ہی لاک ہٹائے جائیں گے مارکیٹ منفی رجحان کی جانب چلی جائے گی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب سے لاک لگائے گئے ہیں اس کے بعد بھی معیشت میں مزید بگاڑ ہوا ہے۔

ظفر موتی کا کہنا ہےکہ بیرونِ ملک سرمایہ کاروں کی جانب سے شیئرز کی فروخت کے دباؤ سے نمٹنے کے لیے کراچی اسٹاک ایکسچینج کے ممبران نے حکومت کو پیشکش کی ہے کہ وہ بیس ارب روپے کا ریسکیو پیکج متعارف کرائے تاکہ اسٹاک مارکیٹ کو نو اور دس ہزار پوائنٹس کے درمیان برقرار رکھا جاسکے اور اگر یہ پیکج حکومت نہیں دیتی ہے تو پھر کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ مارکیٹ کس سطح تک گرے گی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ لاک ہٹائے جانے کے بعد جہاں ایک جانب بیرونِ ملک سرمایہ کار اپنا سرمایہ نکالیں گے وہیں بینکنگ اور آئل سیکٹر میں بھی شئیرز کی ممکنہ فروخت کا دباؤ مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے۔

اسی بارے میں
مندی کا رجحان بدستور جاری
27 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد